سنّاٹا ۔۔۔ ابرار مُجیب

یہ روز کا معمول تھا۔ صبح جب وہ گھر سے نکلتا تو کمرے کی کھڑکی بند ہوتی اور بستر پر ناہموار سانسوں کا زیر و بم۔ وہ ربر سول کے جوتے پہن کر باہر نکلتا ، قدموں کی چاپ ناہموار سانسوں کا حصہ معلوم ہوتی اور وہ ہوا کے جھونکے کی طرح باہر نکل اتا۔ Read more about سنّاٹا ۔۔۔ ابرار مُجیب[…]

کاغذ پہ دھری آنکھیں: فرح دیبا ورک۔ ۔ ۔ ابرار مجیب

کاغذ پہ دھری آنکھیں: فرح دیبا ورک۔ ۔ ۔ ابرار مجیب ادب کے موجودہ منظر نامے میں نثری نظم یا غیر عروضی شاعری کے جواز اور عدم جواز کی بحث ایسی ہی ہے جیسے کسی زمانے میں سارتر کی وجودیت کو کوئی ہاتھی کی سونڈ سمجھ رہا تھا اور کوئی اس کی دُم۔ شعری مطالعات Read more about کاغذ پہ دھری آنکھیں: فرح دیبا ورک۔ ۔ ۔ ابرار مجیب[…]