میری ماں کہاں؟ ۔۔۔ کرشنا سوبتی

بہت دن کے بعد اس نے چاند ستارے دیکھے ہیں۔ اب تک وہ کہاں تھا؟ نیچے، نیچے، شاید بہت نیچے۔۔۔ جہاں کی کھائی انسان کے خون سے بھر گئی تھی۔ جہاں اس کے ہاتھ کی صفائی بیشمار گولیوں کی بوچھار کر رہی تھی۔ لیکن، لیکن وہ نیچے نہ تھا۔ وہ تو اپنے نئے وطن کی آزادی کے لئے لڑ رہا تھا۔ وطن کے آگے کوئی سوال نہیں، اپنا کوئی خیال نہیں! تو چار دن سے وہ کہاں تھا؟ کہاں نہیں تھا وہ؟ گجرانوالا، وزیر آباد، لاہور! وہ اور میلوں چیرتی ہوئی ٹرک۔ کتنا گھوما ہے وہ؟ یہ سب کس کے لئے؟ وطن کے لئے، قوم کے لئے اور۔۔۔؟ اور اپنے لئے! نہیں، اسے اپنے سے اتنی محبت نہیں! کیا لمبی سڑک پر کھڑے کھڑے یونس خاں دور دور گاؤں میں آگ کی لپٹیں دیکھ رہا ہے؟ چیخوں کی آواز اس کے لئے نئی نہیں۔ آگ لگنے پر چلّانے میں کوئی نیا پن نہیں۔ اس نے آگ دیکھی ہے۔ آگ میں جلتے بچے دیکھے ہیں، عورتیں اور مرد دیکھے ہیں۔ رات رات بھر جل کر صبح خاک ہو گئے محلوں میں جلے لوگ دیکھے ہیں! وہ دیکھ کر گھبراتا تھوڑے ہی ہے؟ گھبرائے کیوں؟ آزادی بنا خون کے نہیں ملتی، انقلاب بنا خون کے نہیں آتا، اور، اور، اسی انقلاب سے تو اس کا ننھا سا ملک پیدا ہوا ہے! ٹھیک ہے۔ رات دن سب ایک ہو گئے۔ اس کی آنکھیں بے خواب ہیں، لیکن اسے تو لاہور پہنچنا ہے۔ بالکل ٹھیک موقعے پر۔ ایک بھی کافر زندہ نہ رہنے پائے۔ اس ہلکی ہلکی سرد رات میں بھی ‘کافر’ کی بات سوچ کر بلوچ جوان کی آنکھیں خون مارنے لگیں۔ اچانک جیسے ٹوٹی ہوئی کڑی پھر جڑ گئی ہے۔ ٹرک پھر چل پڑی ہے۔ تیز رفتارسے۔

سڑک کے کنارے کنارے موت کی گودی میں سمٹے ہوئے گاؤں، لہلہاتے کھیتوں کے آس پاس لاشوں کے ڈھیر۔ کبھی کبھی دور سے آتی ہوئی ’اللہ اکبر‘ اور ’ہر ہر مہادیوُ کی آوازیں۔ ’ہائے، ہائے‘۔۔۔ ’پکڑو پکڑو۔۔۔‘۔۔۔۔ یونس خاں یہ سب سن رہا ہے۔ بالکل چپ چاپ۔ اس سے کوئی سروکار نہیں اسے۔ وہ تو دیکھ رہا ہے اپنی آنکھوں سے ایک نئی مغلیہ سلطنت، شاندار، پہلے سے کہیں زیادہ بلند۔۔۔۔

چاند نیچے اترتا جا رہا ہے۔ دودھ سی چاندنی نیلی پڑ گئی ہے۔ شاید زمین کا لہو اوپر زہر بن کر پھیل گیا ہے۔

’’دیکھو، ذرا ٹھہرو۔‘‘ یونس خاں کا ہاتھ بریک پر ہے۔ یہ ۔۔ یہ کیا؟ ایک ننھی سی، چھوٹا سا سایہ! سایا؟ نہیں خون سے بھیگی سلوار میں بے ہوش پڑی ایک بچی!

بلوچ نیچے اترتا ہے۔ زخمی ہے شاید! مگر وہ رکا کیوں؟ لاشوں کے لئے کب رکا ہے وہ؟ پر یہ ایک گھائل لڑکی۔۔۔۔ اس سے کیا؟ اس نے ڈھیروں کے ڈھیر دیکھے ہیں عورتوں کے۔۔۔ نہیں، وہ اسے ضرور اٹھا لے گا۔ اگر بچ سکی تو۔۔۔۔ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے یونس خاں خود نہیں سمجھ پا رہا۔۔۔۔ لیکن اب اسے وہ نہ چھوڑ سکے گا۔۔۔ ہے تو کیا؟

بڑے بڑے مضبوط ہاتھوں میں بیہوش لڑکی۔ یونس خاں اسے ایک سیٹ پر لٹاتا ہے۔ بچی کی آنکھیں بند ہیں۔ سر کے کالے گھنے بال شاید گیلے ہیں۔ خون سے اور، اور چہرے پر۔۔۔؟ پیلے چہرے پر۔۔۔ خون کے چھینٹے۔

یونس خاں کی انگلیاں بچی کے بالوں میں ہیں اور بالوں کا خون اس کے ہاتھوں میں۔۔۔ سہلانے کی کوشش میں! پر نہیں، یونس خاں اتنا جذباتی کبھی نہیں تھا۔ اتنا رحم اتنی دیا اس کے ہاتھوں میں کہاں سے اتر آئی ہے؟ وہ خود نہیں جانتا۔بے ہوش بچی ہی کیا جانتی ہے کہ جن ہاتھوں نے اس کے بھائی کو مار کر اس پر حملہ کیا تھا انہیں کے ہم مذہب کے ہاتھ اسے سہلا رہے ہیں!

یونس خاں کے ہاتھوں میں بچی۔۔۔ اس کی قاتل آنکھیں نہیں، اس کی بھیگی آنکھیں دیکھتی ہیں دور کوئٹے میں ایک سرد، بالکل سرد شام میں اس کے ہاتھوں میں بارہ سال کی خوبصورت بہن نورن کا جسم، جسے چھوڑ کر اس کی بیوہ امی نے آنکھیں موند لی تھیں۔

سنسناتی ہوا میں قبرستان میں اس کی پھول سی بہن موت کے دامن میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دنیا سے بے خبر۔۔۔ اور اس پرانی یاد میں کانپتا ہوا یونس خاں کا دل و دماغ۔

آج اسی طرح، بالکل اسی طرح اس کے ہاتھوں میں۔۔۔۔ مگر کہاں ہے وہ یونس خاں جو قتل عام کو دین اور ایمان سمجھ کر چار دن سے خون کی ہولی کھیلتا رہا ہے۔۔۔ ہے؟ کہاں ہے؟

یونس خاں محسوس کر رہا ہے کہ وہ ہل رہا ہے، وہ ڈول رہا ہے۔ وہ کب تک سوچتا جائے گا۔ اسے چلنا چاہئیے، بچی کے زخم!۔۔۔ پھر، ایک بار پھر تھپتھپا کر، عزت کے ساتھ، بھیگی بھیگی ممتا سے بچی کو لٹا کر یونس خاں کسی فوجی کی تیزی سے ٹرک سٹارٹ کرتا ہے۔ اچانک سوجھ جانے والے فرض کی پکار میں۔ اسے پہلے چل دینا چاہئیے تھا۔ ہو سکتا ہے یہ بچی بچ جائے اس کے زخموں کی مرہم پٹّی۔ تیز، تیز اور تیز! ٹرک بھاگی جا رہی ہے۔ دماغ سوچ رہا ہے وہ کیا ہے؟ اسی ایک کے لئے کیوں؟ ہزاروں مر چکے ہیں۔ یہ تو لینے کا دینا ہے۔ وطن کی لڑائی جو ہے! دل کی آواز ہے چپ رہو۔۔۔ معصوم بچوں کی ان قربانیوں کا آزادی کے خون سے کیا تعلق؟ اور ننھی بچی بیہوش، بیخبر۔۔۔

لاہور آنے والا ہے۔ یہ سڑک کے ساتھ ساتھ بچھی ہوئی ریل کی پٹریاں۔ شاہدرہ اور اب ٹرک لاہور کی سڑکوں پر ہے۔ کہاں لے جائے گا وہ؟ مییو ہاسپٹل یا سر گنگا رام؟۔۔۔ کیوں؟ یونس خاں چونکتا ہے۔ وہ کیا اسے لوٹانے جا رہا ہے؟ نہیں، نہیں، اسے اپنے پاس رکھے گا۔ ٹرک مییو ہاسپٹل کے سامنے جا رکتی ہے۔

اور کچھ شن بعد بلوچ چنتا کے سور میں ڈاکٹر سے کہہ رہا ہے، ’’ڈاکٹر، جیسے بھی ہو، ٹھیک کر دو۔۔۔ صحیح سلامت چاہتا ہوں میں!‘‘ اور پھر جذباتی ہو کر، ’’ڈاکٹر، ڈاکٹر۔۔۔‘‘ اس کی آواز قابو میں نہیں رہتی۔

’’ہاں، ہاں، پوری کوشش کریں گے اسے ٹھیک کرنے کی۔‘‘

بچی ہاسپٹل میں پڑی ہے۔ یونس خاں اپنی ڈیوٹی پر ہے مگر کچھ انمنا سامنا حیران فکر مند۔ پیٹرول کر رہا ہے۔

لاہور کی بڑی بڑی سڑکوں پر۔ کہیں کہیں رات کی لگی ہوئی آگ سے دھواں نکل رہا ہے۔ کبھی کبھی ڈرے ہوئے، سہمے ہوئے لوگوں کی ٹولیاں کچھ فوجیوں کے ساتھ نظر آتی ہیں۔ کہیں اس کے اپنے ساتھی شہدوں کے ٹولوں کو اشارہ کر کے ہنس رہے ہیں۔ کہیں کوڑا کرکٹ کی طرح آدمیوں کی لاشیں پڑی ہیں۔ کہیں اجاڑ پڑی سڑکوں پر ننگی عورتیں، بیچ بیچ میں نعرے نعرے، اور اونچے! اور یونس خاں، جس کے ہاتھ کل تک خوب چل رہے تھے، آج جیسے بے حس و حرکت ہیں۔ شام کو لوٹتے ہوئے جلدی جلدی قدم بھرتا ہے۔ وہ اسپتال نہیں، جیسے گھر جا رہا ہے۔

ایک انجان بچی کے لئے کیوں گھبراہٹ ہے اسے؟ وہ لڑکی مسلمان نہیں، ہندو ہے، ہندو ہے۔

دروازے سے پلنگ تک جانا اسے دور، بہت دور جانا لگ رہا ہے۔ لمبے لمبے ڈگ۔

لوہے کے پلنگ پر بچی لیٹی ہے۔ سفید پٹیوں سے بندھا سر۔ کسی بھیانک منظر کے تصور سے آنکھیں اب بھی بند ہیں۔ سندر سے بھولے چہرے پر ڈر کا بھیانک سایہ۔۔۔۔

یونس خاں کیسے مخاطب کرے؟ کیا کہے؟ ‘نورن’ نام ہونٹوں پر آ کے رکتا ہے۔ ہاتھ آگے بڑھتے ہیں۔ چھوٹے سے زخمی سر کا لمس، جس نرمی سے اس کی انگلیاں چھو رہی ہیں اتنی ہی بھاری آواز اس کے گلے میں رک گئی ہے۔

اچانک بچی ہلتی ہے۔ زخمی سے لہجے میں، جیسے بیہوشی میں بڑبڑاتی ہے

’’کیمپ، کیمپ۔۔۔ آ گیا۔ بھاگو۔۔۔‘‘

’’کچھ نہیں، کچھ نہیں دیکھو، آنکھیں کھولو۔۔۔‘‘

’’آگ، آگ۔۔۔ گولی۔۔۔‘‘

بچی اسے پاس جھکے دیکھتی ہے اور چیخ مارتی ہے۔۔۔

’’ڈاکٹر، ڈاکٹر۔۔۔، اسے اچھا کر دو۔‘‘

ڈاکٹر تجربہ کار آنکھوں سے دیکھ کر کہتا ہے، ’’تم سے ڈرتی ہے۔ یہ کافر ہے، اسی لئے۔‘‘

کافر۔۔۔ یونس خاں کے کان جھنجھنا رہے ہیں، کافر۔۔۔ کافر۔۔۔ کیوں بچایا جائے اسے؟ کافر؟۔۔۔ نہیں۔۔۔ اسے اپنے پاس رکھوں گا!

اسی طرح بیت گئی وہ خونی راتیں۔ یونس خاں بے چین سا اپنی ڈیوٹی پر اور بچی ہاسپٹل میں۔

ایک دن۔ بچی اچھی ہونے کو آئی۔ یونس خاں آج اسے لے جائے گا۔ ڈیوٹی سے لوٹنے کے بعد وہ اس وارڈ میں آ کھڑا ہوا۔

بچی بڑی بڑی آنکھوں سے دیکھتی ہے۔ اس کی آنکھوں میں ڈر ہے، نفرت ہے اور، اور، اندیشے ہیں۔

یونس خاں بچی کا سر سہلاتا ہے، بچی کانپ جاتی ہے! اسے لگتا ہے کہ ہاتھ گلا دبوچ دیں گے۔ بچی سہم کر پلکیں موند لیتی ہے! کچھ سمجھ نہیں پاتی۔ کہاں ہے وہ؟ اور یہ بلوچ؟۔۔۔ بھیانک رات! اور اس کا بھائی! ایک جھٹکے کے ساتھ اسے یاد آتا ہے کہ بھائی کی گردن گنڈاسے سے دور جا پڑی تھی!

یونس خاں دیکھتا ہے اور دھیمے سے کہتا ہے، ’’اچھی ہو نا! اب گھر چلیں گے!‘‘

بچی کانپ کر سر ہلاتی ہے، ’’نہیں نہیں، گھر۔۔۔ کہاں ہے! مجھے تم مار ڈالو گے۔‘‘

یونس خاں دیکھنا چاہتا تھا نورن لیکن یہ نورن نہیں، کوئی انجان ہے جو اسے دیکھتے ہی خوف سے سکڑ جاتی ہے۔

بچی سہمی سی رک رک کر کہتی ہے، ’’گھر نہیں، مجھے کیمپ میں بھیج دو۔ یہاں مجھے مار دیں گے۔۔۔ مار دیں گے۔۔۔‘‘

یونس خاں کی پلکیں جھک جاتی ہیں۔ ان کے نیچے فوجی کی سختی نہیں، طاقت نہیں، حق نہیں۔ ان کے نیچے ہے ایک نا قابل برداشت ذبہ، ایک مجبوری۔۔۔۔

بلوچ پیار سے بچی کو دیکھتا ہے۔ کون بچا ہو گا اس کا؟ وہ اسے پاس رکھے گا۔ بلوچ کسی انجان سی محبت میں بھیگا جا رہا ہے۔۔۔

بچی کو ایک بار مسکراتے ہوئے تھپتھپاتا ہے، ’’چلو چلو، کوئی فکر نہیں ہم تمہارا اپنا ہے۔۔۔‘‘

ٹرک میں یونس خاں کے ساتھ بیٹھ کر بچی سوچتی ہے، بلوچ کہیں اکیلے میں جا کر اسے ضرور مار دینے والا ہے۔۔۔ سے چھرے سے! بچی بلوچ کا ہاتھ پکڑ لیتی ہے، ’’خان، مجھے مت مارنا۔۔۔ مت۔۔۔‘‘ اس کا سنفید پڑا چہرہ بتا رہا ہے کہ وہ ڈر رہی ہے۔

خان بچی کے سر پر ہاتھ رکھے کہتا ہے، ’’نہیں نہیں، کوئی ڈر نہیں۔۔۔ ڈر نہیں۔۔۔ ہمارا سگا کے مافق ہے۔۔۔۔‘‘

یکایک لڑکی پہلے خان کا منھ نوچنے لگتی ہے پھر رو روکر کہتی ہے، ’’مجھے کیمپ میں چھوڑ دو چھوڑ دو مجھے۔‘‘

خان نے ہمدردی سے سمجھایا، ’’صبر کرو، روؤ نہیں۔۔۔ ہمارا بچہ بن کے رہے گا۔ ہمارے پاس۔‘‘

’’نہیں‘‘ لڑکی خان کی چھاتی پر مٹھیاں مارنے لگی، ’’تم مسلمان ہو۔۔۔۔‘‘

ایکا ایک لڑکی نفرت سے چیخنے لگی، ’’میری ماں کہاں ہے! میرے بھائی کہاں ہیں! میری بہن کہاں۔۔‘‘

OOO

۔۔۔ہندی سے رسم الخط کی تبدیلی اور برائے نام ترجمہ: اعجاز عبید

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے