نئی نظم کے معمار:انوار فطرت۔ ۔ ۔ محرک: ظفر سید

فیس بک کے گروہ ’حاشیہ‘ کے تحت کئی نظموں پر آن لائن مباحثے منعقد کئے گئے تھے۔ ان میں سے ایک یہاں پیش ہے۔ جو بطور ای بک بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ باقی کے لئے احباب ان روابط پر کلک کر سکتے ہیں :

نئی نظم کے معمار۔ ضیا جالندھری۔ ۔ ۔ محرک: ظفر سید
نئی نظم کے معمار: ستیہ پال آنند۔ ۔ محرک: ظفر سید
نئی نظم کے معمار: علی محمد فرشی۔ ۔ محرک: ظفر سید
نئی نظم کے معمار، رفیق سندیلوی۔ ۔ محرک ظفر سید
نئی نظم کے معمار۔ اختر الایمان۔ ۔ محرک، ظفر سید
نئی نظم کے معمار۔ ساقی فاروقی۔ ۔ محرک: ظفر سید
نئی نظم کے معمار۔ ۔ ابرار احمد۔ ۔ محرک: ظفر سید

________________________________________________
سمندراااااااا
________________________________________________
انوار فطرت
________________________________________________

وہ کارواں
کبود رنگ کارواں بھٹک چکے ہیں
دوریوں کے پیچواں سراب میں
، گھنیری شب کے باغ سے
تجھے پکارتا ہوں میں

سات گنبدوں کے دائرے
مری صدا کے ہول سے
لرز رہے ہیں دم بہ دم
ریت بہ رہی ہے ہر طرف
بگولے چرخ کھا رہے ہیں
شش جہت
سمندراااااااا
جو دو قدم کا فاصلہ ہے تجھ تلک
وہ کٹ نہیں رہا
مرے سلگتے سانس سے ہے مرتعش
ترا یہ عکس
دائرہ بہ دائرہ
رواں ہے دوریوں کے
بے وجود ساحلوں کی سمت۔

سلگ رہی ہیں ہڈیاں
رگوں میں دھات کھولتی ہے
گوشت میں جہنموں کا
نیم روز ہے رکا ہوا
فضا میں چرچراتے ماس کی بساند ہے

سمندراااااااا
میں شہر ریت کر رہا ہوں
بستیوں میں راکھ اڑا رہا ہوں
دھرتیوں کو چیرتا ہوں ان کے بطن میں
یہ ریزگی سی کائنات کی
تڑخ رہی ہے میری ہر نگاہ سے

امڈ رہی ہے تیرگی
دہکتی تیرگی ازل کی میری سمت
(رات اپنی بود و ہست کے لیے
کسی سبب جواز کی
کنیز تو نہیں )

سمندراااااااا
مرے کبود رنگ کارواں

(سلویا پلاتھ کے لیے )

فیاض احمد وجیہہ: خواتین و حضرات۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حاشیہ کے اس اجلاس میں آپ کا تہہ دل سے استقبال ہے۔ یہ اجلاس ان معنوں میں اہم ہے کہ ایک مدت کے بعد ہم مکالمہ قائم کر رہے ہیں۔ انوار فطرت صاحب کی نظم پر بھر پور گفتگو کی امید ہے۔ یہ نظم طویل بھی نہیں ہے اس لیے ہم سب کو اس کے فنی و فکری احوال پر غور کرنے کی سہولت زیادہ میسر ہے۔ اس نظم پر باقاعدہ گفتگو کا آغاز تصنیف حیدر صاحب کریں گے۔ انہوں نے ابتدائیہ مکمل کر لیا ہے۔ لیکن ان کے کمپیوٹر میں خرابی آ گئی ہے۔ اس لیے آج شاید وہ ابتدائیہ پوسٹ نہ کر پائیں۔ لیکن انہوں نے مجھ سے فون پر بتایا ہے کہ وہ ابتدائیہ آج ہی پوسٹ کرنے کی کوشش کریں گے۔
ظفر سیّد: : جنابِ صدر، تصنیف صاحب نے ابتدائیہ ان پیج میں بھیجا تھا، میں اسے یونی کوڈ میں کنورٹ کر کے پوسٹ کر رہا ہوں :
سمندراااااااا
(ابتدائیہ)
صاحبِ صدر کی اجازت سے ابتدائیہ پوسٹ کر رہا ہوں۔
جدید زندگی زہراب صفت ہے۔ رات اعصاب پر طاری ہے اور خواب کسی تاجر کے تھیلے میں بند قریے قریے میں نیلامی کے لیے روانہ کر دیے گئے ہیں۔ ’انا‘ ہم سے چھین لی گئی ہے، خودی بیچ کر کھا لی گئی ہے۔ اضطراب شریانوں میں خون بن کر دوڑ رہا ہے مگر اظہار کے سارے وسائل مصلحت کی تجوریوں میں قید کر دیے گئے ہیں۔ اندر کی آواز اتنی زور دار ہے کہ جب وہ بیرون کا راستہ تلاش نہیں کر پاتی تو بدن میں موجود کسی پتھ کی تھیلی کی طرح اچانک پھٹ پڑتی ہے اور خارجی الفاظ کی ہیئتیں تبدیل ہو جاتی ہیں، باطنی کرب کے اظہار کا وسیلہ بھی لفظ ہے اور مدد کے لیے پکارنے والی آواز بھی لفظوں کے شیش محل سے سرمارنے پر مجبور ہے۔ کیا ’ سمندراااااا ‘ان دونوں جذبات کا استعاراتی اظہاریہ تو نہیں ہے ؟ کیا ہمارے اندرون کے خلفشار نے اس نظم کو کسی شاعر کی حسیت کے سر پر پتھر کی طرح نہیں دے مارا ہے ؟کیا ’سمندر‘ جیسا لفظ اپنی وسعت، اعماق، گیرائی، گہرائی اور زہرابی صفات کے باوجود اس کرب کے اظہار کو عام کرنے میں چھوٹا پڑگیا ہے ؟اچھی شاعری کو کسی خاص سیاق کے کٹہرے میں لا کھڑا کرنا بجائے خود اک جرم ہے، مگر کیا اس نظم کے سیاق کو سمجھے بغیر اس کی تشریح ممکن ہے ؟ اس کے عواقب پر نظریں ڈالنا آسان ہے ؟ اس کی تعمیر پر حرف زنی کرنا کھیل ہے ؟یہ ان نظموں میں سے ایک ہے جو اپنے عنوان سے ہی شاعری کا آغاز کر دیتی ہیں۔ آپ آزاد ہیں کہ میری ان تمام باتوں کے جواب میں کتنی ہی باتیں کیجیے مگر اس نظم پر کچھ بھی کہنے سے پہلے اپنے پیروں کی جانب ضرور دیکھیے۔ میں نظم کے سراپا کی تعریف کرنے نہیں بیٹھا ہوں، محض چند ایسے گوشوں پر روشنی ڈالوں گا جن پر آپ کو بڑھ چڑھ کر بولنے کی تحریک ملے۔ جہاں تک میں سمجھ پایا ہوں، یہ نظم زندگی کے گم ہو جانے کے المیے کا ایک مظہر ہے۔ یہ نظم نہیں بلکہ ایک استعارہ ہے، جو ہمارے ذہنی زوال اور دریائے نیل میں غرق ہونے والی آل فرعون کے درمیان مماثلت کو ظاہر کرتا ہے۔ نظم کی یہ تعریف ایک سطر بھی ہے اور سوال بھی۔ اس کی تعبیرات کی شاخیں چاہیں ہزاروں ہوں مگر بنیادی احساس یہی ہے کہ نظم میں موجود ’میں‘ نے کچھ کھویا ہے، کچھ ڈبویا ہے، کچھ گم کیا ہے۔ لیکن اس ادراک کی صورتیں مختلف ہیں یا یوں کہوں کہ یہ ادراک جن واسطوں سے ہوا ہے نظم میں ان کو بھی واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ آب اور آسمان دونوں ہی نیلگوں سالمات کی ترتیب سے وجود میں آئے ہیں، لیکن اس رنگ کی تطہیر کا جواز کیا ہے جو شاعر نے کارواں کو بھی ’کبود رنگ‘ قرار دیا ہے ؟اور یہ کبود رنگ، سیاہی میں ضم ہوتا چلا گیا ہے یا ہمیشہ سے ایک سیاہ حلقے میں ہی موجود ہے۔
امڈ رہی ہے تیرگی
دہکتی تیرگی ازل کی میری سمت
(یہ رات اپنی بود وہست کے لیے کسی سبب جواز کی کنیز تو نہیں )
باتیں بہت ہیں کیونکہ نظم کی پرتیں ایک بار میں نہ کھولی جا سکتی ہیں، نہ اپنے برآمد کیے گئے مطلب پر کوئی حتمی فیصلہ صادر کیا جا سکتا ہے۔ سیاہ رنگ سے آپ ’موت‘ کا بھی تصور قائم کرسکتے ہیں۔ وہ موت نہیں جو مرنے کے بعد ہو گی، بلکہ وہ موت بھی جو اقامت سے پہلے تھی، ظہور سے قبل تھی۔ اب یہ موت کسی بھی طرح کی ہوسکتی ہے۔ قرآن نے اسے ذائقے سے تعبیر کیا ہے۔ اب یہ معمہ بھی حل ہونا چاہتا ہے کہ آیا یہ موت نظم میں تقدس کے ساتھ اپنا وجود قائم کیے ہوئے ہے یا ایک بھیانک اور اندوہناک زوال کی صورت میں۔ تہذیبوں کی موت، قوموں کی موت، انسانوں کی موت یا نظریوں کی موت یہ سبھی کچھ اس میں شامل ہے۔ مگر یہاں یہ نکتہ فراموش نہیں ہونا چاہیے کہ ہر تہذیب کی موت اک نئی تہذیب کو قبول کر لینے کا کامل اظہار ہی تو ہے۔ تو کیا یہ نظم کسی پرانی تہذیب/قوم/انسان کے اندیشۂ غیاب اور نئی تہذیب کی مقبولیت کے درمیانی عرصے میں وجود میں آئی ہے۔ جو شاید قوموں کی زندگی کا سب سے کٹھن مرحلہ ہے۔ جیسا کہ علامہ اقبال نے کہا تھا۔
آئین نو سے ڈرنا، طرز کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
یاد رکھیے ! میں کوئی آخری بات نہیں کہہ رہا ہوں، بلکہ یہاں سے بات شروع کر رہا ہوں۔ اس نظم میں کوئی قصہ نہیں، کوئی کہانی نہیں، کوئی حکایت نہیں بلکہ بہت سے قصے ہیں، بہت سی کہانیاں ہیں جو المیے کی بوندوں سے تر ہیں۔ یہ نظم تاریخ کے ان تمام دو راہوں پر رکھی جا سکتی ہے جہاں سے ماضی کا انکار اور مستقبل کا استقبال ایک مشکل مرحلہ بن گیا ہو۔ جہاں آوازیں احتجاج میں تبدیل ہو گئی ہوں۔ یہ احتجاج، کیا محض اک عادت ہے ؟ کیا اس کی شدت میں کرب کے سمندر کا ٹھاٹھیں مارنا فطری ہے ؟ اگر ایسا ہے تو آپ قصہ ختم، پیسہ ہضم کہہ کر اپنا راستہ لیں گے ؟ مگر اس راستے میں کیا فہم کی دیوار نہیں کھڑی ہے ؟کیا فطری کرب کا اظہار نظر انداز کر دینے کے لائق ہے ؟ یا فطرت کو نظرانداز کر دینے والی تحریر ادب ہے بھی یا نہیں ؟آئیے ان سب سوالوں پر غور کریں۔ اس نظم کے حوالے سے امید کی جا سکتی ہے کہ اس کے آہنگ، اسلوب اور عروضی معاملات پر کافی بات کی جائے گی۔ میں جانتا ہوں کہ میں نے بہت سے گوشے تشنہ چھوڑ دیے ہیں۔ کیونکہ اس ریگستان پر اگر اظہار کے چشمے جاری کرنا ہوں تو فکر کی ایڑیاں تو رگڑنی ہی پڑیں گی۔
ظفر سیّد: : جنابِ صدر: میں نے اوپر دی گئی نظم کا متن "نقاط” کے "نظم نمبر” سے لیا تھا۔ لیکن بدقسمتی سے اس میں کچھ اغلاط تھیں، جو بعینہ نقل ہو گئیں۔ جناب علی محمد فرشی کی نشان دہی پر میں نظم کا درست متن پوسٹ کر رہا ہوں۔ اربابِ حاشیہ اور شاعر جناب انوار فطرت صاحب سے معذرت۔ ۔ ۔ اور ساتھ ہی دوستوں سے اپیل بھی کہ وہ نظم پر اپنے خیالات کا اظہار فرمائیں تاکہ بات آگے بڑھے۔ شکریہ۔
فیاض احمد وجیہہ: درست متن فراہم کرنے کے لیے جناب علی محمد فرشی اور جناب ظفر سید صاحبان کا شکریہ۔
علی محمد فرشی: صاحبِ صدر!
زیرِ نظر نظم ” سمندراااااااا”انوار فطرت کی کتاب "آب قدیم کے ساحلوں پر” میں شامل ہے۔ اور اس کتاب میں موجود نظموں کے اس قبیلے سے تعلق رکھتی ہے جس کی حیاتیاتی شناخت ما بعد الطبیعیاتی وجود کی مرہونِ منت ہے۔ یہ درست ہے کہ ہر نظم کو اپنی اکائی میں معنوی طور پر خود مکتفی ہونا چاہیے، جیسا کہ یہ نظم بھی، اپنی جگہ، اس خوبی سے متصف ہے، لیکن کسی شاعر کی ہم رشتہ نظموں کے مجموعی مطالعے سے جہاں شاعر کی کسی خاص جہت کا تعین آسان ہو جاتا ہے وہاں ہر تخلیقی اکائی کی معنیاتی جہات بھی واضح ہو جاتی ہیں۔ کسی نظم کی درست تعبیر کے لیے یہ اصول اس وقت اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے جب کسی شاعر کے بارے میں تنقید نے تغافل کا مظاہرہ ضرورت سے کچھ زیادہ ہی کیا ہو۔ انوار فطرت تخلیقی عمل کی تکمیل کے بعد اپنی نظم سے ہر معاملے میں لاتعلق بلکہ بے نیاز ہو جاتا ہے لہٰذا تنقید کے لیے عافیت ہی عافیت ہے۔
"آب قدیم کے ساحلوں پر” 2003 میں شائع ہوئی۔ اس کتاب کی اشاعت میں بھی غیر ضروری تاخیر کا باعث کوئی اور نہیں، حتیٰ کہ ’سمندرا‘ بھی نہیں، انوار خود ہی تھا۔ ایک خاص نوع کی رومانوی کاہلی جس کا وہ دائمی مریض ہے اس کا تو کچھ نہیں بگاڑ پائے گی البتہ ہمیں بہت سی اچھی نظموں سے ضرور محروم کر دے گی!
زیرِ بحث نظم کی سرحدیں سرورقی نظم سے ملحق ہیں اور سرورقی نظم کتاب کے مجموعی مزاج کا تعین کرتی ہے لہٰذا اس بارے میں بارے کچھ باتیں دھرانے کی اجازت چاہوں گا جو میں نے اس کتاب کے بارے میں بہت پہلے کہہ رکھی ہیں :۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اکیسویں صدی کی آنکھ کھلی تو آئی ٹی کلچر کا سیلاب انسان کو پاور کلچر کے اندھے دیو کے قدموں میں ڈھیر کر چکا تھا۔ سیاسی آزادی، معاشی تحفظ، سماجی سہارے اور روحانی آسودگی سے محروم اِسی گھائل انسان سے انوار فطرت نے "آب قدیم کے ساحلوں پر” کھڑے ہو کر شعری مکالمہ کیا ہے۔ جس میں خود کلامی سے خطاب اور سرگوشی سے خاموشی تک اظہار کی ہر سطح پر تخلیقی آزادی کے ساتھ روح عصر کا ابلاغ نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ محبت سے معیشت، تنہائی سے خدائی اور طبیعات سے مابعد الطبیعات تک سارے مناظر پر عصری شعور کا روغن اِسے اکیسویں صدی کی نمائندہ شاعری کے مقام تک پہنچانے کے لیے کافی ہے۔
یہ نظمیں منظر نامے کو تبدیل کرنے یا زخمی روح کا علاج تجویز کرنے پر زیادہ اِصرار نہیں کرتیں۔ مسائل کا حل تجویز کرنا شاعری کا منصب بھی نہیں ہے۔ اچھی شاعری کا معیار تو یہ ہے کہ اس میں مسئلے کے ادراک کی سطح بلند، احساس کی شدت گہری، اسلوب تازہ اور بیان انوکھا ہو۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کتاب میں اِن سوالات کا اطمینان بخش جواب موجود ہے ویسے بھی گزشتہ ربع صدی میں ابھرنے والی نسل کے ایک نمائندہ نظم نگار کی حیثیت سے انوار فطرت کے ہاں ترقی پسندی اور جدیدیت کے منفی اثرات کی تردید اور مثبت اقدار کی تکریم اس کے تخلیقی رویے کی شناخت قائم کرتی ہیں۔
اِس کتاب میں شامل نظمیں ۱۹۹۰سے ۲۰۰۳ء تک کے دورانیے میں تخلیق ہوئیں بل کہ غالب اکثریت ان نظموں کی ہے جو ۱۹۹۵ء کے بعد لکھی گئیں یہی وہ عرصہ ہے جس میں اُس کے معاصر نظم نگاروں کا بہترین کام بھی منظر عام پر آ رہا تھا اور نظم نگاروں کا ایک ہجوم بھی ایوان شاعری میں داخل ہو چکا تھا۔ ایسی چکا چوند اور شور شرابے میں دھیمے لہجے کا کم گو اور کم آمیز شاعر، محض اپنی تخلیقی قوت کے بل بُوتے پر ایسی منفرد کتاب دینے پر قادر ہوا جو نئی شاعری کے نصاب میں تا دیر شامل رہے گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (جاری)
علی محمد فرشی:۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں ذرا سا وقوف کر کے بائبل کی ابتدائی دو آیات کا مطالعہ کر لیں تو شاید آبِ قدیم کے برفیدہ استعارے کو پگھلانے میں سہولت مل سکے۔
"خدا نے ابتدا میں زمین و آسمان کو پیدا کیاoاور زمین ویران اور سنسان تھی اور گہراؤ کے اوپر اندھیرا تھا اور خدا کی روح پانی کی سطح پر جنبش کرتی تھیo”
بائبل کا یہ تصورِ تخلیق انسان کے لیے کچھ نیا نہیں تھا۔ مذاہب کی باقاعدہ ابتدا سے پہلے بھی بابلی تہذیب کے حافظے میں ایسا ہی تصور محفوظ تھا۔ وہ بھی یہی سمجھتے تھے کہ آغاز میں ہر طرف پانی ہی پانی تھا۔ ایسا پانی جس میں شیریں اور کھارے پن کی تفریق بھی موجود نہیں تھی اور اس پانی پر تاریکی کا راج تھا۔
تاہم بائبل نے اس بدنظمی، بے ترتیبی اور بے جہتی سے نکلنے کی پہلی راہ بنائی۔ مندرجہ بالا پہلی اور دوسری آیات سے منسلک تیسری آیت میں کہا گیا ہے۔
"اور خدا نے کہا روشنی ہو جا اور روشنی ہو گئی اور خدا نے دیکھا کہ روشنی اچھی ہے تو اُس نے روشنی کو تاریکی سے جدا کر دیاo”
تخلیق کے بارے میں قدیم ترین انسانی تصور کے شواہد ہمیں سومیریوں کے ہاں ملتے ہیں اور چوں کہ سومیریوں کا یہ تصور اولین نہ سہی قدیم ترین ضرور ہے جس پر بابلیوں اور بائبل نے پر تصدیق ثبت کی۔ سو میری یہ تو نہیں جانتے تھے کہ یہ سمندر کیسے پیدا ہوا اور کیوں ہوا تاہم ان کا عقیدہ تھا کہ ابتداء میں پانی ہی پانی تھا —- انسان نے ایسا کیوں سوچا —-؟اور سومیریوں سے سائنس دانوں تک پانی کی ازلی حکمرانی پر کیوں اتفاق ہے ؟
تاہم آج کے انسان پر یہ عقدہ کھُل چکا ہے۔ اس زمین پر پانی کی حیثیت کیا ہے ؟ حیات کی ابتدا کے لیے پانی کی اہمیت کیا تھی اور حیات کی بقا کے لیے پانی کی حیثیت کیا ہو گی؟ خود اُس کے وجود میں پانی کی حیثیت کیا ہے ؟ یا پھر وجود کے اس۸۰فیصد پانی میں خود اس کی حقیقت کیا ہے ؟
باپ کے Semenسے ماں کی بچہ دانی میں بھی ہے Amniotic Fluid اور جنسیاتی سطح پر آبِ وصال سے نفسیاتی سطح پر آبِ حیات کی اُسطوری خواہش تک کے شعور و لاشعور پر پانی کی اقلیم آبِ قدیم کے ساحلوں تک پھیلی ہوئی ہے۔
انسانی ارتقاسے کچھ دیر کے لیے صرفِ نظر کرتے ہوئے قدیم ترین انسانی تصور تخلیق اور آغاز حیات کا مطالعہ کریں تو پلک جھپکنے میں زندگی اور پانی کے ازلی و ابدی تعلق کی ساری گرہیں کھُل جاتی ہیں لیکن آب قدیم کے ساحلوں پر پڑی اس نظم کے اسرار کھُلنے میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔
نظم کا بڑا وسطی حصہ شعور کی رو میں انسانی تقدیر، تاریخ، تحریک اور تکریم کے نقوش ابھارتا ہے لیکن اختتام سے تین سطور پہلے اچانک وجود مطلق کا ظہور اور
"میں تجھے پہچانتا ہوں
تو نے پہنچانا مجھے۔ ۔ ۔ !”
کی سرگوشی اس وقت ہمیں وحدت کے ہیبت ناک سمندر میں چھوڑ دیتی ہے جب نظم کی آخری سطور کی لرزش نمودار ہوتی ہے۔
آب قدیم
دور و دور تک
لرز جاتا ہے
غیر ضروری حد تک طویل ہونے کے باوجود درجِ بالا اقتباس ” سمندراااااااا” کی تفہیم کے لیے کچھ دروازے ضرور وا کرتا ہے۔ ان دروازوں سے ہم نظم میں فوری طور پر داخل نہ بھی ہو پائیں تو کم از کم اندرونی مناظر کو واضح طور پر دیکھ ضرور سکتے ہیں۔
علی محمد فرشی: نظم کا مخاطب "کُل” ہے اور متکلم محض "جز”۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔، بلاشبہ نظم "کُل” کی عظمت و ہیبت کو تسلیم کر کے آگے بڑھتی ہے لیکن کلاسیکی رویے کے برعکس یہاں "جز” اپنے "کُل” میں فنا ہونے کی عشرت کا طلب گار نہیں، بلکہ اپنے وجود کے بے مایہ ہونے کے کرب میں مبتلا ہے۔ نظم کی کامیابی ہے کہ اس نے غالب کے متن کو نئے معنوں میں منقلب کر دیا ہے۔
یہاں سمندر اس کُل کی شکل میں نمودار ہوا ہے جس کی ا تھاہ گہرائیوں میں زندگی کا روشن دھارا رفتہ رفتہ فنا ہوتا رہتا ہے۔ لیکن آج کے انسان کی تیز رفتار زندگی اُسے یکبارگی فنا کے اس سمندر میں پھینکنے پر مصر ہے۔ سلویا پلاتھ کے نام منسوب اس نظم کا آغاز ان سطور سے ہوتا ہے۔
"وہ کارواں
کبود رنگ کا رواں بھٹک چکے ہیں
دوریوں کے پیچواں سراب میں
گھنیری شب کے باغ سے
تجھے پکارتا ہوں میں ”
سلویا پلاتھ کی زندگی کے کبود رنگ کارواں بھی آٹھ سال کی عمر میں اس وقت بھٹک گئے تھے جب زندگی اس کے باپ کا ساتھ چھور گئی تھی — وُہ اِس جذباتی صدمے سے کبھی نہ نکل سکی موت نے اس کے دل میں خود کشی کا گھونسلہ بنا لیا تھا جس میں اس کی زندگی کا پرندہ ہمیشہ خوف اور ہیجان کا شکار رہا — اس نے اپنی معروف نظم "Daddy” کے حوالے سے بھی اپنے Electra Complexکا دو ٹوک اظہار کیا ہے۔ اس نظم کی آخری سطر اس کے داخلی کرب اور بحران کا نشتر بن کر قاری کے ذہن میں اتر جاتی ہے۔
"Daddy، Daddy، You basterd، I’m through”
خیال رہے کہ یہ نظم اس شخص کے بارے میں ہے جسے وہ خدا سمجھتی تھی اور وہ مر گیا — ! سلویا پلاتھ اور انوار فطرت کی ذاتی زندگیوں میں گہری مماثلت ہے۔ سلویا پلاتھ کو موت نے اس کے باپ کی شفقت سے محروم کر دیا تھا۔ جبکہ انوار اپنے والد کی زندگی ہی میں ان کی شفقت سے محروم ہو گیا۔ اس محرومی نے اس کی ذات کے اندر تو بہت گہرا گھاؤ لگایا۔ لیکن اس کی زبان پر اس حوالے سے کبھی حرفِ شکایت نہیں آیا۔ "میں بے چہرہ ہو گیا ہوں "۔ میں اُس نے اپنے والد کے حوالے سے جن جذبات کا اظہار کیا ہے میرے لیے ان سے اتفاق کرنا ممکن نہیں کیوں کہ میری دوستی بہرحال انوار فطرت سے ہے۔ عبدالرشید شمشاد سے نہیں۔
ادبی دنیا اوٹو پلاتھ اور عبدالرشید شمشاد کی ممنون ہے جن کے ستم کی بدولت دو بہترین شاعر اُسے نصیب ہوئے —سلویا پلاتھ کی طرح انوار فطرت بھی خود کشی کے عشق میں مبتلا ہے۔ سلویا پلاتھ نے دو مرتبہ خود کشی کی کوشش میں ناکام ہونے کے بعد کچن میں گیس کھول کر زندگی کے تمام دروازے بند کر دیے تھے —- انوار فطرت پر بھی زندگی کے دروازے بند ہیں لیکن وُہ انفرادی خود کشی کی بجائے اجتماعی خود کشی کے عذاب میں مبتلا ہے۔ زیر بحث نظم مجھے اجتماعی خود کشی کا ہولناک اظہاریہ دکھائی دیتی ہے۔
"سمندرا
میں شہر ریت کر رہا ہوں
بستیوں میں راکھ اڑا رہا ہوں
دھرتیوں کو چیرتا ہوں
ان کے بطن میں
یہ ریزگی سی کائنات کی
تڑخ رہی ہے میری ہر نگاہ سے
امڈ رہی ہے تیرگی
دہکتی تیرگی ازل کی میری سمت
(رات اپنی بود و ہست کے لیے
کسی سبب، جواز کی
کنیز تو نہیں )
سمندرا ااا
مرے کبود رنگ کارواں
نظم کا اختتام ایسے حسرت آمیز لہجے میں کیا گیا ہے کہ انسانیت کے اختتام کا خیال خوف کی ایک سرد لہر کی طرح ریڑھ کی ہڈی میں اتر جاتا ہے۔ "چیخ اری او مہا سنکھ کی چیخ” میں ایسی ہی اجتماعی خود کشی کی خواہش کا اظہار دکھائی دیتا ہے لیکن یہ اظہار فلسفیانہ سطح پر ہے۔ جب فرد کو زمان و لا زماں کے الہڑ ریلے سے ایک دن کی بوند بھی آسودگی سے ہم کنار نہیں کرتی تو ایسی خواہش آٹھویں دن، کی تباہی اور بربادی کا جشن منانے کے لیے جنم لیتی ہے۔
"آٹھویں دن !
ایسا کوئی اپائے ہو سکتا ہے
جیون کی زنجیر سے باہر
گرے پڑے اس حلقے کے وقفے کو
پھاند کے تُو آ جائے
بول ارے او مہاسنکھ میں بیٹھے
غصے والے، لال بھبھوکے، دھڑ دھڑ کرتے دن!”
لیکن یہ ذہنی کیفیت کسی داخلی بحران کی وجہ سے پیدا نہیں ہوئی بل کہ اس کے عوامل بھی خارجی زندگی ہی میں پروان چڑھے ہیں ادھورے اور بے کیف زمانے خلق کرنے کا ملال کسی بھی حساس اور تخلیقی ذہن کو ایسی ہی تخریبی صورتِ حال سے دوچار کر دیتا ہے جب موت کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔
صاحبِ صدارت! میں نے کچھ نئی باتوں اور کچھ پرانی یادوں سے بحث کا رخ متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ مجھے نظم پر راست اظہار کے لیے کچھ مہلت چاہیے۔ امید ہے اس دوران میں احبا ب کچھ نئے امکانات دریافت کریں گے۔
پروین طاہر: نظم کے پہلے ڈرافٹ میں (سلویا پلاتھ کے لئے )درج نہیں تھا اور اس نظم کی تفہیم بہتر انداز سے نہ ہو سکنے کا اندیشہ تھا جو کہ اب نہ صرف دور ہو گیا ہے بلکہ فرشی صاحب کے طویل اور تنقیدی بصیرت کے حامل کمنٹس نے ہمیں نظم کو سمجھنے اور پرکھنے کی نئی نئی راہیں سجھائی ہیں۔ دوستو ! اپنی نظر کی کمزوری اور آنکھ میں موتیا اترنے کے باعث میں لکھنے پڑھنے کا کام آپریشن ہونے اور صحت یاب ہونے تک نہیں کر سکتی۔ مجھے افسوس ہے کہ انوار بھائی کی نظم لگی ہوئی ہے اور میں اس بحث میں حصہ نہیں لے سکتی۔ بس یہ مختصر سے ایک آدھ کمنٹس کرتی رہتی ہوں۔ مگر آپ سب دوستوں کی آرا کو دھیان سے پڑھوں گی۔ آپ کی قیمتی آرا کا انتظار رہے گا۔
فیاض احمد وجیہہ: محترم علی محمد فرشی صاحب نے نہ صرف نظم کی تفہیم کی کامیاب کوشش کی ہے بلکہ اس نظمیہ متن کے سیاق کو بھی واضح کرنے کی غیر معمولی سعی کی ہے۔ نظمیہ متن کے سیاق میں دو تخلیق کاروں کا وہ ذہنی رویہ اور تخلیقی تناظر بے حد اہم نکتہ ہے جس کی طرف فرشی صاحب نے اشارہ کیا ہے۔ میرے خیال میں سمندراااااااا کی تفہیم کرتے ہوئے اس تناظر سے ایک پر قوت مکالمہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ مجھے بے حد خوشی ہے کہ فرشی صاحب نے پانی کے حیاتیاتی تناظر کو اس نظم کے تخلیقی محاورہ میں کھولنے کی اپنی سی سعی کی ہے۔ ان کی اس گفتگو کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے نظم کے فکری احوال کو کہانی بننے نہیں دیا ہے۔ دراصل ان کی باتوں میں نظم کا تخلیقی مشاہدہ اس قدر شامل ہے کہ معنی کا جمالیاتی استعارہ وضع ہو گیا ہے۔ تصنیف حیدر صاحب نے پہلے والے نظمیہ متن کے پیش نظر ابتدائیہ لکھا تھا۔ اس لیے میں ان سے ذاتی طور پردرخواست کرتا ہوں کہ دونوں متن کے تقابل اور فرشی صاحب کی اس گفتگو کو سامنے رکھ کر وہ نظمیہ متن کے جمالیاتی احساس کو نئے سرے سے کھولیں۔ پروین طاہر صاحبہ نے اپنی علالت کے باوجود اس گفتگو میں حصہ لیا ہے اور بعض باتوں کی نشاندہی کی ہے۔ ہم ان کی صحت کے لیے بارگاہ رب العزت میں دعا گو ہیں۔ فرشی صاحب کی غیر معمولی تفہیم اور پروین طاہر صاحبہ کے خلوص کو دیکھ کر مجھے یقین ہے کہ اس نظم کی تفہیم میں ہم بہت دور تک جائیں گے۔ خود فرشی صاحب نے اس بات کا یقین دلایا ہے اس لیے جب تک وہ اس نظم پر راست اظہار کے لیے تشریف لاتے ہیں ہم اس میں نئے معنی اور اس کی جمالیات کو ڈھونڈنے کی اپنی سی سعی کرتے ہیں۔
علی محمد فرشی: لفظ کے تخلیقی کردار کو (اگر میں بھول نہیں رہا)وزیر آغا نے سمندر میں رواں گلیشیر سے تشبیہ دی تھی جس کا بالائی حصہ سدا سطح آب پر رہتا ہے اور دوسرا ہمیشہ زیر آب۔ ۔ ۔ ۔ درمیانی حصہ جو گاہے سطح پر ابھر آتا ہے اور گاہے پانی میں اوجھل ہو جاتا ہے، یہی وہ حصہ ہے جو پوشیدہ وجود تک رسائی دیتا ہے اور یوں معانی کے نئے منطقے دریافت ہوتے ہیں۔
یہ تمثیل لفظ کے باطن کو سمجھنے کے لیے تو بہت کارآمد ہے لیکن لفظ کے گلیشئر کو زبان کے بحرِ مردار میں متحرک کرنا اتنا آسان بھی نہیں۔ یہ کام اس وقت اور بھی مشکل ہو جاتا ہے جب امیج کسی بڑے معنی سے محروم ہونے کے باعث اپنے وجود کا بڑا حصہ سطح پراچھال دے۔ امیج ازم کی تحریک سے متأثر اُن نظم نگاروں کے ہاں یہ سقم بہت واضح دکھائی دیتا ہے جن کی توجہ لفظ کی بیرونی سجاوٹ پر زیادہ اور اندرونی بناوٹ پر کم رہی۔ امیج کو بہ طور تخلیقی ہتھ کنڈہ استعمال کرنے والے نظم نگاروں کی توجہ لفظ کے زیرِ آب گلیشئیر پر مرکوز رہتی ہے اور باقی کے دو حصے پوشیدہ وجود تک رسائی کے ذرائع کے علاوہ چنداں اہمیت نہیں رکھتے۔ البتہ امیج کی ظاہر صورت میں جمالیاتی کشش ضرور ہونا چاہیے کہ قاری نا دید کی دریافت میں دلچسپی لینے لگے۔
انوار فطرت نظم کے ان معدودے چند شعرا میں شامل ہیں جنھوں نے لفظ کی نئی اشکال اور تخلیقی صورت گری سے بھی معانی کی سطح پر تحرک پیدا کیا ہے۔ نظم ” سمندراااااااا ” اپنے عنوان کے صوری امیج ہی سے قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ پھر دیکھتے دیکھتے یہ صوری امیج صوتی امیج میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ صوری امیج نے "سمندر” کی لہروں کے تحرک کو رفتہ رفتہ معدومیت سے دوچار کیا تھا تو صوتی امیج نے اسے ایسی پکار میں بدل دیا ہے جو سینے کے شگاف سے برآمد ہوتی ہے۔ یوں عدم سے وجود کی طرف پلٹنے کا عمل، بازگشت کی صورت اختیار کر کے دائرہ بنا لیتا ہے۔ دو مخالف سمتوں میں امیج کے تحرک نے معانی کی جس پیچیدگی کو تخلیقی جہت عطا کی ہے اس نے نظم کے اندر اترنے کی جستجو کو مہمیز لگا دی ہے۔ اگر ہم غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ شاعر نے اس کار گاہ شیشہ گری میں کیسی فن کاری کا اعجاز دکھایا ہے۔ ذرا سی بے احتیاطی سے یہ صوت بے جہت اور مجرد چیخ بھی بن سکتی تھی لیکن نظم کے ویژن نے اس کی فنی تشکیل کے لیے اپنا وزن اس کے پلڑے میں ڈال کر تخلیقی عمل کو شاعر کے لیے سہل بنا دیا۔ صوتی امیج اپنی بنت میں فجائی تاثر بھی لیے ہوئے ہے اور کربِ تنہائی کا الاپِ انتہا بھی۔ ۔ ۔ شاید یہی وہ دروازہ ہے جس سے ہم نظم میں داخل ہو سکتے ہیں۔
نظم کے متن میں عنوان یوں رچا بسا ہے کہ اس کو علاحدہ کر کے نظم کی تعبیر ممکن نہیں رہتی۔ فن پارے کی نامیاتی وحدت اور کلیت کو دریافت کرنے کے لیے میں نے عنوان سے جو مدد لی ہے شاید بحث کو آگے بڑھانے میں ممد ثابت ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
تصنیف حیدر: علی محمد فرشی صاحب کے طویل تبصرے کے بعد مجھے محسوس ہوا ہے کہ اس نظم کو سمجھنے کے لئے سیاق کی ضرورت پر میں نے ابتدائیے میں جو زور دیا تھا وہ غلط نہیں تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حالانکہ مجھے انوار فطرت اور سلویا پلاٹھ کی زندگیوں کے بارے میں ایسی معلومات حاصل نہیں ہیں تاہم میں نے اس کرب کے دروں میں جا کر کچھ دیکھنے کی کوشش کی تھے جو ایک حد تک ابلاغ کا مسلہ حل کرتی ہو۔ ۔ ۔ ۔ اسی لئے میں نے کہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ "اس کی تعبیرات کی شاخیں چاہیں ہزاروں ہوں مگر بنیادی احساس یہی ہے کہ نظم میں موجود ’میں‘ نے کچھ کھویا ہے، کچھ ڈبویا ہے، کچھ گم کیا ہے۔ لیکن اس ادراک کی صورتیں مختلف ہیں یا یوں کہوں کہ یہ ادراک جن واسطوں سے ہوا ہے نظم میں ان کو بھی واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے "”
اچھی بات یہ ہے کہ ایک اچھی نظم پر بات آگے بڑھ گئی ہے اور مجھے امید ہے کہ اس نظم کے ابہام کو سمجھنے سمجھانے کی ابھی بہت سی منزلیں سر کرنی باقی ہیں، میں بھی صاحب صدر کے حکم کے مطابق جلد ہی کچھ عرض کروں گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔
علی محمد فرشی: جنابِ صدر!
ہم دیکھ چکے ہیں کہ غالب کے متن سے استفادہ کرتے ہوئے اس نظم نے کلاسیکی زاویہ فکر کو جدید حسیاتی و فکری تناظر میں کیسے نئے معانی سے لبریز کیا تھا۔ اب جدید نظم کے ایک امام میرا جی کی نظم "سمندر کا بلاوا” کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ دونوں نظموں میں سمندر کا استعارہ مشترک ہے بل کہ اس لیے بھی کہ دونوں کے موضوعات بھی جڑواں ہیں۔ ۔ ۔ ۔ یعنی "فنا”۔
غالب کے ہاں اگر "فنا” باعثِ عشرت ہے تو میرا جی کے ہاں بالآخر لازمۂ حیات یا زندگی کا حتمی اور منطقی نتیجہ۔ اس نظم کے آخری دو مصرعے دیکھیے :
"نہ صحرا نہ پربت، نہ کوئی گلستاں، فقط اب سمندر بلاتا ہے مجھ کو
کہ ہر شے سمندر سے آئی، سمندر میں جا کر ملے گی”
میرا جی کے ہاں بھی سمندر کُل کا استعارہ ہے، جب جز کو کُل میں جذب ہی ہو جانا ہے تو حیرت کیسی اور کیسا احتجاج؟ چناں چہ ایک اعتبار سے میرا جی کا زاویہ فکر بھی کلاسیکی ہی رہتا ہے۔ غالب اگر مستانہ وار فنا سے ہمکنار ہوتا ہے تو میرا جی اسے مجبوراً قبول کر لیتا ہے لیکن انوار فطرت کی نظم بغاوت آمادہ ہے۔ نظم کا واحد متکلم مخاطب کے جلال سے مرعوب اور خوف زدہ نہیں بلکہ خود سمندر کے مانند اس کے مقابل آ کھڑا ہوا ہے۔ یہ جدید عہد کا انسان ہے جو تقدیر کے سامنے خاموشی سے گھٹنے ٹیکنے پر تیار نہیں۔
سوال یہ ہے کہ "کُل” اور "جز” کے مابین وہ کیا تنازعہ ہے جس نے شاعر کو تخریب کی اس سطح تک پہنچا دیا ہے :
” سمندراااااااا
میں شہر ریت کر رہا ہوں
بستیوں میں راکھ اڑا رہا ہوں
دھرتیوں کو چیرتا ہوں ان کے بطن میں
یہ ریزگی سی کائنات کی
تڑخ رہی ہے میری ہر نگاہ سے ”
نظم کے ابتدائی استانزے میں اس سوال کا جواب موجود ہے۔ جہاں "کبود رنگ کارواں ” کا سمبل نمودار ہوا ہے۔ ۔ ۔ ۔ یہ سمبل اپنے اندر زندگی کے اس جوہر کو سمیٹے ہوئے ہے جو جدید انسان دسترس سے نکل گیا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہی المیہ اس نظم کی تخلیق کا محرک بنا ہے۔
ظفر سیّد: : جنابِ صدر، تصنیف حیدر صاحب کے فکر انگیز ابتدائیے کے بعد علی محمد فرشی صاحب کے ناخنِ تنقید نے جس خوبی سے نظم کی گرہیں سلجھائی ہیں وہ فرشی صاحب ہی کا حصہ ہے۔ میں نے انوار فطرت کو اس قدر گہرائی سے تو نہیں پڑھا جس طرح فرشی صاحب نے ان کی شاعری۔ ۔ بلکہ خود شاعر کا بھی۔ ۔ بغائر مطالعہ کیا ہے، البتہ میں اپنے بے حد محدود مطالعے کی روشنی میں کہوں گا کہ انوار فطرت کے ہاں بعد از قیامت (پوسٹ اپاکلپٹک) امیجری بہت اہم ہے۔ اردو میں اس قسم کی شاعری کی دو عمدہ مثالیں علی محمد فرشی کی نظم "سائبیریا” اور انوار فطرت کی "ماں کے لیے ایک نظم” ہیں۔
"سمندراااااااا” میں بھی ایسی ہی رونگٹے کھڑے کر دینے والی ڈس ٹوپیائی صورتِ حال نظر آتی ہے، جس میں انسان مادیت کی کند چھری سے روحانیت کی آنول نال کو اپنے ہاتھوں سے کاٹ چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں اب وہ ایسی دنیا میں زندگی بھگت رہا ہے جو جہنم زار بن چکی ہے۔ نظم کے چوتھے بند میں اس دنیاوی جہنم کا نقشہ کھینچا گیا ہے جس کی بھیانک امیجری مذہبی کتب سے ماخوذ کی گئی ہے :
سلگ رہی ہیں ہڈیاں
رگوں میں دھات کھولتی ہے
گوشت میں جہنموں کا
نیم روز ہے رکا ہوا
فضا میں چرچراتے ماس کی بساند ہے
لیکن یہ جہنم اوپر سے نازل نہیں ہوا، بلکہ اس کا سامان انسان نے خود ہی فطرت سے جنگ کر کے پیدا کیا ہے :
میں شہر ریت کر رہا ہوں
بستیوں میں راکھ اڑا رہا ہوں
دھرتیوں کو چیرتا ہوں ان کے بطن میں
یہ ریزگی سی کائنات کی
تڑخ رہی ہے میری ہر نگاہ سے
فرشی صاحب نے اس انہدامی رویے کو متکلم کا "کبود رنگ کارواں ” سے بچھڑنے کا احتجاج کا نتیجہ بتایا ہے، لیکن ایک اور تعبیر بھی ممکن ہے کہ ہو سکتا ہے "کبود رنگ کارواں ” نوعِ انسان کے تباہ کن اعمال کی تاب نہ لا کر بھٹک گئے ہوں۔ یہاں ذکر کرتا چلوں کہ "کبود رنگ کارواں ” بے حد معنی خیز ہے، کیوں کہ نیلا آسمان اور سمندر دونوں کا رنگ ہے۔
باعث جو بھی ہو، لیکن نظم کا متکلم اس جہنم سے گھبرا کر جو چیخ بلند کرتا ہے (سمندراااااااا) وہ سات آسمانوں کو لرزا کر رکھ دیتی ہے، لیکن جواب میں اسے صرف وحشت زدہ بگولوں کی گونجتی ہوئی چیخیں سنائی دیتی ہے۔ متکلم کو احساس ہے کہ سمندر سے ملاپ سے مکتی ممکن ہے، لیکن اس ملاپ کی کلید "کبود رنگ کارواں ” ہے، جو "دوریوں کے پیچواں سراب میں بھٹک” گیا ہے اور اگرچہ سمندر صرف دو قدم کے فاصلے پر ہے، لیکن یہ فاصلہ پھیل کر لامتناہی ہو گیا ہے جس کو پاٹنے کی کوئی امید نہیں۔
محمد یامین: جناب صدر!فرشی صاحب نے سیاق کے ساتھ جڑ کر اس نظم کی تفہیم کے در باز کرنے کی کام یاب کوشش کی ہے۔ یہ درست ہے کہ اس نظم میں انوار فطرت ” عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا” سے بغاوت کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن سمندراااااااا کی فلک شگاف آواز کے ساتھ ساتھ یہ فریاد بھی سنائی دیتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
"جو دو قدم کا فاصلہ ہے تجھ تلک
وہ کٹ نہیں رہا” اس المیے کو "کبود رنگ کارواں ” کے سمبل سے منسلک کر کے بیان کیا گیا ہے۔ یہ سمبل بے شمار سمتوں کی طرف حرکت پذیر ہے۔ ایک سمت نیلا رنگ بھی ہے۔ نیلے رنگ کے بارے میں کئی تصورات معروف ہیں، مثلاً
1)نیلے رنگ سے، وسعت، امن (حفظ و امان) اور فرماں برداری و اطاعت کے احساسات بھی وابستہ ہیں۔
2) جدید نفسیات کی تحقیق بتاتی ہے کہ نیلے رنگ کے کمروں میں کام کرنے والے کارکن زیادہ کارآمد ثابت ہوئے ہیں۔
3) علاوہ ازیں نیلے رنگ سے انسان کی اشتہا کم ہو جاتی ہے۔ نیز غذا کا نیلا رنگ اس کے زہریلے پن کی علامت بن جاتا ہے۔ ۔
4) جدید نفسیات یہ بھی بتاتی ہے کہ نیلے رنگ سے انسانی جسم میں نبض کی رفتار مدھم اور درجہ حرارت کم ہو جاتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
گویا یہ تصورات ہمیں بتاتے ہیں کہ نیلا رنگ جز کو کل کے ساتھ جوڑنے، اور یوں اطاعت کی سیڑھی کے ذریعے اوصافِ محمودہ تک پہنچنے کے احساس کا نام ہے۔ ۔ اسلامی تصوف میں فنا سے مراد انسانی ذات سے مذموم اوصاف کا خاتمہ ہے۔ انسانی خواہشات کی شہوت اور اشتہا کی زیادتی اوصافِ محمودہ کے زوال کی نشانی ہے اور نیلا رنگ انسانی اشتہا کو کم کر کے اسے بشری اخلاق کی بلندی کی طرف لے جاتا ہے۔ اور یہ جو نیلے رنگ سے نبض مدھم اور حرارتِ جسم میں کمی آ جاتی ہے کیا اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ جب انسان اطاعت اور علم سے آشنا ہوتا ہے تو جہالت اور غفلت فنا ہو جاتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نظم میں کبود رنگ کارواں جو بھٹکے ہوئے دکھائے گئے ہیں ان کی ایک جہت نیلے رنگ کے ان تصورات سے بھی وابستہ ہو سکتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !
جلیل عالی: جناب صدر اس نظم کی ساخت میں درج ذیل عناصر ترکیبی بروئے کار آئے ہیں۔ ۱۔ دوریوں کے پیچواں سراب میں بھٹک چکے کبود رنگ کارواں ۲۔ سات گنبدوں کے دائرے ۳۔ گھنیری شب کے باغ سے پکارنے والا واحد متکلم ۴۔ تباہی و بربادی کی معروضی صورت حال ۵۔ واحد متکلم کی اپنی اسفل کارکردگی ۶۔ مخاطب سمندر ۷۔ اور ازل کی امڈتی ہوئی دہکتی تیرگی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انہی کے پم آہنگ معنوی ربط سے ہمیں نظم کی تفہیم و تعبیر کرنا ہے۔ بات یہ ہے کہ جب کسی فن پارے کے استعارہ و علامت کی ایمائی قوت میں کچھ کمی رہ جائے تو اس کے مافیہ کے ابلاغ میں مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ قاری اساس تنقید کو ایسی صورت حال میں دور دور کی کوڑیاں لانے اور خیالی گھوڑے دوڑانے کا خوب موقع ملتا ہے۔ بعض الفاظ اور بعض مصرعوں پر سوالیہ نشان لگانے کے باوجود مجھے اس نظم کی تفہیم کچھ یوں ہوئی ہے۔
نظم کا واحد متکلم انسان کی نمائندگی کرتے ہوئے انسان کی تمام تہذیبی کامیابیوں کے اکارت جانے کا نوحہ کہتا ہے۔ اور انسانیت پر قیامت گزر جانے کی تصویر کشی کرتا ہے۔ اس تباہی و بربادی میں خود انسان کے اپنے اسفل کردار کا ذکر بھی کرتا ہے۔ وہ جس دردو کرب سے چیختا اور سمندر یعنی حقیقت مطلقہ کو پکارتا ہے اس سے کائنات میں ایک زلزلے کی سی کیفیت پیدا ہو گئی ہے مگر حقیقت مطلقہ سے بامعنی ربط پیدا نہیں ہو پا رہا بلکہ فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ میں نے جان بوجھ کر نظم کی سطریں نقل نہیں کیں متن سب کے سامنے ہے اور اشارے واضح ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ایک تصریح
محترم یامین صاحب نے سمندر کی علامت کی تفہیم میں بجا طور پر تصوف کی روایت کا حوالہ دیا ہے۔ ہمیں سمندر کو حقیقت کل کی صوفیانہ اور روحانی تہذیبی معنویت ہی میں لینا ہو گا۔ کیوں کہ جس شاعر کی صدا کے بولوں سے سات گنبدوں کے دائرے لرز رہے ہوں وہ صرف کوسمولوجی کے ایک معمولی سے جز کو استمداد کے لئے نہیں پکار سکتا۔
اور اب چند سوالیہ نشانات
۱۔ ۔ شاعر جس طرح کے جہنمی نواح میں سانس لے رہا ہے اسے گھنیری شب کا باغ کیسے کہا جا سکتا ہے۔ باغ کا استعارہ تو نشاطیہ کیفیت لئے ہوئے ہے۔ اور خود گھنیری کا لفظ بھی کرب و اذیت کی کیفیت کے لئے زیادہ موزوں نہیں معلوم ہوتا۔
۲۔ ۔ جب شاعر نے تباہی و بربادی میں خود انسان کے اپنے کردار کی بھی نشان دہی کر دی ہے تو پھر رات کو کسی جواز سے بے نیاز ٹھہرانے کا کیا جواز رہ جاتا ہے ؟
۳۔ ۔ کیا انسانی تہذیبی کامیابیوں کے مظاہر کے لئے "کبود رنگ کارواں "کی تمثال کوئی بھر پور تاثر ابھارتی ہے ؟
ظفر سیّد: صاحبِ صدر، یامین صاحب اور عالی صاحب نے کبود رنگ پر اظہارِ خیال کیا ہے۔ میرے خیال سے نیلے رنگ کی ایک اور معنویت بھی بنتی ہے، اور نیلا رنگ دوری اور افتادگی کا استعارہ بھی بنتا ہے۔ اس کہ وجہ یہ ہے کہ دور کی چیزیں (مثال کے طور پر پہاڑ، درخت یا عمارتیں ) نیلگوں دکھائی دیتی ہیں چاہے ان کا اصل رنگ کچھ بھی کیوں نہ ہو (سائنسی توجیہہ یہ ہے کہ نیلے رنگ کی روشنی باقی رنگوں کے مقابلے پر زیادہ منتشر ہوتی ہے )۔ خود نظم کے اندر یہ تصور موجود ہے :
کبود رنگ کارواں بھٹک چکے ہیں
دوریوں کے پیچواں سراب میں
اس طرح کبود رنگ نہ صرف کارواں کی دوری بلکہ لا حاصلی کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
فیاض احمد وجیہہ: محترم خواتین و حضرات میں آپ سے معذرت چاہتا ہوں۔ ادھر کئی دنوں سے حاشیہ کے اس اجلاس سے غیر حاضر تھا۔ دراصل میری کچھ اکیڈمک مجبوریاں تھیں۔ انشاء اللہ اس درمیان پوسٹ ہونے والی گفتگو پر کل اظہار خیال کروں گا اور میں جس تناظر میں اس نظم کو دیکھ رہا ہوں اس کو بھی یہاں پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔ اس نظم کی لسانی صورتحال کو نظم کی اسطوری صورتحال سے کس نوع کی مطابقت ہے، اس باب میں بھی آپ حضرات کی توجہ چاہوں گا۔ مجھے قوی امید ہے کہ اب تک جس طرح یہاں گفتگو کی گئی ہے انشاء اللہ آگے بھی ہماری گفتگو اس نظم کے معنوی سیاق کو مزید روشن کرے گی۔
فیاض احمد وجیہہ: محترم حضرات انوار فطرت کی نظم پر تصنیف حیدر صاحب نے اپنے ابتدائیہ میں بنیادی طور پر یہ کہنے کی کوشش کی تھی کہ یہ ایسی نظم ہے جو اپنے عنوان سے ہی شاعری کا آغاز کر دیتی ہے۔ ان کی اس بات میں شاید یہی نکتہ پوشیدہ ہے کہ سمندراااااااا فقط عنوان نہیں بلکہ اس نظم کا اسطوری چہرہ ہے جس کو انوار فطرت نے ابہام کی جمالیات میں پھیلانے کی سعی کی ہے۔ ہم شاید اس اسطوری چہرہ کو اس وقت تک واضح طور پر نہیں دیکھ سکتے جب تک اس کے اجزا مرتب نہ کر لیں۔ اس عمل میں نظم کی داخلی بافت کو توڑنا ضروری ہے کہ اس کے پس پردہ مخصوص معنوں میں ثقافتی محاورات موجود ہیں۔ اسی بات کی جانب بے حد علمی انداز میں علی محمد فرشی صاحب نے اشارہ کرتے ہوئے یہ عرض کیا ہے کہ نظم اپنے عنوان کے صوری امیج سے ہی قاری کو گرفت میں لیتی ہے اور یہ صوری امیج صوتی امیج میں تبدیل ہو جا تا ہے۔ یہاں غور کرنے والی بات یہ ہے کہ صوری امیج سے کیا مراد ہے ؟کیا اس کو لغوی مفہوم میں یوں دیکھا جا سکتا ہے کہ معنی کے نئے منطقے کی تلاش کا عمل ممکن ہو جائے۔ میرے خیال میں نہیں۔ شاید اسی لیے فرشی صاحب نے اس کے الفیائی تسلسل کو اپنے تخلیقی شعور میں محسوس کرتے ہوئے سمندر کی ازلی فطرت سے مکالمہ کیا۔ دراصل سمندر ی ساحل پر کھڑے ہو کر ہم اکثر جس صوری اور صوتی امیج کا مشاہدہ کرتے ہیں اس کی بے حد خوبصورت مصوری یہ عنوان ہے۔ ہم گہرے ادبی احساس کے تحت یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ انوار فطرت نے لفظ کے تخلیقی پیٹرن میں کامیاب تجربہ کرتے ہوئے ایسے لفظ کی تشکیل ہے جس کے درون میں بیانیہ کا داخلی نظام اپنی قوت کے ساتھ موجود ہے۔ جس صورتحال کو بیان کرنے کے لیے بیانیہ کو ایک پورے پروسس سے گزرنا پڑتا ہے اس کو انوار فطرت نے اپنے اس تخلیقی لفظ سمندراااااااا میں ڈھونڈ لیا ہے۔ اس باب میں فرشی صاحب کے مکالمہ کو بنیاد کر ہمیں ابھی گفتگو کرنی ہے۔ انہوں نے بہت عمدہ بات کہی ہے کہ فن پارے کی نامیاتی وحدت اور کلیت کو دریافت کرنے کے لیے میں نے عنوان سے جو مدد لی ہے شاید بحث کو آگے بڑھانے میں ممد ثابت ہو۔ تصنیف حیدر صاحب نے اپنے ابتدائیہ میں ایک اہم بات یہ بھی کہی تھی کہ میری ان باتوں کے جواب میں کتنی ہی باتیں کیجیے مگر اس نظم پر کچھ بھی کہنے سے پہلے اپنے پیروں کی جانب ضرور دیکھیے۔ واقعہ یہ ہے کہ اس بات کا تعلق بھی نظم کے عنوان سے ہی ہے۔ اپنے پیروں کی جانب دیکھنا بعض دفعہ انسان کو مایوسی میں مبتلا کر دیتا ہے تو کئی دفعہ اس کو تحیر سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ اس نظم کی تفہیم سے پہلے ہمیں اپنے پیروں کی جانب کیوں دیکھنا چاہیے ؟ شاید اس لیے کہ سمندر ہمارے ہی اندر کہیں ہے۔ تصنیف صاحب نے ایک بات یہ بھی کہی کہ آب اور آسمان دونوں ہی نیلگوں سالمات سے وجود میں آئے ہیں۔ معلوم نہیں آسمان کے وجودی تشخص میں نیلگوں سالمات دخیل ہیں یا نہیں۔ لیکن ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ یہ دن میں نیلا کیوں نظر آتا ہے دراصل اس عمل میں ہوا اور اس کے سالمات کا اہم رول ہوتا ہے۔ اس کو ہم سائنس کی مدد کے بغیر نہیں سمجھ سکتے۔ انہوں نے اس رنگ کی تطہیر کے جواز کو سوال بنا کر پیش کیا ہے اور یہ بھی پوچھا ہے کہ کارواں کو کبود رنگ کیوں قرار دیا گیا ہے۔ ان کا یہ سوال مشروط ہے جس کا جواب ہمیں دینا ہے جہاں تک میں سمجھتا ہوں کبود رنگ کارواں کی تمثیل کچھ اور بھی ہے جس کو اسطوری مشاہدہ کے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس نظم پر گفتگو کرتے ہوئے ہمارا ذہن اسلامی تصوف کی طرف بھی گیا ہے۔ اسی بات کو بنیاد بنا کر ہم کہہ سکتے ہیں یہاں کبود رنگ کارواں کے تصور میں تسبیح کے ان دانوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اپنے رنگ کے اعتبار سے نہ صرف نیلا اور آبی ہوتا ہے بلکہ اس کے بارے میں یہ عام خیال ہے کہ تسبیح اصل میں انسان کی زندگی کا استعارہ ہے یعنی اس کا سانس لینا اس کا پہلا دانا ہے تو اس کے اچھے برے اعمال ان دانوں کا اجتماع۔ اور پھرآسمان اس کا بزرگ ترین محراب ہے۔ یہاں تطہیر کو کسی جواز کی ضرورت شاید نہیں ہے۔ یہ پوری نظم اس آبی رنگ تسبیح کا استعارہ بن سکتی ہے۔ اس سیاق میں اس کا مطالعہ کرتے ان سوالات کا جواب بھی شاید مل سکتا ہے جو بہ ظاہر نظم کی ساخت میں عیب بن کر نمایاں ہیں۔ جاری
فیاض احمد وجیہہ: علی محمد فرشی کی اس بات میں بھی ایک اہم اشاریہ ضرور ہے کہ اس کی حیاتیاتی شناخت مابعد الطبیعیاتی وجود کی مرہون منت ہے۔ ہمیں ان باتوں سے سرسری نہیں گزرنا چاہیے۔ ان کی اس بات کو بھی شاید محسوس کرنے کی شدید ضرورت ہے کہ غالب اگر مستانہ وار فنا سے ہم کنار ہوتا ہے تو میراجی اسے مجبوراً قبول کر لیتا ہے لیکن انوار فطرت کی نظم بغاوت آمادہ ہے۔ قطرہ کا دریا میں فنا ہونا اس کا ازلی مقدر ہے۔ لیکن انوار فطرت کی نظم میں بغاوت ہے تو ہمیں معنی کی جمالیات کو دیکھنا ہو گا۔ بلاشبہ وجود کے بے مایہ ہونے کے کرب میں ہماری زندگی کے بے شمار لمحات کو یہ نظم موضوع بناتی ہے۔ فرشی صاحب کے خیالات میں تصریح و تعبیر کی جو لے ہے اس پر الگ سے گفتگو ہونی چاہیے۔ چوں کہ یہ کوئی عمومی مشاہدہ نہیں ہے۔ پھر انہوں نے لفظ کے تخلیقی کردار پر الگ سے گفتگو کی ہے۔ اس کو بھی دیکھنے کی ضرورت بہر حال ہے۔ اس کے علاوہ اس متن میں ثقافتی محاورات کس طرح تبدیل ہو گئے ہیں ان کو دیکھیے تو اندازہ ہو گا کہ اس نظم کا تخلیقی تیور کیا ہے۔ ظفر سید صاحب نے کبود رنگ کارواں کی ایک نئی تعبیر پیش کی ہے۔ انہوں نے موکش اور مکتی کی طرف اشارہ کر کے ہمیں ایک اور تناظر فراہم کیا ہے۔ محمد یامین صاحب نے بھی کبود رنگ کارواں کے سمبل کو ہمارے سامنے رکھا ہے۔ ان کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے جدید نفسیات کی تعبیرات کو تصوف سے جوڑ کر اہم باتیں کہی ہیں۔ جلیل عالی صاحب نے اس نظم کے مخصوص لسانی تصورات کو موضوع بنایا ہے اور اس کی اپنی سی تفہیم کی ہے۔ انہوں نے بعض مصرعوں پر سوالیہ نشان کی جانب اشارہ کیا ہے ان سے مؤدبانہ التماس ہے کہ ان کی نشاندہی کر دیں، شاید اس سے نظم کی بہتر تفہیم میں مدد ملے۔ ان کے سوالات بہت اہم ہیں ان پر غور کرنا ضروری ہے۔ میرے خیال میں ان کا اولین سوال جو جہنمی نواح اور گھنیری شب کے باغ سے متعلق ہے اس کو اس طرح شاید دیکھنا چاہیے کہ شاعر نے کارواں کے ذکر میں اسم اشارہ کا استعمال کیا ہے۔ یعنی وہ جانتا ہے کہ یہ کون سا کارواں ہے اور پھر یہ بھی کہ وہ کہاں ہے اس سے کس قدر فاصلہ پر ہے۔ شاعر اپنے متن میں جس حاوی لہجہ کو پیش کر رہا ہے اس سے یہ بھی گمان ہوتا ہے کہ ہمیں قرات میں کہاں کہاں اوقاف کا استعمال کرنا ہے۔ جہنمی نواح اور گھنیری شب کے اجتماع پر غور کرتے ہوئے شاید اس کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ واقعہ نگار کس لسانی ثقافت میں واقعہ بیان کر رہا ہے۔ اگر ان باتوں کے باوجود اس اجتماع کا کوئی تخلیقی جواز نظر نہیں آتا تو ہمیں اس کو عیب گرداننے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ کیا یہاں گھنیری شب کا باغ اپنے لغوی مفہوم میں ہے یا پھر اس کا کوئی استعاراتی مفہوم بھی اس میں موجود ہے ؟اس پر بھی غور کرنا ضروری ہے کہ ہم داستان جیسی صنف کے تسلسل میں اس لسانی ثقافت کو دیکھنے کہ آرزو مند بھی ہیں۔ ان کے دوسرے سوال میں رات اور اس کے جواز کی بات کی گئی ہے۔ یہاں دیکھنے والی بات یہ ہے کہ شاعر نے ایک بار پھر کس حاوی لہجہ میں اس کو نظم کیا ہے۔ میرا خیال یہ ہے کہ کسی سبب۔ ۔ ۔ ۔ کے پس پردہ شاعر ہم سے کچھ کہنا چاہتا ہے۔ کہیں اس میں انسان کے اپنے اعمال کے علاوہ تو کوئی بات نہیں جس کی نشاندہی شاعر کرنا چاہتا ہے یا کر چکا ہے ؟ان باتوں پر ابھی ہمیں غور کرنا ہے۔ ان کا آخری سوال کبود رنگ کارواں کی تمثال سے متعلق ہے۔ اس کی وضاحت میں شاید یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہمیں دیکھنا ہو گا کہ اس کے تشخص کو شاعر نے کب اور کیسے بدلا ہے ؟
ان باتوں سے ذرا سا الگ ہو کر مجھے یہ عرض کرنا ہے کہ ہمیں نظم کی لسانی ثقافت پر نئے سرے سے غور کرنا چاہیے۔ دراصل شاعر جہاں ابتدا میں کبود رنگ کارواں کو مخاطب کے طور پر پیش کرتا ہے وہیں نظم کے اختتام میں اس کو اپنے وجود کے طور پر مخاطب کرتا ہے۔ کیا اس میں کوئی دوئی ہے ؟ اس کو ہمیں دیکھنا چاہیے۔ میں اس وقت نظم کی کوئی انفرادی تفہیم نہیں کرنا چاہتا البتہ یہ ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ ہم نے اس کے لسانی نقش کے بعض مخصوص نشانات کو موضوع نہیں بنایا ہے۔ میرے خیال میں جلیل عالی صاحب کے کم و بیش سات عناصر ترکیبی جو اس لسانی نقش کا احاطہ کرتے ہیں ان سے الگ ہو کر بھی ہمیں شش جہت ایسی شعوری اور فطری ترکیب کو یوں دیکھنا چاہیے کہ شاعر نے جہتوں کے تعین میں اس کم یا زیادہ کو کیوں پسند نہیں کیا ؟کیا جہتوں کے تعین کے اس عمومی رویہ میں کوئی مخصوص لسانی صورتحال پوشیدہ ہے ؟عکس کے استعمال کے پس پردہ بھی کوئی مخصوص بات کہی گئی ہے ؟جہنموں کا نیم روز کس بات کی علامت ہے ؟اس کے علاوہ ان کے مخصوص استانزہ یعنی سمندراااااااا۔ ۔ ۔ ۔ میں شہر ریت کر رہا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں بیان کسی عمومی مشاہدہ کا نتیجہ ہے یا اس میں کسی مجنونانہ رقص کا تخلیقی بیانیہ بھی موجود ہے جو اسطور اور دیومالا سے ہم رشتہ ہے ؟ بعض ایسی باتوں پر غور کرتے ہوئے ہم اس کے تخلیقی شور کو سن سکتے ہیں۔ حضرات درمیان میں اس گفتگو کا مقصد یہ ہے کہ ہم نظم کے نمایاں لسانی صورتحال کے علاوہ بھی اس کی تفہیم کو ممکن بنائیں۔ محترم اراکین مجھے قوی امید ہے کہ آپ ان باتوں سے جم کر اتفاق اور اختلاف کریں گے اور ہماری گفتگو ایک نئے امکان کو روشن کرے گی۔
محمد حمید شاہد: صدر محترم ! ایک خوب صورت، اور درویش صفت شاعر کی بہت اہم نظم پر بہت عمدہ گفتگو چل رہی ہے۔ میں ذرا فکشن کی طرف متوجہ ہو گیا تھا لہذا نظم پر اپنی حاضری نہ لگوا سکا، شاید اب بھی میں اپنے آپ کو اس فضا میں نہیں پا رہا ہوں، جو اس قدر عمدہ، گہری اور اپنے آہنگ سے اپنے زمان و مکان تراشنے والی نظم پر ڈھنگ سے بات کر پاؤں۔
یہ بجا طور پر کہا گیا ہے کہ ” سمندراااااااا” محض عنوان کے لیے چنا ہوا ایک لفظ نہیں ہے اور یہ جو سمندر جیسے بصری امیج کو صوتی امیج میں ڈھال لیا گیا ہے تو اس نے اس کی معنویت میں کچھ اور رخوں کو بھی داخل کر دیا ہے۔ اچھا بہ ظاہر یوں لگتا ہے کہ شاعر نے سمندر کے اسم کو نئی تخلیقی امکان کے مقابل کرنے کے لیے الفیائی ایزاد کا سہارا لیا اور بس، مگر آپ جب اسے انوار فطرت کی نظموں کا مجموعہ کھول کر پڑھنا چاہیں گے تو احساس ہوا گا کہ ایزادی الف کی تکرار دور جاتے ہوئے اپنی قامت چھوٹی کرتی جاتی ہے۔ ایسے میں مجھے یہ صدا دور بہت دور جاتے اور معدوم ہوتے لگی اور ساتھ ہی اس صدا کو لگانے والا بے پناہ اذیت کی گود میں گرتا ہوا بھی لگا یوں جیسے اول اول سمندر کو پکارتے ہوئے چھاتی کے اندر گونج اٹھی ہو اور نرخرہ چیرتے ہوئے چیخ بن گئی ہو مگر آخر ایک درد نے اسے دبوچتے ہوئے معدوم کر دیا ہو۔ مجھے یاد ہے 2003 میں انوار فطرت کی نظموں کی کتاب”آب قدیم کے ساحلوں پر” آئی تو اس کے سیاہ سرورق پر عین وسط میں دور تک پانیوں میں ایک جنبش نظر آتی تھی، یہ جنبش جیسے دائیں اور بائیں کو تھی مگر دور افق میں گم ہوتے ہوئے نیل گوں ہو رہی تھی۔ ساتھی ہی پانی کی اس کائنات کو کاٹتی اور افق کو اٹھتی لیکن گھومتی ہوئی روشنی سی بھی تھی جس کے قدموں کا عکس تک ساحل سمندر کی ریت (کہ جو سیاہی میں گم ہو گئی تھی) میں دیکھا جا سکتا تھا۔ یوں کہئیے یہ روشنی کا بدن ایک نور جھپاکے کے سوا کچھ نہ تھا۔ یہ سرورق انوار نے راحت سعید کے ساتھ مل کر بنایا تھا جو کتاب عقبی جلد تک انہی پانیوں کی جنبشوں کو لیے جاتا تھا۔ اس دوسری جانب انوار نے اپنے دستخط کر کے ایک نظم بھی اپنے قاری کو فراہم کر دی تھی۔ پہلی سطر میں لفظ”ّدور” لکھا ہوا تھا مگر یوں نہیں جس طرح میں نے لکھا ہے، یا آپ لکھا کرتے ہیں کہ اس میں دو "و” ایزاد کر لیے گئے تھے۔ جی چاہتا ہے کہ میں انوار فطرت کے تخلیقی مزاج کو سمجھنے کے لیے نظم یہاں نقل کر دوں :
” د و و و ر
میری بے جہت پہنائیوں کے
کسی کنج گم گشتہ میں
دود گماں انگیز کے سناٹوں کے اس پار
وہ آب قدیم گونجتا ہے
جس کے سانولے جزیروں کے ساحلوں پر
میرے خوابوں میں معدوم ہوتے خوابوں کے غول
ورود و غیاب کرتے ہیں اور میری ویران آنکھوں کے مندروں میں
میری ناآسودہ کامناؤں کی
تھکی آتماؤں کے ہونٹ
کسی اسم خفی کے ورد میں
لرزاں رہتے ہیں
خاموشیاں
سرگوشیاں کرتی
ادھر ادھر سرسراتی ہیں ”
(جاری)
محمد حمید شاہد:( (2 جناب صدر!، جس طرح اپنی کتاب کی پیشکش میں آپ انوار فطرت کے ایک الگ طرح کے مزاج کو دیکھ رہے ہیں، اس کی اس نظم میں بھی اسے شناخت کیا جا سکتا ہے۔ اچھایہ تو میں نے بتایا ہی نہیں کہ انوار فطرت نے اپنی کتاب کی جلد کے استر اور اس سے ملحق ورق کو بھی سیاہ رنگ کا رکھا اور جب مجھے کتاب عطا کی محبت سے مخاطب کرنے کے بعد اسی سیاہ استر پراس نے چمکتی ہوئی روشنائی سے، جس میں نیلا رنگ لرزاں تھا، یہ لائنیں بھی لکھ دی تھیں :
"کیسی طلسمات ہے
ہم جو چھوتے ہیں خود کو
تو جیسے نہیں ہیں
جو دیکھیں
تو جیسے ہمارے سوا کچھ نہیں ہے ”
صدر محترم ! مجھے نظم پر بات کرنا چاہئیے اور میں ذاتی باتیں لے کر بیٹھ گیا ہوں۔ میں نے کہا نا، اس وقت میں کہانی کی فضا میں ہوں اور اس شاعر کا وجود بھی اپنی نظموں کے ساتھ کہانی کے بھید بھنوروں کی طرح جڑا ہوا ہے۔ خیر مجھے اعتراف ہے کہ نظم تخلیق کے بعد خود مکتفی ہو جاتی ہے۔ یہ نظم بھی ہو گئی ہے۔
ایک ایسی نظم جس میں خود شاعر کی دوسری نظموں اور اپنے وجود کی دھمک سمائی ہوئی ہے۔
صدر گرامی ” کبود رنگ کارواں ” پر بہت بات ہو چکی، اور جب شاعراس کارواں کو ” دوریوں کے پیچواں سراب” کی جانب جاتے ہوئے دکھاتا ہے تو نیلا رنگ اپنی معنویت بھی قائم کر لیتا ہے کہ یہ دوری، گمرہی اور بے وفائی جیسے مفاہیم کو بھی سمیٹے ہوئے ہیں۔ ” گھنیری شب کا باغ ” جس طرح اپنے نئے معنی قائم کر رہا ہے اس پر یہ اعتراض بلا جواز ہوا جاتا ہے کہ شاعر تو "جہنمی نواح” میں سانس لیتے ہوئے "باغ” کا استعارہ کیوں لے آیا جو "نشاطیہ کیفیت” لئے ہوئے ہے۔ لیجئے مجھے نظم کے اس حصے کو، کہ جس پر بات ہو رہی ہے میں دہرا رہا ہوں، نظم کے عنوان کے ساتھ:
سمندراااااااا
وہ کارواں
کبود رنگ کارواں بھٹک چکے ہیں
دوریوں کے پیچواں سراب میں
گھنیری شب کے باغ سے
تجھے پکارتا ہوں میں
یہاں ما بعد الطبعیاتی حوالہ بھی ذہن میں تازہ رکھتے ہیں اوراساطیری حوالہ بھی، کوئی مضائقہ نہیں کہ اگر” کبود رنگ” اور” سمندر” کی رعایت سے ہم ان سائنسی حوالوں کو بھی ذہن میں حاضر کر لیں جو نظم کے ڈیپ اسٹریکچر میں معنیاتی سلسلہ بنا رہے ہیں۔ درست نشان زد ہوا کہ سمندریہاں تصوف والے "کل” کے معنی دے رہا ہے۔ مگر میں اس سے نقطہ نظر سے اختلاف کروں گا کہ یہاں سمندر ایسے کل کا استعارہ ہو گیا ہے جس کی ا تھاہ گہرائیوں میں زندگی کا روشن دھارا فنا ہو رہا ہے۔ کبود رنگ کارواں کا دوریوں کے پیچواں سراب گم ہونے کے معنی یہ ہیں کہ کل کے ساتھ دوری کا رشتہ قائم ہوا ہے، یہ کارواں دور کبود رنگ ہو چکے مگر پھر بھی اپنی اصل سے کتنا دور جا پائیں گے، سو یہاں "سراب” کا لفظ استعمال ہوئی ہے۔ یہاں اگلی ہی سطر میں جس "گھنیری شب” کے باغ کی بات ہو رہی ہے اسی میں تو یہ کارواں اترا ہوا ہے، اور اس کارواں کے لیے مجموعی طور پر یہ باغ ہے مگر ایک تخلیق کار کے لیے یہ رات کی سیاہی کا سا ہے۔ "باغ ” آپ جانتے ہی ہیں کہ لگایا جاتا ہے، سو انسان نے اپنی تخلیقی جبلت سے منحرف ہو کر جس اشتہا میں اپنی رفتار بڑھائی، اس نے ایک باغ تو بنایا، آسائشوں کا باغ، مگر اپنی اصل میں وہ ایسی رات کا سا ہو گا ہے جس میں ایک تخلیق اس میں پہنچ کر سمندراااااااا پکار اٹھتا ہے۔
محمد حمید شاہد: (3) جناب صدر! یہیں ایک اور وضاحت بھی کیے دیتا ہوں کہ اگرچہ ہم نے سمندر کو "کل” کی صورت شناخت کیا ہے مگر فی الاصل یہ کل نہیں ہے ” کل” کا مظہر ہے۔ ( کیوں اور کیسے ؟، اس کی وضاحت، آپ کی اجازت سے ذرا مؤخر کر رہا ہوں۔ ) اب ہم سہولت سے آگے بڑھ سکتے ہیں کہ تخلیق جس کرب میں مبتلا ہے، اس کی صدا سے سات گنبدوں کے دائروں کا لرزنا، سمندر کے پانیوں کا اپنا دامن سمیٹ لینا کہ ریت بہنے لگے اور شش جہت بگولے چرخ کھانے لگیں، نہ صرف سمجھ میں آنے لگتا ہے ان سوالوں کا جواب بھی ہو جاتا ہے جو ہمارے فاضل دوست نے اس باب میں اوپر اٹھا ئے تھے۔
باقی کے مناظر نظم کے اسی معنیاتی سلسلہ کو لے کر آگے چل رہے ہیں اب موقع آ گیا ہے کہ ہم سمندر کے اندر "تراعکس” دیکھیں، بس ایک عکس نامکمل سا کہ "کل” کا پورا عکس یہ سمندر بھی دکھانے سے معذور ہے، تو تخلیقی آدمی جو اپنی تشنگی اور عدم تکمیلیت کو پا چکا ہے، اس عکس کی جھلک دیکھتا ہے، سمندر کو پکارتا ہے جو کبود رنگ کارواں کی سرابی مہم جوئی کی وجہ سے کچھ اور فاصلہ بنا گیا ہے۔ اچھا دیکھئے کہ وہ سمندر جس کی لہریں ایک تخلیق کار کی سانسوں سے ایک ارتعاش پیدا کر رہی تھیں، عین اسی لمحے گھنیری رات کا باغ بنانے والے کبودی کارواں سے کچھ اور فاصلے پر ہو جاتا ہے۔ یہ فاصلہ ایک طرف تو محض دو قدم کا ہے جب دوسری طرف اسی علاقے جہنم زار پڑتا ہے :
"سلگ رہی ہیں ہڈیاں
رگوں میں دھات کھولتی ہے
گوشت میں جہنموں کا
نہم روز ہے رکا ہوا
فضا میں چرچراتے ماس کی بساند ہے
یہ جہنم زار ہمارا اپنا بنایا ہوا ہے، یہ آدمی ہی ہے کہ اس کے سبب شہر ریت ہو رہے ہیں، بستیوں میں راکھ اڑ رہی ہے، زمین کو چیر کر خود کو چیرا جا رہا ہے، تقسیم کیا جا رہا ہے اور پوری کائنات ریزگی کے سانحہ سے گزر رہی ہے، جی وہ کائنات جو آدمی کا مقدر تھی اس کی چیرہ دستیوں کی وجہ سے اس میں دہکتی ہوئی تیرگی کھولتے ہوئے لاوے کی صورت بہنے لگی ہے۔ ایسے میں ایک تخلیق کار اپنے روح کے کرب کا اظہار سمندر کو مخاطب کرتے ہوئے کرتا ہے تو اس کی صدا میں اپنے کبود رنگ کارواں کے لیے بے پناہ دکھ بھی سمٹ آیا ہے۔
” سمندراااااااا
میرے کبود رنگ کارواں ”
جناب صدر! میں جانتا ہوں کہ نظم میں کہانی کی تلاش بعض احباب کو کھلتی ہے، مگر میرا مسئلہ یہ ہے کہ جو نظم کہانی کا دائرہ (چاہے بہت دھندلا ہی سہی)، بنائے بغیر توڑ دے، مجھے وہ کھلنے لگتی ہے۔ یہ میں اس لیے لازم سمجھتا ہوں کہ اس طرح معنیاتی سطح پر نظم کی جمالیات اپنا چہرہ مکمل کرتی ہے اور آپ جانتے ہی ہیں کہ کٹا پھٹا چہرہ جمیل نہیں ہوتا۔ اس کہانی کی تلاش میں اور شاعر کے مزاج کو سمجھنے کی راہ سے میں نے یہ بھی جانا ہے کہ سیاہ رنگ/گھنیری رات/سایے، آغاز کی جانب دور تک جاتا سلسلہ/ حال کی ناآسودگیاں، کجیاں /مستقبل کی طرف دیکھتی آنکھیں، انسان کا اپنا وجود جو ہے اور نہیں ہے اور اسی طرح سمندر، دور تک اس میں اٹھتی لہریں وغیرہ سب اس کے ہاں مل کر ایک معنیاتی نظام متشکل کرتے ہیں۔ اور ہاں یہ بات بھی کہنا چاہوں گا کہ ابتدا میں "کبود رنگ کارواں ” سے تخاطب کا گماں ضرور ہوتا ہے مگر فی الاصل یہ تخاطب اور کلام، سمندر سے ہے اسی کی توجہ آغاز میں "وہ کارواں ” کہہ کر اور اسے "کبود رنگ” بتا کر، اس کی جانب چاہی گئی ہے۔ یوں اس کا التزام رکھ دیا گیا ہے کہ نظم کا راوی اس کارواں کا حصہ ہوتے ہوئے بھی اس سے مختلف ہے۔ آخر میں تخاطب سمندر ہی سے ہے مگر یہاں لسانی تاثیر بدل گئی کہ "مرے کبود رنگ کارواں ” کو "وہ” کہہ کر نہیں لکھا گیا پڑھتے ہوئے "یہ” کا تاثر خود بہ خود پیدا ہو جاتا ہے اور آہ چھاتی میں گونجنے لگتی ہے۔ خیر، اس نظم میں جس طرح ایک ماورائی منظر بنایا گیا ہے، ما بعد الطبعیات کو حیات کی تفہیم کے لیے برتا گیا ہے، صوتیات سے مصرعے سجل کیے گئے ہیں، عکس کو، پانی کو، ریت کو اور انسانی وجودوں کو دم بہ دم بنتی ایک ویسٹ لینڈ کا رزق ہونے دیا گیا ہے اس نے اس نظم کو بلاشبہ کامیابی سے ہم کنار کیا ہے۔
معید رشیدی: عنوان دیکھ کر جدیدیوں کا کھلنڈرا پن معلوم ہوا، لیکن متن نے تھوڑی دیر کے لیے ذہن کو سُن کر دیا۔ پل میں رائے بدل گئی۔ کیا ہے اس نظم میں ؟ مجھے پوری نظم میں دو کلید حاصل ہوئی۔ ’ سمندر‘اور ’ رات‘۔ دونوں علامتیں ہیں اور اسی سبب مبہم۔ دونوں میں گہرائی اور گیرائی مشترک صفت ہے۔ رات سمندر ہے اور سمندر، رات۔ رات کی بے پایاں سیاہی سمندر کی سیاہ گہرائی سے ملتی ہے۔ بھٹکنے کو تو مسافر دن کے اجالے میں بھی بھٹک جاتے ہیں، لیکن رات کا مسافر مسلسل سراب میں رہتا ہے۔ سمندر اور، رات وجودی استعارے ہیں۔ پوری نظم وجودی مکالمہ ہے۔ سمندر، رات اور ’میں‘۔ نظم کے تین وجودی کردار ہیں۔ ان کا دائرہ ابہام کی جمالیات میں پھیلتا ہے۔ تلازمے معانی کو ربط عطا کرتے ہیں۔ مجھے تفہیم کا سرا نظم کے اختتام سے ملا۔ رات اگر شاعر کا وجودی استعارہ ہے تو ابہام اس کی داخلی ساخت میں موجود ہے۔ یہ قطرے سے دریا بننے کا سفر ہے۔ یہ نظم وجود کے اثبات میں زمان و مکان کی تقلیب کرتی ہے۔ مسئلہ شناخت کا ہے۔ سلگتے سانس سے مرتعش عکس تو ہے۔ سلگتی ہڈیاں، گوشت اور چرچراتے ماس کی بساند بھی ہے۔ یہ مسلسل عصری کرب ہے۔ جسم تو ہے، لیکن شاعر نے اس کی تقلیب کر لی ہے اور تلاش روح کی ہے۔ روح مسلسل وجودی کرب کا شناخت نامہ ہے۔ شاعر خطاب کرتا ہے :
سمندرا اااا
جو دو قدم کا فاصلہ ہے تجھ تلک
وہ کٹ نہیں رہا
مرے سلگتے سانس سے ہے مرتعش
ترا یہ عکس
دائرہ بہ دائرہ
رواں ہے دوریوں کے
بے وجود ساحلوں کی سمت
عکس وجود ہے، لیکن بے وجود ساحلوں کی سمت رواں دواں ہے۔ بے وجود ساحل لا متناہی سفر کا استعارہ ہے۔ جسم [ عکس ] تو موجود ہے، لیکن تلاش روح کی ہے۔ یہاں روح کو کوئی غیر مرئی فرضی یا عنقا شے نہ سمجھاجائے۔ روح وجود کا استعارہ ہے۔ داخلی اجتماعی وجود، اور ایک سطح پر تاریخ۔ [سمندراااااااا] تاریخ انسانی کا عکس، ’ میں‘ کی سلگتی سانسوں سے مرتعش ہے۔ ’ میں‘ تاریخ [ داخلی اجتماعی وجود] کا کلامیہ ہے۔ یہی ڈسکورس متن کو معنی کی طرف لے جاتا ہے۔ ’ میں‘ تاریخ [کبود رنگ کارواں /دوریوں کا پیچواں سراب ] ہی کا جز ہے۔ نظم ’میں‘ کا وجودی شناخت نامہ بن گئی ہے۔ فرد [میں ] یا تو بھیڑ سے الگ ہے یا وہ بھیڑ کا حصہ بن گیا ہے۔ اگر وہ بھیڑ سے الگ ہے تو تاریخ /عصری جبر کے احتجاج کا چہرہ ہو گیا ہے۔ رات داخلی اجتماعی وجود اور تاریخ کا تسلسل ہے۔ وجودی کردار ’ میں‘ رات [ تاریخ ] کے بطن میں اتر کر خود کو مشکوک نگاہوں سے دیکھ رہا ہے۔ جیسے اسے اپنے ہونے کا یقین نہ ہو۔ وہ ماضی کا باغی ہے، لیکن اسے معلوم ہے کہ وہ بھی اسی ماضی کا حال ہے :
امڈ رہی ہے تیرگی
دہکتی تیرگی ازل کی میری سمت
رات اپنی بود و ہست کے لیے
کسی سبب جواز کی
کنیز تو نہیں
اختتام سے سوچ سفر کی کئی راہیں پھوٹتی ہیں۔ موضوع، اسلوب اور برتاؤ کی سطح پر کامیاب نظم کی خوبیاں اس میں موجود ہیں۔
ظفر سیّد: : جنابِ صدر: حاشیہ کے قواعد کی رو سے اجلاس کا وقت تو ختم ہو گیا ہے، لیکن چوں کہ یہ اجلاس خاصی مدت بعد ہوا، اس لیے احباب کو اپنے خیالات مجتمع کرتے کرتے دیر ہو گئی۔ اس لیے گذارش ہے کہ اجلاس کی مدت میں ایک ہفتے کی توسیع کر کے اسے آئندہ جمعے تک بڑھا دیا جائے۔
فیاض احمد وجیہہ: محترمی ظفر سید صاحب آپ کا بے حد شکریہ۔ میں بھی ذاتی طور پر یہی چاہتا تھا۔ اس لیے میں آپ کے اس خیال کی تائید کرتا ہوں۔ امید ہے اراکین حاشیہ بھی اس کی حمایت کریں گے۔
محمد حمید شاہد: تائید جناب
علی محمد فرشی: تائید
جلیل عالی: بجا
ظفر سیّد: : جنابِ صدر، حمید شاہد صاحب نے نظم کے بصری پہلو کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ان کی بات واقعی بہت اہم ہے کیوں کہ نظم میں لفظ ” سمندراااااااا” اس طرح لکھا گیا ہے کہ ہر الف کا سائز بتدریج کم ہوتا چلا جاتا ہے۔ جیسے یہ پکار دوریوں کے سراب میں کھو رہی ہو۔ یونی کوڈ میں اسے واضح کرنا ناممکن ہے، اس لیے میں ایک الگ لڑی میں اس کی تصویری شکل پیش کر رہا ہوں تاکہ جن کے پاس اصل کتاب نہیں ہے وہ بھی اسے دیکھ سکیں۔ اردو میں شاعری کے بصری پہلوؤں پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی لیکن یہ بات واضح ہے کہ انوار فطرت لفظ کے بصری امیج کو بھی نظر میں رکھتے ہیں اور یہ بات ان کی کئی اور نظموں میں بھی نمایاں ہے۔
علی ارمان: رات اپنی بود و ہست کے لیے
کسی سبب جواز کی
کنیز تو نہیں۔ ۔ ۔ واہ کیا اچھی لائن ہے۔ ۔ ۔ بہت کوشش کر رہا ہوں کئی دن سے کہ اس نظم پر کچھ لکھوں کوئی رائے دوں۔ مگر نہیں ہو پا رہا۔ ۔ عموماًایسا تب ہوتا ہے جب نظم مجھے گرفت میں نہیں لیتی۔ ۔ سب احباب کو نظم اچھی لگی۔ ۔ شاید مجھ ہی میں کوئی خرابی ہے۔ ۔
It is a clever poem but somehow it does not grip۔
ظفر سیّد: : جنابِ صدر، میں نے انوار صاحب کو میسج بھیج دیا تھا لیکن ان کی طرف سے جواب موصول نہیں ہوا۔ شاید انہوں نے چند دن سے انٹرنیٹ ہی نہیں کھولا۔ آپ اپنا صدارتی خطبہ پوسٹ کر دیں۔
معید رشیدی: کیا ہی اچھا ہوتا اگر صدارتی خطبے سے قبل انوار صاحب اپنے تاثرات پیش کرتے۔
ظفر سیّد: مثالی طور پر تو یہی ہونا چاہئیے۔ میرے پاس ان کا فون نمبر نہیں ہے، ورنہ میں انہیں کال کر کے بتا دیتا۔ اسی دوران اگر زاہد امروز صاحب بھی اپنے تاثرات پوسٹ کر دیں تو کیا ہی اچھا ہو۔
زاہد امروز: جناب صدر، معذرت کے ساتھ عرض کروں گا ک میں تاخیر سے اس گفتگو کا حصّہ بنا ہوں، اور کافی مصروفیت کی وجہ سے اپنی رائے کا اظہار نہیں کر سکا، اوپر جو گفتگو نظم اور انوار صاحب کی کتاب کے حوالے سے ہوئی، بہت بھرپور ہے۔ میں نے اس کے کچھ حصّے پڑھنے کی کوشش کی ک جان سکوں، کس کس زاویے سے نظم کو پرکھا ور سمجھا گیا ہے، اس قدر طویل اور مدلّل بات چیت کے بعد مزید کچھ کہنے کا جواز نہیں رہا‘‘ گفتگو پہلے ہی مکمّل ہو چکی۔ فرشی صاحب، عالی صاحب اور معید رشیدی صاحب اور دوسرے احباب نے اچھی تفہیم کی ہے۔ میں آئندہ نظم پر گفتگو میں شامل ہوں گا، انوار صاحب کو نظم پر مبارکباد۔
زاہد امروز: ظفر صاحب کا بہت شکریہ
علی محمد فرشی: صدر! کچھ دیر پہلے انوار فطرت صاحب سے ٹیلی فونی گفتگو ہوئی تو معلوم ہوا ان کی طبیعت ناساز تھی، اب قدرے بہتر ہیں اور انھوں نے عندیہ دیا ہے کہ کل تک وہ اپنا نوٹ پیش کر دیں گے۔
جلیل عالی: اچھی بات ہے۔ ان کے تاثرات ضرور سامنے آنے چاہئیں۔
محمد حمید شاہد: ہم منتظر ہیں
علی محمد فرشی: صاحبِ صدارت! انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے والی ہیں۔ صاحبِ نظم کچھ دیر بعد اپنا بیان جاری کرنے والے ہیں۔
انوار فطرت: میں شرمندہ ہوں کہ بروقت جواب نہیں دے پایا۔ دراصل میں ایک Sluggish موٹر سسٹم رکھتا ہوں۔ پانی کے سر سے گزرنے کا انتظار کرتا رہتا ہوں۔ میرے بارے میں چند باتیں علی (محمد فرشی) نے ظاہر کر دی ہیں۔ کچھ ہیں جو انہیں معلوم نہیں اور اگر ہیں تو وہ شاید اخلاقاً سامنے نہ لانا چاہتے ہوں۔ کچھ باتیں اپنے بارے میں خود مجھے معلوم نہیں حال آں کہ میں کچھ بہت زیادہ پیچیدہ بھی نہیں ہوں لیکن یہ صفت میری ہی نہیں کوئی سیدھے سے سیدھا آدمی بھی صاحبِ دانش ہونے کے باوجود اپنی پیچیدگی سے آگاہ نہیں ہوتا۔
سمندر سے میرا تعلق کچھ غیر معمولی سا ہے۔ میں اس کے عشق میں بچپن ہی سے مبتلا ہوں۔ خاص طور پر اس کا بے نہایت اور بزرگ ہونا مجھے بہت اندر تک مسحور کرتا ہے۔ اس کا لہر لہر موجنا اور اس کا کسی فکر میں ڈوبنا، چاندنی رات میں اس کا اپنی عظیم الشان جسامت کے ساتھ قمر زدہ ہو نا، اس کا پراسرار ہونا، میرے لیے کچھ ایسا ہے کہ میں الفاظ میں بیان نہیں کر پاتا۔ علی جو بات نہیں جانتے وہ یہ ہے کہ سمندر میں اترنے کے لیے میں نے اپنی زندگی کے نو برس رائیگاں کیے ہیں بالکل اس طرح جیسے راشد نے جہاں زاد کے عشق میں اپنے کوزوں اور تغاروں سے نو برس منہ موڑے رکھا۔ میں نے ان نو برسوں کے دوران سمندر کے لیے خود اختیاری جلا وطنی اختیار کیے رکھی حتیٰ کہ اپنی کوزہ گری (شاعری) سے وچھوڑے کا کشٹ بھی کاٹا اور اس عرصہ میں کبھی ایک مصرع تو کہنا درکنار مصرع پڑھا تک نہیں لیکن افسوس مجھے سمندر کا وصال نصیب نہ ہو سکا۔ یہ کہانی ایک طرف! اس کا یہ پہلو Paradoxical ہے کہ مجھے سمندر سے ڈر بہت لگتا ہے اور یہ ہی شاید میرے عشق کے خام ہونے کی وجہ ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو میں سمندر میں اترنا بھی چاہتا ہوں اور اس سے خوف زدہ بھی بہت ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے اس کے غصے سے نفرت بھی بہت ہے۔ یوں میرا اس نے Love-hate کا تعلق بھی بنتا ہے۔
بچپن میرا جیسا گزرا اس پر علی نے اتنی ہی روشنی ڈالی جتنی ان کے پاس تھی ورنہ درونِ خانہ تو ہر آدمی بجائے خود ایک سمندر ہے۔ بس اتنا بہت ہے کہ میں خود Love-hate یا Hate love کا شکار رہا ہوں، دم گھونٹ ڈالنے والی تنہائی نے میرا بچپن نگل لیا۔ اکثر لوگوں کو اپنا بچپن بہت رومانٹک لگتا ہے لیکن میں اکثر اس پر لعنت بھیجتا رہتا ہوں البتہ بچے مجھے بہت اچھے لگتے ہیں۔ میں کسی پارک میں بچوں کو کھیلتے، بسورتے اور شرارتیں کرتے دیکھتا اپنی پوری زندگی بتا سکتا ہوں اور اکثر ایک عجب سی خواہش میرے دل میں پیدا ہوتی ہے کہ جب بہت سے گورے، کالے، پیلے بچے میرے سامنے کھیل کود اور شوخیاں کر رہے ہیں تو ایسے ہی میں کہیں موت کا سمندر مجھے اپنی کسی لہر کے ساتھ بہا لے جائے۔
شاید ہی کسی دوست کی میرے بارے میں رائے ہو کہ میں بدمزاج یا غصیلا آدمی ہوں۔ میں نفرت نہیں کر سکتا، ممکن ہے
انوار فطرت: آپ کا دھیان اوپر کی تحریر کی طرف چلا جائے کہ جن حالات و واقعات سے میں گزرا ہوں ان کی روشنی میں تو مجھے بہت مردم بے زار ہونا چاہیے لیکن خوش قسمتی سے میں ایسا نہیں ہوں البتہ کم آمیز ضرور ہوں۔ مجھے میرے دوستوں نے ہمیشہ مسکراتا دیکھا ہے اور شاید ہی کوئی جانتا ہو کہ میں انتہائی غصیلا ہوں یہ الگ بات کہ قہر درویش بر جان درویش کا معاملہ رکھتا ہوں۔ اپنی طرح کے بچپن میں مبتلا لوگوں کو دیکھ کر دل بھر آتا ہے اور انہیں ایسے بچپن میں مبتلا کرنے والوں کے ساتھ میں بہت برا کر ڈالنا چاہتا ہوں۔ آدمی مجھے فطرت کے سامنے بچہ ہی دکھائی دیتا ہے اور جب وہ کسی بچے پر سفاکی کرتی ہے تو میں اسے اجاڑ دینا چاہتا ہوں۔ میں نے سلویا پلاتھ کے بارے میں جب پڑھا تو مجھے لگا میں ہی سلویا ہوں۔ سلویا کا رد عمل خود سوزی تھا میرا جہاں سوزی کی صورت میں سامنے آیا۔ سو یہ نظم عالمِ خوف و غیظ کی پیداوار ہے۔ اس نظم کے لیے سلویا میری Inspiration بنی سو میں نے نظم اسی کے نام کر دی۔ تاہم یہ واحد نظم نہیں جو مجھ پر عالم خوف و غیظ میں وارد ہوئی ہے، اس طرح کی کیفیتیں مجھ پر وقتاً فوقتاً طاری ہوتی رہتی ہیں۔ جن میں میں خود کو توڑتا پھوڑتا رہتا ہوں اور ایسے میں میں ہی کائنات ہوتا ہوں۔ ایسی حالت میں میرا اور کائنات کا ردھم ایک ہو جاتا ہے۔ زیر نظر نظم میں بھی کچھ ایسی ہی قیامت میں نے خود پر بیتی ہے۔ میرا خیال ہے یہ بہت ضروری نہیں کہ تخلیق کار پر اپنی تخلیق بہت وا ہو، میں اپنی بہت سی نظموں سے اب بھی اجنبی ہوں۔ بہرحال میں اس نظم کو درخورِ اعتنا سمجھنے والے تمام دوستوں کا ممنون ہوں ورنہ اتنے مصروف عصر میں کون کسی کے لیے وقت نکال پاتا ہے۔
فیاض احمد وجیہہ: محترم حضرات انوار فطرت صاحب کی نظم سمندرا نا پر ہم سب نے بساط بھر گفتگو کی اور بہت ہی عمدہ گفتگو کی۔ اس کے باوجود یہاں یہ دعوی نہیں کیا جا سکتا کہ ہم نے اس نظم کے تخلیقی محاورہ کو پا لیا ہے۔ کسی بھی نظم کے تخلیقی محاورہ کو پانا یوں بھی آسان نہیں ہوتا۔ خود انوار فطرت صاحب نے اپنے تخلیقی تجربات کے بیان بہت واضح طور پر یہ عرض کیا کہ یہ بہت ضروری نہیں کہ تخلیق کار پر اپنی تخلیق بہت وا ہو، میں اپنی بہت سی نظموں سے اب بھی اجنبی ہوں۔ گویا ہم بحیثیت قاری اس بات پر اصرار نہیں کر سکتے کہ نظم کا تخلیقی سیاق ہم نے اپنے اپنے طور جو سمجھا وہی ہے۔ شاید اسی لیے معنی کی جستجو میں قاری بھی متن کو خلق کرتا ہے اور ابہام کو کھولتا ہے۔ صاحبو میں یہاں آپ کے سامنے کوئی صدارتی خطبہ نہیں دے رہا ہوں بلکہ ایک قاری کی حیثیت سے چند باتیں عرض کرنے کی جرات کر رہا ہوں۔ میں آپ سب سے معذرت بھی چاہتا ہوں کہ بر وقت اس رسم کو ادا نہیں کر سکا۔ لیکن مجھے اس بات کی بے انتہا خوشی ہے کہ اکثر لوگوں نے اس نظم کو انفرادی طور پر دیکھنے کی سعی کی اور کہیں نہ کہیں ایک دوسرے کے خیالات کو بھی اہمیت دی۔ علی محمد فرشی صاحب کی گفتگو ابتدائیہ کے بعد ان معنوں میں غیر معمولی تھی کہ ہم نے اس نظم کے سیاق اور شاعر کے تخلیقی رویے کو اسی وسیلے سے سمجھا۔ تصنیف حیدر صاحب نے ابتدائیہ کے بعد چند باتیں اور کہیں لیکن انہوں نے کسی وجہ سے ان باتوں کی طرف توجہ نہیں کی جس کا مطالبہ ہم نے ان سے کیا تھا۔ اسی طرح جلیل عالی صاحب کے سوالات پر زیادہ گفتگو نہ ہوسکی خود انہوں نے بھی اس طرف توجہ نہیں دی۔ میرے خیال میں ان سوالات کو دیکھنا ضروری تھا۔ اس کے باوجود ہمیں اطمینان ہے کہ اس نظم نے سوالات قائم کیے ہیں جن کو ہم اپنے اپنے طور دیکھنا ضرور چاہیں گے۔ ظفر سید صاحب کی باتیں بیش قیمتی ہیں اور ان سے ایسی بہت سی باتوں پر روشنی پڑتی ہے جن کو ہم بعض سوالات کے ذیل میں غیر معمولی کہہ سکتے ہیں۔ محمد یامین صاحب نے بھی اس نظم کی تخلیق جدت کو نئے معنوں میں قائم کرنے کی کوشش کی۔ اس طرح ہم نے غور کیا کہ نظم کی تخلیقی قواعد پر بھر پور گفتگو کی گئی۔ محترم حمید شاہد صاحب نے دوسرے دور کی گفتگو کو وقار بخشا۔ انہوں نے کبود رنگ کارواں کی تفہیم سے ذرا سا الگ ہو کر بعض ان انسلاکات کو روشن کرنے کی سعی کی جن پر ہم نے کم توجہ دی تھی انہوں نے بعض سوالات کے جواب بھی فراہم کیے اور یہاں کی گئی گفتگو کو بھی اپنی فکشن پسند آنکھ سے دیکھا۔ ان کی باتیں اس لحاظ سے بھی اہم ہیں کہ انہوں نے فرشی صاحب کی طرح ہی شاعر کے تخلیقی پس منظر کو ہمارے سامنے رکھا۔ جناب معید رشیدی نے بھی اس دور کی گفتگو میں حصہ لیا اور اس نظم کے علامتی اور استعاراتی کیف کو محسوس کرتے ہوئے بہت ہی اہم باتیں عرض کیں۔ مجموعی طور پر اراکین حاشیہ نے نظم کی افہام و تفہیم میں خوب حصہ لیا اور اس اجلاس کو کامیاب بنانے میں اہم رول ادا کیا۔ اس اجلاس کا اختتام یہیں ہوتا ہے۔ جلد ہی دوسرے اجلاس کا اعلان کیا جائے گا۔
انوار فطرت: جناب صدر وجیہہ صاحب! آپ نے ساری گفتگو کا نہایت جامع احاطہ کیا۔ میں آپ کے واسطے سے زیف، علی، حمید شاہد، بھائی یامین، عالی صاحب، علی ارمان، تصنیف صاحب، معید صاحب، زاہد اور ان تمام لا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اس نظم پر بات کی اور مجھ کو مجھ پر بھی واضح کیا۔ (رومن سے اردو میں ترجمہ)
٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے