یہاں بیٹھیں، رُکیں دم بھر ۔۔۔ ستیہ پال آنند

یہاں بیٹھیں،

رُکیں دم بھر،

ٹھہر کر سانس لیں

سستائیں دو گھڑیاں

کہ یہ لمحہ ، ہمارے ماضیِ مطلق سے حالِ پا گریزاں تک

دبے پاؤں چلا آیا ہے اپنے ساتھ چپکے سے

 

یہاں بیٹھیں، ٹھہر کر سانس لیں، سستائیں دو گھڑیاں

کہ اس سے پیشتر یہ لمحۂ موجود

مستقبل کی جانب اک قدم آگے بڑھے، تحلیل ہو جائے

کہیں لا وقت کے ازلی تواتر میں

یہاں بیٹھیں، رُکیں دم بھر۔ٹھہر کر سانس لیں، سستائیں دو گھڑیاں

 

بہت پہلے ہتھیلی پر لیے اُجلی لکیریں ہم چلے تھے

زائچوں کے راہِ صد سُو پر

مقدّر کی تلاش و جستجو کیسا ہیولیٰ تھی

کہ جس میں ہم نے پائی تھی ہزیمت، پا شکستہ نا رسائی ہی

سُنی تھیں، ہجرتوں کے اُڑتے تنکوں سی بکھرتی

لمحہ لمحہ دور ہوتی۔۔۔چاہنے والوں کی آوازیں

ٹھہرنا رات بھر کا، صبح دم پھر کوچ کر جانا

لبوں پر خشک پپڑی کی تہیں، پیشانیوں پر دھول قدموں کی

پگھلتی بے حسی ۔۔۔ سیّال لوہے سی ٹپکتی، دکھ بھری آواز کانوں میں

رگ و پے میں لہو کے دوڑنے کی دھونکنی

فولاد سی وزنی تکانیں، پاؤں من من کے

مگر لحظہ بہ لحظہ

اک قدم کے بعد پھر اک اور

پھر اک اور ۔۔ چلنا عمر کی بھاری صلیبیوں کو اٹھائے

اپنی جیتی جاگتی قبروں کی سرحد تک

ہماری عمر، جو ہم سب

تصرف میں گنوا کر

اس جگہ پہنچے ہیں حال ِ پا گریزاں تک

بہت کم رہ گئی ہے ۔۔۔ اس لیے ، یارو

ہمارے ساتھ چلتا آ رہا یہ لمحۂ موجود کافی ہے ، غنیمت ہے

یہاں بیٹھیں، رکیں دم بھر

ٹھہر کر سانس لیں

سستائیں دو گھڑیاں

٭٭٭

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے