منزل بے منزلی۔۔۔ فیروز عابد

 

میں نے گھبرا کر اپنی ماں کی طرف دیکھا

’’نہیں بیٹا سب ٹھیک ہے ذرا سا پھسل گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔‘‘

’’ماں تمہیں چوٹ تو نہیں لگی۔۔۔۔۔۔‘‘ میرے دل کا سارا درد میری آنکھوں میں اتر آیا۔

’’بوڑھی عمر میں ایسا ہوتا ہے بیٹے، تیری آنکھیں کیوں بھر آئیں، پگلا کہیں کا‘‘

’’پاپا ذرا سنھبل کر چلئے، اس طرح آپ کرتے رہے اور آپ کو کچھ ہو گیا تو کیا میں اپنی نوکری چھوڑ کر آپ کے پیچھے لگا رہوں گا۔۔۔۔‘‘

میرے بیٹے کی آنکھوں میں چنگاریاں بھر آئی تھیں۔

میں نے پھر پلٹ کر دیکھا ارشد علی اپنی ماں سے لپٹا زار و قطار رو رہا ہے۔

’’اماں آپ یہاں کیوں آ گئیں۔  آپ کی پوتیاں آپ کو بے حد یاد کرتی ہیں اور روتی ہیں۔  گھر میں کس چیز کی کمی ہے۔  آپ نے بچپن میں ہمیشہ یہ کہا تھا، ماں کے پاؤں کے نیچے جنت ہے، پھر آپ نے اپنے قدموں کو مجھ سے کیوں دور کر لیا ہے، آپ کی بہو تو آپ سے بے حد پیار کرتی ہے، پھر ایسا کیوں کیا اماں آپ نے، گھر چلئے کہ آپ کے بغیر میری زندگی ادھوری ہے۔۔۔۔‘‘

میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ آنا چاہتی ہے مگر دور میرے گھر کے پچھواڑے میرا بیٹا کھڑا ہے جو مجھے اس لئے ڈانٹ رہا ہے کہ میں ڈالیا کے پودے لگا رہا ہوں ’’ہاتھوں میں رعشہ پڑ گیا ہے اور آپ کو پودے لگانے کو سوجھی ہے، ہاتھوں کو زخمی کر کے ہمیں مصیبت میں ڈالئے گا آپ گھر میں چپکے بیٹھ نہیں سکتے۔۔۔۔‘‘

لیڈی برابون ماؤتھ آرگن بجا رہی ہے۔  آواز بڑی ہلکی ہے۔  اب انہیں زوروں کی کھانسی نے آ گھیرا ہے۔  میں انہیں سنبھالنے کے لیے اٹھنا چاہتا ہوں مگر اس سے پہلے ارشد علی نے انہیں آرام کرسی پر لٹا دیا ہے۔  لیڈی برابون کی آنکھوں میں انتظار ہے، اپنے بیٹے کا انتظار جو اسے اس ہوم میں یہ وعدہ کر کے رکھ گیا ہے وہ بہت Busy ہے اور ماں کی دیکھ ریکھ ٹھیک سے نہیں کر سکتاوہ اس سے روز ملتا رہے گا۔  آج ایک ماہ ہونے کو آئے لیڈی برابون کا بیٹا اس سے ملنے نہیں آیا۔

ارشد علی نے اپنی ماں کو اس ہوم میں نہیں رکھا لیکن وہ ہر شام اس سے ملنے یہ امید لے کر آتا ہے کہ اس کی ماں اس کے سوئیٹ ہوم میں جائے گی جس کی مٹھاس اس کے یہاں آ جانے سے گم ہو گئی ہے۔

’’پاپا کو بوڑھوں کے ہوم میں کیوں نہیں بھجوا دیتے۔  ان کی تیمار داری پر کتنا خرچ کرو گے۔۔۔۔۔ ہمیں اپنے بچوں کے بارے میں سوچنا ہے کہ نہیں۔۔۔۔۔۔‘‘

میری بیوی کی آواز میں صدیوں کا فاصلہ تھا۔

’’میرا بیٹا کب آئے گا۔۔۔۔۔ وہ بہت Busy رہتا ہے۔  اس سے کہنا مجھ سے کبھی کبھی مل لے۔۔۔۔  ’’لیڈی برابون ارشد علی سے کہہ رہی ہیں۔  اب وہ نورمل ہو گئی ہیں۔ لیکن ارشد علی کے چہرے پر دکھ اور حیرت دونوں کے سایے ہیں۔  میں نے ارشد علی کو متوجہ کرنے کے لئے کھانسنا شروع کر دیا ہے۔

آپ رات بھر کھانستے رہتے ہیں اور سبھوں کی نیند خراب کرتے ہیں۔  آپ کو جو دوا دی جاتی ہے وہ آپ کھاتے ہیں یا پھینک دیتے ہیں اپنا نہیں تو ہمارے آرام کا خیال کیجیے۔۔۔۔۔۔‘‘ میرا بیٹا اب آرام کا مفہوم سمجھنے لگا ہے۔

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے