مفت ہوئے بدنام ۔۔۔ محمد احمد

پہلی بار جب یہ بات میڈیا پر نشر ہوئی تو میں بھی دہل کر رہ گیا کہ اب نہ جانے کیا ہو گا۔ مجھے تو یہ بھی خوف ہو گیا تھا کہ طفیل صاحب سارا معاملہ میرے ہی سر نہ تھوپ دیں۔ اُن سے بعید بھی نہیں تھی بعد میں شاید وہ مجھ سے اکیلے Read more about مفت ہوئے بدنام ۔۔۔ محمد احمد[…]

گرگٹ ۔۔۔ انتون چیخوف/ عبد الرزاق واحدی

پولیس انسپکٹر اوچومیلوف نیلا اوور کوٹ پہنے، ہاتھ میں ایک بنڈل تھامے بازار کے چوک سے گزر رہا ہے۔ سرخ بالوں والا کانسٹیبل ضبط کیے ہوئے کروندوں سے بالکل اوپر تک بھری ٹوکری اٹھائے اس کے پیچھے پیچھے چل رہا ہے۔ چاروں طرف سناٹا چھایا ہوا ہے۔ ..۔ چوک میں ایک متنفس بھی نہیں نظر Read more about گرگٹ ۔۔۔ انتون چیخوف/ عبد الرزاق واحدی[…]

اعتبار و عبرت ۔۔۔ فاطمہ اے۔ ایم خان

"امّی کس کا فون تھا؟” جیسے ہی زرینہ بیگم کچن میں داخل ہوئیں اُس نے سوال کیا۔ "کسی کا نہیں۔ ” وہ فریج کی طرف مڑ گئیں۔ شنایہ ماں کی پیٹھ تکنے لگی، وہ پندرہ منٹ بعد لاؤنج سے لوٹی تھیں اور کہ رہی تھیں کہ کسی کی کال نہیں تھی۔ "یہ لو، آج افطار Read more about اعتبار و عبرت ۔۔۔ فاطمہ اے۔ ایم خان[…]

سید زادی ۔۔۔ اعجاز گل

اک خاتون ہمیشہ کالی شال لپیٹے گھر آتی تھی اس کو دیکھ کے ماں گھبراتی اٹھ کر دوڑتی گر گر جاتی دھوم مچاتی سیّد زادی آئی ہے اس کو اپنی کرسی دیتی نیچے بیٹھتی سر اس کے زانو پر رکھتی اشک لٹاتی سسکیاں بھر بھر کہتی جاتی میں تیری مقروض ہوں مجھ پر قرض ادا Read more about سید زادی ۔۔۔ اعجاز گل[…]

غزلیں ۔۔۔ اعجاز گُل

(فیس بک میں آخری پوسٹ کی ہوئی غزل)   پڑے ہوئے ہیں کام سب عجیب امتحان میں کوئی رکا ہے ابتدا میں کوئی درمیان میں   جو اڑ رہے ہیں شرق کو تو جا رہے ہیں غرب کو ہوا بدل رہی ہے طائروں کے رُخ اڑان میں   برستے مینہ میں دھوپ نے کسی شگافِ Read more about غزلیں ۔۔۔ اعجاز گُل[…]

یہ افسانہ نہیں ۔۔۔ پیغام آفاقی

بہکانے کا پیشہ کرنے والے مکروہ چہرے اور مکار آنکھوں والے نے اس سے خواب میں آ کر کہا تھا : تم ان لوگوں کی ذہنیت کو نہیں جانتے۔ یہ اس کو تمام دیوتاؤں سے بلند تر رتبہ دیتے ہیں اور اس کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔ یہ عورتوں کو Read more about یہ افسانہ نہیں ۔۔۔ پیغام آفاقی[…]

پیغام آفاقی! ۔۔۔ محمد علم اللہ

حسرت رہی کہ’ تم ‘سے دوبارہ نہ مل سکا   اب کوئی شام نہیں آئے گی ان آنکھوں میں تیری کرنوں نے جلا ڈالی ہیں پلکیں میری پیغام آفاقی   پاکستان سے نوجوان ادیب باسط آزر کا میسیج آیا ’’ایک دوست سے علم ہوا کہ آپ سے پیغام آفاقی صاحب کے بارے میں معلومات مل Read more about پیغام آفاقی! ۔۔۔ محمد علم اللہ[…]

نظمیں ۔۔۔ عارفہ شہزاد

____________________________________________________________________ آنکھ کہاں تک جا سکتی ہے ____________________________________________________________________     ہرے ،بنفشی،نیلے،اودے سب رنگوں کو چھو سکتے ہیں داغ سدا سے ہے آنکھوں پر آنکھ کی پتلی کھرچیں کیسے تیز شعاعیں مثبت منفی ہر اک جسم سے پھوٹ رہی ہیں روشنیاں بھی بھر سکتی ہیں کر سکتی ہیں وار کٹیلا پرکھ رہے ہیں گنگ زبانیں Read more about نظمیں ۔۔۔ عارفہ شہزاد[…]

کوآپریٹیوسوسائٹی۔۔۔ پیغام آفاقی

وہ کھرا آدمی بالکل مایوس کھڑا تھا۔ چوکیدار ہاتھ میں تالا لیے ادب سے اس کے ہال سے نکلنے کا انتظار کر رہا تھا۔ بظاہر یہ بات انتہائی غیر منطقی تھی۔ اس کے ذہن میں معاملے کا یہ انتہائی رخ اس سے پہلے کبھی نہیں ابھرا تھا۔ وہ اس سوسائٹی کا جس کی میٹنگ ابھی Read more about کوآپریٹیوسوسائٹی۔۔۔ پیغام آفاقی[…]