اردو ادب میں جدید افسانوی صورتحال ۔۔۔ محمد اختر گوندل

آج اردو ادب تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے جہاں ایک طرف نت نئی اصناف وقت کی ضرورت کے تحت پیدا ہو رہی ہیں تو دوسری طرف پہلے سے موجود اصناف میں فنی اور فکری سطح پر انقلابی تبدیلیاں دونوں سطحوں پر ہو رہی ہیں یعنی ادب تخلیق کرنے والے اور ادب پڑھنے والے اس سے براہ راست متاثر ہو رہے ہیں پوری دنیا میں آئے روز تبدیلیاں وقوع پذیر ہو رہی ہیں ادب میں نئے نئے تجربات کیے جا رہے ہیں مقابلے کی فضا قائم ہے عالمی سطح پر اردو ادب کی شناخت برقرار رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے ادب کو جدید رجحانات اور دوسرے عالمی ادب کے ہم پلہ بنانے کے لیے خود کو رجعت پسندی قدامت پسندی سے آزاد کر کے ایک معیاری ادب تخلیق کریں جو ہر سطح پر اپنی شناخت قائم کرے یہی وقت کی ضرورت بھی ہے اور تقاضہ بھی۔

میرا ماننا ہے کہ دنیا ارتقائی عمل سے گزر رہی ہے، اس لئے زندگی کے ہر شعبہ میں تبدیلیاں واقع ہو رہی ہیں اور رجحانات بدل رہے ہیں۔ علم و آگہی میں اس قدر وسعت آئی ہے کہ وہ اَن گنت پرتوں میں منقسم ہو گئی ہے اور ہر پرت کا اپنا فلسفہ ہے۔ اس لئے فلسفہ کی پرانی حیثیت پر اصرار نہیں کیا جا سکتا۔ یہی کچھ معاملہ ادب کا ہے۔ ہر دور کے اپنے تقاضے اور ضروریات ہوتی ہیں۔

آج اردو ادب کے انداز اور موضوعات کے تنوع میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، جس نے شاعری، افسانے، ناول اور تنقید نگاری میں انیسویں صدی کے رومانوی اور بیسویں صدی کے مزاحمتی رنگ کے ساتھ نئے موضوعات پر طبع آزمائی کی راہ کھولی ہے۔ خاص طور پر افسانہ نے انیسویں صدی کے اوائل میں تیزی کے ساتھ اردو ادب میں اپنی جگہ بنائی تھی۔

منشی پریم چند سے شروع ہونے والی افسانہ کی روایت نے کرشن چندر، عصمت چغتائی، سعادت حسن منٹو، راجندر سنگھ بیدی اور ابوالفضل صدیقی سمیت ان گنت افسانہ نگاروں نے ہندوستانی معاشرے کی نفسیاتی کیفیت، دم توڑتی سماجی روایات اور اس کے معروضی سیاسی حالات کی عکاسی کر کے ایک نئی شناخت دی۔ پھر تقسیم ہند کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاملات و مسائل افسانہ نگاروں کے موضوعات بنے، خاص طور پر سعادت حسن منٹو اور احمد ندیم قاسمی نے اس موضوع پر معرکۃ الآرا افسانے تحریر کئے۔

ڈاکٹر احسن فاروقی، نعیم آوری سے انتظار حسین اور زاہدہ حنا تک اردو افسانہ کئی جہتیں اختیار کر چکا ہے۔ آج کا افسانہ اور ناول سماجی ناہمواریوں، معاشرے میں بڑھتے ہوئے نفسیاتی معاملات و مسائل اور گلوبلائزیشن کی حشر سامانیوں سمیت ان گنت موضوعات کو اپنے اندر سمیٹ رہا ہے۔

اردو ادب میں عموماً اور افسانوی ادب میں خصوصاً بڑے پیمانے پر تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں ایک نئی نسل جو افسانوی ادب تخلیق کر رہی ہے وہ ادب بلاشبہ معیاری ادب بھی ہے اور غیر معیاری بھی، مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ایسا معیاری ادب تخلیق کریں جو ہر سطح پر اپنی شناخت قائم کرے یہی وقت کی ضرورت بھی ہے اور تقاضہ بھی۔

اردو ادب میں جدید افسانوی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اردو فکشن کے سرمائے میں بنیادی حیثیت مختصر افسانے اور ناول کو حاصل رہی ہے اس لحاظ سے اردو فکشن نے اب تک تقریباً ڈیڑھ صدی کا لمبا سفر طے کیا ہے اور اس ایک سو پچاس سالہ دور میں اردو افسانوی ادب میں فنی، فکری اور موضوعاتی سطح پر بہت وسعت ہوئی ہے۔ ڈپٹی نذیر احمد کا ناول مراۃ العروس مرزا ہادی رسوا کا ناول امراؤ جان ادا اور عبد الحلیم شرر کا ناول فردوس بریں بیسویں صدی کے اواخر کے بہترین ناول قرار دیئے جا سکتے ہیں افسانے کے اعتبار سے افسانوی ادب کو پانچ ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے پہلا دور بیسیوں صدی کی ابتداء کا ہے جب فکشن ناول تک محدود تھا اور فنی اور موضوعاتی سطح پر نذیر احمد کے ناولوں سے امراؤ جان ادا تک سارے تجربات اسی میں کیئے جا رہے تھے۔ دوسرے دور کو ۱۹۳۶ء تک لے جایا جا سکتا ہے جب افسانہ منظر عام پر آیا اور اس میں اصلاح بندی، حب الوطنی، اور مثالیت پسندی کا رجحان غالب رہا تیسرا دور ۱۹۳۶ء سے ۱۹۶۰ء تک ہو سکتا ہے جس میں حقیقت نگاری، اشتراکیت اور رومان پسندی کی لہر ملتی ہے۔ چوتھے دور کو ۱۹۶۰ء سے ۱۹۸۰ء تک پھیلا سکتے ہیں جب فکشن بالخصوص افسانے میں داخلی حقیقت نگاری علامت نگاری، ابہام، پیچیدگی، انسان کی بے چہرگی اور اقدار کی شکست و ریخت کو بنیادی اہمیت حاصل رہی اور قاری کو بڑی حد تک نظر انداز کر دیا گیا اور پانچواں دور جدید دور بھی کہلاتا ہے۔

۱۹۸۰ء سے لے کر آج تک کا جو زمانہ ہے یہ دور نئی تلاش اور نئی بصیرت کا منظر نامہ سامنے لایا جسے اردو فکشن کی واپسی کا زمانہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس زمانہ میں افسانوی ادب نے غیر ضروری اور نامانوس علامتوں سے دامن چھڑا کر ایک نئے تیور کے ساتھ زندگی کا ہاتھ تھاما انتظار حسین، قاضی عبد الستار، الیاس احمد گدی، شفیع جاوید، احمد یوسف، نیر مسعود، عبد اللہ حسین، عابد سہیل، مستنصر حسین تارڑ، اقبال مجید، عبد الصمد، بانو قدسیہ، اشفاق احمد، حسین الحق، مشتاق احمد نوری، شموئل احمد، شوکت حیات، صلاح الدین پرویز، آفاقی، سلام بن رزاق، جوگندر پال، مشرف عالم ذوقی، طارق چھتاری، ترنم ریاض، شفق، غضنفر، ساجد رشید، قاسم خورشید، مظہر الزماں خاں، غزال ضیغم، نسیم حجازی رشید امجد، شاہد اختر، عشرت ظفر، عبید قمر، بلراج بخشی اے حمید، ابن صفی، خاقان ساجد، عمیرہ احمد، فرحت اشتیاق، محمد حمید شاہد، آغاسلیم، ابو الفضل صدیقی، احمد داؤد، احمد ندیم قاسمی، انیس ناگی، رضیہ بٹ، شوکت صدیقی، شوکت تھانوی، غلام الثقلین نقوی، فاطمہ ثریا بجیا، محمد منشا یاد، ممتاز مفتی اور مرزا حامد بیگ اور رحمان عباس جیسے بہت سارے افسانہ نگاروں اور ناول نگاروں نے فکشن کی حسیت میں تبدیلی لانے کی شعوری کوشش کی ان سب نے مل کر تھیم، ہیئت اور محاورہ کا ایک بڑا حلقہ پیدا کیا جس نے اردو ناول اور افسانہ کو اچانک، ضرورت مند اور مختلف بنا دیا۔ عالمی ادب میں ناول اور افسانے کی پیش رفت اور اس کے تخلیقی امکانات کی توثیق سے ان کی ادبی حیثیت مسلم ہو گی۔ اب افسانہ اور ناول محض تفنن طبع کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ اعلیٰ فن پاروں کی طرح زندگی، معاشرے اور کائنات کے راز ہائے سربستہ کی بصیرت افروزی کا موثر وسیلہ بھی بن گئے ہیں۔

جدید افسانوی ادب کا یہ دور اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ کہانی کا کینوس تمام براعظموں تک پھیل گیا ہے جس سے ہمارا ناول نگار اور افسانہ نگار عالمی انسانی برادری کو ایک اکائی کے روپ میں دیکھنے دکھانے پرکھنے اور تجربہ کرنے پر قادر ہو گیا ہے۔ یعنی یہ بات اب بآسانی کہی جا سکتی ہے کہ اردو افسانوی اصناف اب روزبروز ترقی کر رہی ہیں اور ایک وسیع اور امکان خیز اصناف کے طور پر اپنی انفرادیت منوا چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ پروفیسر گوپی چند نارنگ نے نئی صدی کو اردو فکشن کی صدی قرار دے دیا۔ اگر بات صرف افسانے کی کی جائے تو اردو افسانہ عہد حاضر کی سب سے مقبول صنف نہ سہی مگر اردو نثر کی مقبول ترین صنف ضرور رہی ہے۔ اردو میں افسانے کی ایک ثروت روایت رہی ہے زندگی کے درد بھرے اور سکھ بھرے منظر ناموں سے افسانہ ہمیں روشناس کرواتا ہے افسانے میں تاریخ ثقافت اور ہم عصر زندگی نمو پاتی ہے کہا جاتا رہا ہے کہ افسانہ زندگی کا نقیب ہے اس صنف سے عصری آگہی کا علم ہوتا ہے کیوں کہ افسانے کی جڑیں زمین میں پیوست ہیں وہ زمینی حقائق کی بات کرتا ہے ہم عصر اردو افسانہ گویا تفہیم زندگی کا کردار خوش اسلوبی سے انجام دے رہا ہے افسانے کی روایت پر اگر سرسری نظر ڈالی جائی تو وہ کچھ زیادہ پرانی نہیں ہے۔

بیسویں صدی کے آغاز میں پریم چند، سجاد حیدر یلدرم اور راشدالخیری سے باقاعدہ ایک اردو میں اس صنف کی ابتدا ملتی ہے اور موضوعات میں کچھ زیادہ تنوع بھی نہیں تھا محض ادب برائے ادب کے نظریہ فن کے تحت رومانیت کی تحریک کا غلبہ نظر آتا ہے مگر آگے چل کر منٹو، بیدی اور احمد ندیم قاسمی کے ہاں ترقی پسندانہ موضوعات جنم لیتے ہیں ۱۹۳۰ء کے بعد لکھے جانے والے اکثر بیشتر افسانوں اور ناولوں میں عام آدمی کے موضوعات کو شامل کر کے ادب برائے ادب کے نظریہ فن کے غلبے کو اتار کر ادب برائے مقصد اور ادب برائے زندگی کے نظریہ فن کا رجحان پروان چڑھتا نظر آتا ہے وقت کے ساتھ ساتھ تکنیکی طور پر بھی افسانے اور ناولوں میں نئی نئی تراکیب، معنویت، اظہار کے پیرائے جنم لیتے رہے کبھی رومانیت سے ہٹ کر ترقی پسندانہ رجحانات غالب آ گئے تو کبھی علامت نگاری، آ زاد لازمہ خیال، شعور کی رو اور جادوئی حقیقت نگاری اچانک پن جیسے حربے استعمال کر کے مقصد کے ساتھ ساتھ قاری کو دلچسپی کے سحر میں گرفتار کر دیا گیا۔ ناول اور افسانوں کو سیاسی مقاصد کے لیے بھی ایک ٹول کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی گئی جسے پروپیگنڈا کہا گیا۱۹۶۰ء کی دہائی میں لکھے جانے والے افسانے تقسیم ہند، بغاوت، ظلم بربریت نا انصانی کے موضوعات پر تھے جب کہ حقیقت نگاری بھی اسی دور میں ادب میں شامل ہونے لگی مگر ۱۹۸۰ء کے بعد اردو ادب میں افسانوی ادب کا جائزہ لیا جائے تو حیرت انگیز خوشگوار معنی خیز با مقصد دلچسپ افسانے ناول اور ڈرامے وغیرہ ملتے ہیں جن میں بتدریج ارتقائی منازل عمودی سمت میں بڑھتی ہوئی نظر آتی ہیں جو ایک اچھی علامت ہے نہ صرف ادیبوں کے لیے بلکہ قارئین اور دوسرے اہل زبان اردو دان طبقے کے لیے بھی۔ نئے لکھنے والوں میں ہزاروں کی تعداد میں نوجوان اپنی ادبی تخلیقات کا لوہا منوا رہے ہیں۔

اس نوجوان نسل میں اہم نام میمونہ خورشید علی، عائشہ خان، لبنیٰ شہزادی، رفعت سراج، مایا ملک، نعیمہ ناز، رخسانہ نگار عدنان، انیقہ محمد بیگ، آصفہ عنبرین قاضی، روحیلہ خان، ترنم ریاض، رضیہ مہدی، مریم عزیز، فرحت بیگ وغیرہ شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے اس نئی صدی کو اردو فکشن کی صدی قرار دے دیا ہے ان کے اس بیان پر ایک بڑا حلقہ چیں بجیں بھی ہوا حالانکہ اس بیان میں کوئی قابل اعتراض یا تعجب خیز وجہ نظر نہیں آتی موجودہ صدی کو اردو فکشن کے نام معنون کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اردو شاعری کم رتبہ ہو گئی یا آج اردو شاعری رو بہ زوال ہے۔ ایسا ہو ہی نہیں سکتا شاعری کے بغیر ادب کا تصور نا ممکن ہے ہماری شاعری کی مرکزیت غزل سے ہے اور غزل کو اردو میں وہی درجہ دیا جاتا ہے جو ہندوستانی تہذیب میں تاج محل کو حاصل ہے سات آٹھ سو سالوں کے ہند اسلامی کلچر کی جو روح اردو شاعری بالخصوص غزل میں سمٹ آئی ہے اس کا جواب نہیں لیکن آج غزل کے پہلو بہ پہلو افسانہ نے بھی اپنا مقام بنا لیا ہے، کوئی ایک صنف ادب میں کسی دوسری صنف کو دباتی نہیں ہے ادب کو مزید دولت مند بناتی ہے۔ غزل اور شاعری کی اہمیت بلاشبہ اپنی جگہ مسلم ہے لیکن آج فکشن کی اہمیت کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ اردو فقط شاعری کی زبان نہیں۔ پریم چند، منٹو، عینی آپا، انتظار حسین، جوگندر پال، عبد الصمد، سلام بن رزاق، مشرف عالم ذوقی، طارق چھتاری، غضنفر، حسین الحق، شفیع جاوید، رحمان عباس، صادقہ نواب سحر، شائستہ فاخری اور احمد صغیر کی زبان بھی ہے۔ اس کا ہرگز مطلب نہ سمجھا جائے کہ شاعری کار تبہ افسانے سے کم ہے۔

در اصل ادب میں فوقی درجہ نہیں رکھا جاتا۔ ایسی اصناف ادب جو بنیادی طور سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں ایک پیمانے سے جانچی نہیں جا سکتیں۔ ایس تمام اصناف کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے خواہ وہ شاعری ہو، افسانہ ہو، ڈرامہ ہو یا ناول۔ ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ افسانہ یا کہانی کا کینوس بہت چھوٹا ہوتا ہے۔ اس لیے یہ دوسرے درجے کا ادب ہے۔ اب بھلا حضرت معترض سے کون کہے کہ شاعری میں تو ہماری پہچان غزل ہے جس کا ہر شعر منفرد اور مکمل ہوتا ہے اس سے چھوٹا پیمانہ اور کیا ہو سکتا ہے ؟ دو یا صرف دو مصرعوں پر مشتمل ہوتا ہے اور ہائکو کے لیے تین مصرعے جبکہ رباعی چار مصرعوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ در اصل ادب کی شناخت چھوٹے بڑے پیمانوں سے نہیں ہوتی بلکہ اس کی انفرادیت اور پیش کش اس کو شناخت عطا کرتی ہے کوئی صنف پارہ قاری کے جمالیاتی تقاضوں کی کس حد تک تکمیل کر رہا ہے یا قاری کے تہذیبی اور جذباتی عناصر کی کس قدر نمائندگی کر رہا ہے یہ باتیں فن پارے کو پہچان دیتی ہیں۔ فکشن ہماری تہذیب، ہمارے جذبات اور ہمارے جمالیاتی تقاضوں کی تکمیل ہزاروں سال سے کر رہا ہے اس لیے پیمانوں اصولوں اور درجہ بندی وغیرہ کے اعتراضات سے اس کی اہمیت کو کم نہیں کیا جا سکتا اسے افسانے کا جادو ہی کہا جائے گا کہ وہ صنف جس میں اعلیٰ درجہ کے ادب کی تخلیق نا ممکن قرار دی گئی تھی بعد میں توجہ کا مرکز بن گئی اور گزشتہ پندرہ بیس برسوں میں سب سے زیادہ سمینار، مذاکرے، جلسے، افسانہ اور افسانے کی تنقید پر ہوئے جن میں ان لوگوں نے بھی حصہ لیا جو اسے قابل اعتنا ہی نہیں سمجھتے تھے۔ آج ہندوستان اور پاکستان کی ادبی فضا میں افسانوی ادب کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ہے اور کتاب و رسائل کا بڑا حصہ افسانہ اور افسانے پر گفتگو کا احاطہ کر رہا ہے نامور نقاد اور دانشور شمس الرحمٰن فاروقی اعتراف کرتے ہیں کہ:

’’اردو معاشرے میں عمومی طور پر قرۃ العین حیدر، انتظار حسین اور عبد اللہ حسین کا ناول ان کے معاصر شعراء سے بڑھ کر ہے اور اس میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ منٹو کا کلیات آج سرحد کے دونوں طرف کے شعراء کے کلیات سے زیادہ فروخت ہوتا ہے۔۔ ۔ پڑھنے والوں کے مختلف حلقوں میں بہت زیادہ اور بہت دور تک پھیلنے کی صلاحیت رکھنے کے باعث فکشن میں بیان کردہ واقعات، صورت، حالات، کردار، فوری سطح پر متوجہ اور برانگیخت کرتے ہیں اور پڑھنے والے ان کے بارے میں گفتگو بھی فوری سطح پر کرتے ہیں‘‘۔ (۱)

چنانچہ آج جہاں ایک طرف انتظار حسین اور قاضی عبد الستار کے علاوہ جیلانی بانو، بانو قدسیہ، جوگندر پال، عبد الصمد، اقبال مجید، سلام بن رزاق، حسین الحق، شموئل احمد، غضنفر اور ذوقی وغیرہ جیسے اہم اور مقبول عام فکشن نگار شب و روز افسانے کی دنیا کو وسعت بخشنے میں مصروف ہیں وہیں پروفیسر گوپی چند نارنگ، شمس الرحمن فاروقی، شمیم حنفی، سید محمد عقیل، مہدی جعفر، اسلم آزاد، اعجاز علی ارشد، ابو الکلام قاسمی، خورشید احمد، علی احمد فاطمی، ارتضیٰ کریم، حقانی القاسمی، صغیر افراہیم، کوثر مظہری، مولا بخش، اسلم جمشید پوری، سرور الہٰدی اور معید رشیدی وغیرہ فکشن کی نظریاتی اور عملی تنقید کے نہایت عمدہ نمونے پیش کر رہے ہیں اور یہ سلسلہ روز بروز قوی تر ہوتا جا رہا ہے۔

اردو افسانہ آج ایک نئی منزل سے آغوش ہے اس کی دنیا نہایت وسیع ہو چکی ہے۔ مسلسل نئے افسانوی مجموعے شائع ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر حسین الحق، شوکت حیات، شموئل احمد، عبد الصمد، جابر حسین، شفیع جاوید، مشرف عالم ذوقی، غضنفر، احمد صغیر، قا سم خورشید، رحمان شاہی، شائستہ فاخری، اسلم جمشید پوری، اختر آزاد، سید احمد قادری، شبیر احمد رحمان عباس، رخسانہ صدیقی اور اشرف جہاں وغیرہ کے نئے افسانوی مجموعے اپنے وسیع کینوس کی وجہ سے نہ صرف قاری کو متاثر کرتے ہیں بلکہ موضوعاتی طور پر ہمیں نئی دنیا اور نئے آفاق سے روشناس کراتے ہیں۔ بم دھماکے، کشمیر کا مسئلہ، بڑھتی ہوئی آبادی، فرقہ واریت کے معاملات، ریپ کے انسانیت سوز واقعات، رشوت کی گرم ستانی، سیاسی قدروں کی پامالی، تشدد اور جنسی تشدد کی بھیانک شکلیں، تیسری جنگ عظیم کا خطرہ، ملکی اور غیر ملکی سیاست کی خود غرضی، غربت، جہالت، استحصال، امریکہ کی دوسرے ملکوں کو محکوم بنانے کی چالیں، فلسطین پر یہودیوں کا قبضہ، سیاسی بازی گروں کا لسانی تشدد کی بنا پر علیحدگی کی فضا قائم کرنا، ذات پات اور بھید بھاؤ کے نام پر عوام کو تقسیم کرنا، بے ہودہ رسوم و رواج، نوجوان نسل کا تمام اخلاقی اقدار کو پامال کرنا، تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط کی کمی، موبائل فون، انٹرنیٹ اور ٹی وی کا غلط استعمال، جنسی ہیجان انگیزی، منشیات کی سودے بازی، بے حیائی اور حرام کاری کی طرف انسان کے بڑھتے قدم، نمود و نمائش اور حرام خوری، بے روزگاری، ماحولیاتی کثافت اقلیتی طبقہ کے تئیں حکومت کے معاندانہ رویے اور اس کا سماجی، سیاسی استحصال، کالا بازاری، انتظامیہ کی بے بسی، لاقانونیت، سرمایہ کاری کا عروج، حکومت اور عوام کے بیچ بڑھتی ہوئی خلیج، سیکولر ازم کے نام پر عوام کا سیاسی استحصال، حکومت پر عوام کا عدم اعتماد، لسانی مذہبی اور ملکی تعصب، نسلی امتیاز، دہشت گردی، بنیاد پرست، مغربی تہذیب کا بڑھتا ہوا اثر، ہم جنسی کی تحریک، نئی نسل کی اپنی تہذیبی اور اخلاقی روایات سے بیزاری، نئی اور پرانی نسل کا ذہنی تصادم، تاریخی واقعات، لوٹ مار قتل و غارت گری وغیرہ کو اپنے افسانوں اور ناولوں کا موضوع بنا کر بڑی مہارت اور ہنر مندی سے عہد حاضر کی زندگی اور اس کی سفاک حقیقتوں کی ترجمانی کا فریضہ دینے کی سعی کی اس کے علاوہ مذکورہ موضوعات کو ہمارے ادیب اپنی کہانیوں میں بڑی شدت اور حقیقت کے ساتھ برت رہے ہیں اس لیے آج کا افسانہ اور ناول پہلے کے افسانوں اور ناولوں سے کافی حد تک مختلف ہے۔ آج کا ادیب زندگی کے مختلف پہلوؤں کو کمال ہوشیاری سے واشگاف کرنا چاہتا ہے کہانی کا یہ نیا منظر نامہ نئے فلسفوں اور نئے حقائق کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ یہ تلاش کہاں تک پہنچے گی ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا لیکن سچائی کے ساتھ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ نئی سپاٹ بیانیہ کا شکار نہیں ہے اور نہ آئندہ ہو گی۔ ایک طرف جدت اور حقیقت پسندی کے امتزاج سے نئے کولاژ تعمیر ہو رہے ہیں اور دوسری طرف تیزی سے بدلتی دنیائیں اردو کہانیوں کا موضوع بن رہی ہیں۔ مشہور فلسفی روسونے کہا تھا کہ کوئی بھی سماج یا کوئی بھی عہد صرف دو حالات میں سانس لیتا ہے، تبدیلی سے پہلے اور تبدیلی کے بعد، شاید ہمارا عہد اور اردو افسانہ دونوں ایک بڑی تبدیلی کے دور میں قدم رکھ چکے ہیں۔ افسانے کا قاری بہت خاموشی سے اس بدلتے منظر نامے کو دیکھ رہا ہے کون جانے وہ کس تبدیلی کو قبول کرتا ہے اور کسے رد کر دیتا ہے۔

افسانہ لکھنے کے لیے جس سنجیدگی اور ریاصنت کی ضرورت ہوتی ہے، افسانے کی تنقید و تفہیم بھی اتنا ہی صبر طلب اور مشکل کام ہے کیونکہ یہ نقاد سے متعدد تقاضے کرتی ہے۔ مثلاً پوری کہانی پر نظر ہونا، کہانی کی جزئیات، زبان، قصہ پن اور فن قصہ نگاری سے واقفیت، اسلوب اور موضوع میں ہم آہنگی وغیرہ افسانے کی تنقید کے اہم اجزاء ہیں جو نقاد سے گہرے اور مسلسل توجہ کا تقاضا کرتے ہیں۔ کسی افسانہ نگار کی قدر سنجی کے لیے اس کی جملہ تخلیقات کے علاوہ پورے افسانوی ادب کا مطالعہ بھی خاصا وقت طلب اور پیچیدہ عمل ہے۔ شاید اسی لیے پروفیسر گوپی چند نارنگ نے لکھا ہے کہ: ’’اچھے شعر کا معاملہ نسبتاً اتنا مشکل نہیں اچھی کہانی کے ساتھ بہت کچھ جھیلنا پڑتا ہے‘‘ (۲)

اس کا مطلب یہ قطعی نہیں کہ شاعری کی تنقید کم مایہ ہوتی ہے بلکہ اردو زبان زبان کی تاریخ و تہذیب نے وہ مخصوص ذہن پیدا کر دیا ہے کہ ادب کی تعبیر و تفہیم کا عمل شاعری سے شروع ہوتا ہے اور اکثر شاعری پر ہی ختم ہوتا ہے۔ ایک عظیم کلاسیکی ورثے کے طور پر بھی شاعری نقادوں کے لیے ہمیشہ توجہ کا مرکز رہی ہے۔ شاید اسی لیے ہمارے بعض ناقدین فکشن کی تنقید میں بھی شاعری کی تنقید کی طرح اشاریوں، کنایوں اور علامتوں میں بات کرنے کے فلیش میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ جن کی تحریریں بعض اوقات علامتی افسانوں سے بھی زیادہ گنجلک اور ثقیل ہو جاتی ہیں دوسری طرف بعض نقاد فکشن کی روح کو چھونے کی بجائے اسے نثری روپ میں منتقل کر کے اس کی تلخیص پیش کرنے کو ہی غایت نقد سمجھ بیٹھے ہیں، جبکہ اصل مقصد یہ جاننا ہے کہ افسانہ یا ناول کن لسانی اور ہیئتی مسائل کو کام میں لا کر تخلیق کا درجہ حاصل کر سکا ہے۔ فکشن کے مطالعے کے ضمن میں کرداروں، واقعات، تہذیب و معاشرے اور سماجی و نفسیاتی عوامل کے ساتھ کلیدی اہمیت اس لسانی برتاؤ کو حاصل ہے جو کہانی کی تشکیل کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہانی کا ہر جملہ اور ہر لفظ اور اس کا بر محل استعمال اور اس کے سیاسی تلازمات تخلیقی تجربے کو مشکل کرتے ہیں۔ ادب کو غیر ادب سے جو چیز امتیاز بخشتی ہے وہ ہے ’’اسلوب‘‘۔ یہ بات فکشن پر سب سے زیادہ صادق اس لیے آتی ہے کہ فکشن نگار کا مقصد قاری تک صرف کہانی، کردار، فضا اور معاشرتی، بشریاتی اور ثقافتی معلومات، پہچانا نہیں بلکہ کہانی کے لسانی برتاؤ سے کرداروں کے اندرونی تضادات جذباتی تہہ داریوں اور حیات و کائنات کی پیچیدہ اور مشکل سے مشکل آگہی سے اسے باقاعدہ متعارف کرانا بھی ہے، چنانچہ نقاد کے لیے ضروری ہے کہ وہ کہانی کا اسلوبیاتی و لسانی تجزیہ کر کے اس تجربے کو بھی پہچاننے کی سعی کرے جس نے افسانے یا ناول کو تخلیقی شناخت عطا کیا ہے اور جس نے کہانی میں طلسمی کیف و اثر پیدا کر دیا ہے، فکشن کی اسلوبیاتی و لسانی ساخت کا ایسا ہی مطالعہ تنقید کے تفاعل کو متعین کرتا ہے۔

یہ عہد جدید متن لفظ اور معنی کے سلسلے میں نئے سوالات کا حامل ہے اس عہد کا ناول اور افسانہ ایک بڑی دنیا کو لے کر آیا ہے جس میں کمپیوٹر، سوپر کمپیوٹر، سائبر اسپیس، اسمارٹ فون اور گلوبل ولیج کا تصور کلیدی صورت اختیار کر گیا ہے، فکشن کے نقاد کے لیے یہ امتحان کی گھڑی ہے کہ وہ ان پرانے ٹولز سے جن سے وہ منٹو، بیدی اور کرشن چندر کی کہانیوں کو پرکھتا تھا اب جابر حسین، شوکت حیات، شموئل احمد، ذوقی، غضنفر، شائستہ فاخری، اختر آزاد، اسلم جمشید پوری وغیرہ کو نہیں پرکھ سکتا۔ آج کے افسانہ نگاروں نے اسلوب تکنیک اور بیانیہ کی سطح پر جو تجربات کئے ہیں اور عہد نو کی زندگی اور اس کے پر پیچ خط و خال کو افسانے کے ذریعے جس طرح پیش کیا ہے وہ اپنی جگہ فکشن کا ایک نیا استعارہ نیا منظر نامہ ہے۔ اس نئے استعارے اور منظر نامے کو جدید تنقید بغیر ٹولز کے نہ تو گرفت میں لے سکتی ہے اور نہ اس کی نئی منزلوں کا عرفان پیش کر سکتی ہے۔

افسانے کے حوالے سے محمد سلیم الرحمن لکھتے ہیں:

’’اس وقت پاکستان میں جو افسانہ لکھا جا رہا ہے وہ حقیقت پسندی، ترقی پسندی، علامت نگاری، ساحرانہ واقعیت پسندی، نفسیاتی ایچ پیچ اور تجرباتی پینتروں کا ملغوبہ ہے۔ ایسے عہد میں جس کی وحشت ناک برق رفتاری، ذاتی زندگی کو اخفا میں رکھنے کی اہلیت میں ناکامی اور ہر کسی پر ہر وقت نظر رکھنے کے چکر نے ہر جگہ معاشروں کو ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں کوئی بھی غیر محتاط اگلا قدم ہمہ گیر تباہی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ فکشن کے لیے راہ فرار کوئی نہیں۔ ہر لکھنے والا اگر وہ اپنے فن سے اور اردگرد کی پیچیدہ زندگی سے انصاف کرنا چاہتا ہے، مجبور ہے کہ کوئی نیا رویہ اختیار کرے‘‘۔ (۳)

اکیسویں صدی میں افسانوی ادب میں نئے رجحانات، نئے موضوعات بڑی تیزی سے شامل ہو رہے ہیں، فنی اور فکری سطح پر بھی بہت سی تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔ فرد سے آگے معاشرہ اور معاشرہ سے مزید آگے پوری دنیا ادب کا موضوع بن گئی ہے۔ سائنس تاریخی، لسانی، مذہبی، سیاسی، سماجی، معاشی میدانوں میں جس قدر وسعت اور نئی دریافت و ایجادات ہو رہی ہیں آج کا افسانہ اور ناول ان میں سے اپنے موضوعات کا تعین کرتا ہے۔ اکیسویں صدی میں لکھے جانے والے افسانوی ادب سے پہلے بیسویں صدی کے ربع آخر کا جائزہ لیتے ہیں اور ان موضوعات اور رجحانات کی نشاندہی کرتے ہیں جو اکیسویں صدی کے ناول اور افسانے میں شامل ہوئے۔

پاکستان میں ۱۹۸۰ء کے بعد کا ناول نئے موضوعات، نئے رجحانات، نئے اسالیب، مادے کے جدید ٹریٹمنٹ اور ہیئتی تجربات، اگرچہ وہ محدود پیمانے پر تھے، "بستی” کا بڑا چرچا تھا۔ اس نے اپنے قارئین کو ایک نئے ذائقے سے روشناس کرایا تھا جس کے باعث اس پر خاصی بحثیں بھی ہوئیں۔ انتظار حسین کے اس ناول "بستی” میں ابلاغ کا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا تھا اور یہ ہی ان کی کامیابی کا راز بھی تھا۔ ماضی کی یادوں کے حوالے سے بہت سے ناقدین یہ سمجھتے تھے کہ ناسٹلجیا ان کے اعصاب پر سوار ہے اور اس الجھاؤ سے وہ کبھی باہر نہیں نکل پائیں گے۔ در اصل ناول کے ضمن میں یہ مطالعاتی عدم ادراک ہمارے اس علاقے میں ہمیشہ سے ذہنی طور پر وجود میں رہا ہے کہ کسی طرح بھی ناول نگار کو ہدف بنا کر اس پر خاص لیبل چپکایا جائے اس کی سب سے بڑی مثال "آگ کا دریا” ہے جس نے قرۃ العین حیدر کیلئے بڑے مسائل پیدا کئے۔ نتیجے کے طور پر وہ ہجرت کر گئیں۔

انتظار حسین لاہور میں جدیدیوں سے ہٹ کر ترقی پسندادیبوں میں گھرے رہے، ادیبوں کے گڑھ "کافی ہاؤس” میں کیسی کیسی نظریاتی و سیاسی بحثیں نہ ہوتی ہوں گی، انتظار حسین نے ایسے ہی بہت سے کرداروں پر ناولاتی نقاب ڈال کر ماحول کی حقیقت پسندانہ عکاسی کی۔ ان کا یہ کمال رہا ہے کہ حقیقی کرداروں کو "تذکرہ” ۱۹۸۷ء اور "آگے سمندر ہے” ۱۹۹۵ء تک میں پیش کرتے رہے۔ جس میں قارئین کیلئے چاشنی کا سامان پیدا ہوتا رہا اور پھر ماضی کی چاہت رکھنے والوں کے لئے ناسٹلجیا یقیناً پر کشش ہوتا تھا۔

ڈاکٹر سلیم اختر اپنے ایک مضمون "ناول پس منظر اور پیش منظر” میں ناول کے بارے میں کچھ اس طرح کا اظہار کرتے ہیں کہ ہیئت، اسالیب اور رجحانات کے اعتبار سے پاکستان میں ۱۹۸۰ء کے آغاز اور بعد کا ناول نئے ذائقوں سے روشناس کراتا ہے۔ اتفاق سے اس دہائی میں ناول کی تخلیق کی رفتار میں خاصی تیزی آئی۔ حجاب امتیاز علی نے نئے ناولوں کی پر اسرار رومانی فضا جو ان کے ناول "ظالم محبت” سے قائم تھی ڈاکٹر گار، شوشوئی، زوناش اور روحی کے حوالوں سے پھر سے پیدا کی ہے۔ ان کا ناول "پاگل خانہ”۱۹۸۰ء سائنسی فینٹیسی ہے۔ حجاب مرحومہ نے اپنی پر اسرار رومانی فضا برقرار رکھتے ہوئے ایٹمی جنگ کے انتہائی ہولناک اثرات کا اثبات کرایا ہے۔

جس طرح "بستی” نے اپنے پڑھنے والوں کو اس کی ہیئت، اسلوب اور تکنیک اور ناسٹلجیائی ماجرے سے جس کے ساتھ سماجی اور جدید سیاسی منظر نامہ جڑ اہوا تھا چونکایا تھا اسی طرح سے انیس ناگی نے اپنے ناول "دیوار کے پیچھے سے” سے چونکایا ہے۔ اس طرح کی باتیں اس سے قبل اس طرح سے ناول میں اس خطے میں پیش نہیں ہوئی تھیں۔ واضع رہے کہ انیس ناگی جو جدیدیت کے حامی رہے ہیں ناول میں انہوں نے مناظر، مکالموں، بیانیہ اور علامتوں کو ایک نئے مگر خفیف سے پیچیدہ، اسلوب میں پیش کیا ہے، تاہم مطالعیت مجروح نہیں ہوتی۔

انور سجاد، جن کے سوچنے کا زاویہ ترقی پسندانہ ہے اپنے ناول کا ہیئتی اسٹرکچر جدیدیت کے تحت استوار کرتے ہیں۔ ان کا ناول "خوشیوں کا باغ”۱۹۸۱ء ایک سال بعد ظہور میں آتا ہے جسے راقم الحروف کے مطابق پڑھنے والے ایک ہی ناول کے دو رخ کے طور پر دیکھتے رہے ہیں۔ اس ناول میں انور سجاد نے یہ تاثر دیا ہے کہ مغرب کے ہاتھوں تیسری دنیا میں جو سیاسی، معاشی اور معاشرتی اتھل پتھل پیدا ہوئی ہے اس سے عام انسان شدید طور سے متاثر ہوتا ہے۔

"راجہ گدھ” ۱۹۸۱ء بانو قدسیہ کا ناول ہے۔ اس کی ماجرائی اہمیت اس امر میں پوشیدہ ہے کہ اس میں رزقِ حلال اور رزقِ حرام کے انسانی زندگی میں نفسیاتی و عملی اثرات کے تھیم کو برتا گیا ہے۔ خود اس ملک میں اسلامی نشاۃ الثانیہ کی باز گشت سنائی دینے لگتی تھی اور یہ تاثر عام ہو رہا تھا کہ اخلاقی زوال، بے سمتی، ذات کی شکست و ریخت اور بے مقصدیت و غیرہ اپنی انتہاؤں کو چھو رہی ہے۔ بانو قدسیہ کا گھرانہ صوفی ازم اقدار کو اہمیت دیتارہا ہے۔ لہذا بانو قدسیہ نے دین اسلام کے احکامات میں رزق حرام کے بھیانک اثرات کے پہلو سے اپنا ماجرا اخذ کیا۔

"جنت کی تلاش” رحیم گل کا ناول ہے جو ۱۹۸۱ء میں منظر عام پر آیا۔ پورے ناول کا تانا بانا ایک زود حساس لڑکی امتل کے گرد بنا گیا ہے۔ اس ناول میں رحیم گل کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے دلائل در دلائل کے لئے اپنے ذہن کو استعمال کیا ہے۔

عبد اللہ حسین کا ناول "باگھ” ۱۹۸۲ء میں سامنے آتا ہے لیکن اس میں "اداس نسلیں” جیسی مطالعاتی کشش نہیں تھی شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ اداس نسلیں کا کینوس پہلی جنگِ عظیم سے لے کر قیام پاکستان تک، کے قارئین کو ماجرے کے اعتبار سے بہت مرغوب تھا۔ یہ وہ موضوع تھا جو آگ کا دریا، لہو کے پھول، آنگن وغیرہ کو اعتبار بخشتا تھا اور شاید ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہے گا کہ آزادی کی جد و جہد میں جانوں کا ضائع ہونا انسانوں کی عظیم قربانی اور برے بھلے نتائج جن کیلئے فیض کو کہنا پڑا تھا کہ۔ یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر۔ یعنی خوابوں کی حقیقی تعبیر کی گمشدگی۔ اداس نسلیں کی طرح اس ناول کا تھیم بھی پاکستان اور محبت ہے۔

۱۹۸۲ء میں غلام الثقلین نقوی کا ناول "میرا گاؤں” سامنے آتا ہے۔ یہ ایک ایسا دیہی معاشرت کی عکاسی کرنے والا ناول ہے جو راقم الحروف کے مطابق زندگی کے جمال و جلال کی پیشکش کرتا ہے۔ اس گاؤں کا جمال پیار، محبت، خلوص، رواداری، قربانی، دوستی، کرم نوازی اور انسانی ہمدردی کا ماحول ہے۔ اس کے برعکس اسی معاشرے میں جاگیردارانہ زندگی سے پھوٹا ہوا جال استحصال، تکبر، نفرت، تعصبات، گروہ بندی اور شرپسندوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ ناول کا خاتمہ مثبت اور تعمیری ہے۔ اس کا دوسرا رخ غلام عباس کا مختصر ناول "گوندنی والا تکیہ” ۱۹۸۳ء ہے جس میں گاؤں کی زندگی کا سیدھا سادہ بیان ہے یہ ریڈیو پاکستان کے رسالے "آہنگ” میں قسط وار چھپا تھا۔

۱۹۸۳ء میں دو عشروں کے بعد خدیجہ مستور مرحومہ نے "زمین” نامی ناول پیش کیا جس سے ان کی ناول نگاری کے فن کا گراف بمقابلہ "آنگن” بلند تو نہیں ہوا لیکن "زمین” کی اپنی ایک علیحدہ شناخت تھی۔ آنگن کا قصہ جہاں پر ختم ہوتا ہے وہیں سے زمین کا قصہ شروع ہوتا ہے۔ یہ ناول ایک اچھا طنزیہ ہے ان لوگوں پر جو تھے کچھ اور مگر بنے کچھ اور۔ اس ناول میں ان سیاسی کرداروں کو پیش کیا گیا ہے جو جمہوریت، روشن خیالی، امن و آشتی اور اعلی اقدار کی مٹی پلید کر رہے تھے۔

۱۹۸۳ء میں ہی "چہرہ بہ چہرہ روبرو” اور”تلاشِ بہاراں” جیسے ناولوں کی فنکار جمیلہ ہاشمی نے منصور بن حلاج نامی غیر مفاہمتی ذہن کے حامل باغیانہ مسلم کردار کی زندگی کی عکاسی کیلئے "دشت سوس” لکھا جو اسلامی تاریخی رجحان کے ذیل میں رکھ کر دیکھا اور پرکھا جاتا ہے۔ جس طرح "چہرہ بہ چہرہ روبرو” کی قرۃ العین طاہرہ ایک شعلہ بیاں باغی شاعرہ تھی اسی طرح منصور بن حلاج بھی ایک ایسا ہی کردار تھا۔

۱۹۸۴ء میں فہیم اعظمی جو زیادہ تر ابلاغ کا مسئلہ پیدا کرنے والے افسانے لکھتے تھے اچانک ناول نگار کی حیثیت سے سامنے آئے۔ اس میں ہیئت بالکل ہی توڑ دی اور اس کو ایسے عجیب و غریب تجرباتی بیانیہ میں ملفوف کر کے پیش کیا کہ اسے کسی بھی صفحے سے پڑھ کرکسی بھی صفحے پر ختم کرنے سے ان کا نقطہ نظر قاری کے ذہن سے محو نہیں ہوتا۔ اس ناول میں بے یقینی، تشکیک، ریشنیلٹی، ار ریشنیلٹی، ایسرڈٹی، بے اعتمادی اور ہمہ گیر آسودگی کا شکار کردار نظر آتے ہیں۔

بیسویں صدی کی آٹھویں دہائی میں سقوطِ ڈھاکہ سابق مشرقی پاکستان پر کوئی خاطر خواہ ناول نہیں سامنے آئے ورنہ جس قدر یہ عظیم المیہ تھا لکھنے والوں کی تعداد اور معیار اس کے مقابلے میں بہت کم رہا۔ تاہم اردو افسانے میں اس کا اظہار مختلف انداز سے ہوا خاص طور پر وہ اردو افسانہ اور ناول نگار جو سابق مشرقی پاکستان سے کسی نہ کسی طرح یہاں آ کر مقیم ہوئے انہوں نے اس موضوع پر خوب لکھا۔ البتہ یہاں چار ناول نگاروں نے اس موضوع کو اپنے اپنے لحاظ سے برتنے کی کوشش کی گو کہ اس پر کوئی بڑا ناول نہیں آیا جو اس المیہ کے حوالے سے ایسا یونیورسل ناول بن جاتا جس کے آئینے میں ہم دنیا کے ان ممالک کو بھی دیکھ سکتے جن کے علاقے ان سے الگ ہو کر علیحدہ بن گئے۔ چلئے اتنا تو ہوا کہ ان چاروں فنکاروں جن میں الطاف فاطمہ (چلتا مسافر۱۹۸۱ء) ، طارق محمود (اللہ میگھ دے ۱۹۸۶ء) ، رضیہ فصیح احمد (صدیوں کی زنجیر۱۹۸۸ء) اور سلمی اعوان (تنہا۱۹۸۹ء) نے اس موضوع کو برت کر فرضِ کفایہ ادا کیا۔ چونکہ ان ناولوں کا موضوع بنگلہ دیش کا قیام اور اس کا پس منظر تھا اس لئے ان سب کو ایک ہی جگہ رکھ کر دیکھا گیا جو کہ آٹھویں دہائی میں سامنے آئے۔

"دستک نہ دو” سے شہرت حاصل کرنے والی ناول نگار الطاف فاطمہ نے ان کرداروں کو برتا ہے جو بہار سے لٹے پٹے مشرقی پاکستان پہنچے یہ سب پاکستان کی محبت میں سرشار تھے اور اب پاکستان کے شہری بننے پر فخر محسوس کرتے تھے۔ بہر حال یہ ناول سقوطِ ڈھاکہ کے موضوع پر ہمیشہ دستادیز کی حیثیت قائم رکھے گا۔ اس موضوع پر طارق محمود نے "اللہ میگھ دے” نامی ناول ۱۹۸۶ء میں تحریر کیا۔ یہ ناول اس اندوہ ناک سیاست کا احاطہ کرتا ہے جو یونیورسٹیوں سے نکل کر سڑکوں پر آئی اور حقوق کے حصول کی ایک ایسی جنگ بنی جس میں ہزاروں بے گناہ مارے گئے۔

کئی ناولوں کی مصنفہ رضیہ فصیح احمد نے "صدیوں کی زنجیر” ۱۹۸۸ء میں پیش کیا۔ یہ ایک طویل ناول ہے جو بنگلہ دیش کے قیام سے کئی عشروں سے قبل کی سماجی و معاشرتی تاریخ سے آغاز کرتا ہے اور اس کا اخری حصہ سقوط ڈھاکہ پر ختم ہو کر ایک دلدوز داستان پہچان بن جاتا ہے۔ سلمی اعوان کا تخلیق کردہ ناول "تنہا” ۱۹۸۹ء میں منظر عام پر آیا جس کا چرچا اس طرح سے تو نہ ہوا جس طرح ہونا چاہئے تھا۔ حالانکہ اس پر تنقیدی گفتگو ضروری تھی۔ یہ ناول مشرقی پاکستان کے المیے کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتا ہے اور ایک اہم تاریخی دستاویز کا ثبوت ہے۔ واضع رہے کہ سلمی اعوان نے پاکستان کی سالمیت اور اتحاد کے حامی کی حیثیت سے یہ ناول تصنیف کیا تھا۔

"تنہا” کے بعد جو دوسرا ناول منظر پر آیا وہ "سحر ہونے تک” تھا۔ اتفاق سے دونوں ناول پاکستان کے معروف رسالے "اردو ڈائجسٹ” میں شائع ہوئے تھے لیکن” سحر ہونے تک” ۱۹۸۹ء تک کتابی صورت میں سامنے آیا یہ فضل احمد کریم فضلی کے پہلے ناول "خون جگر ہونے تک” کا دوسرا حصہ تھا۔ فضل کریم بیوروکریٹ تھے اور انہوں نے اپنی سروس کا خاصا حصہ قحط بنگال کے دوران بنگال میں گزارا تھا۔ انہوں نے وہاں جو سماجی، معاشی، سیاسی اور تہذیبی ماحول دیکھا اسے کرداروں کے ذریعے حقیقت پسندانہ انداز میں گرفت میں لینے والے اسلوب میں ناول کے قلب میں سمو دیا جس سے یہ ناول قحط بنگال پر موثر فکشن کی قابلِ حوالہ پہچان بھی بن گیا۔

مجموعی طور پر ۱۹۸۰ء سے ۱۹۸۹ء تک پاکستان میں موضوعاتی تنوع میں فکری پیٹرن نیز نئی تکنیکوں کے خلاقانہ استعمال یا برتاؤ کے حوالے سے اچھے ناول وجود میں آئے جن کا نوٹس لیا جانا ضروری تھا اس لئے کہ ان پر تنقیدی رد عمل سامنے نہیں آیا تھا۔

بیسویں صدی کی آخری دہائی میں ناول کی تخلیق کی رفتار تو وہی رہی لیکن سب کا اتنا چرچا نہیں ہوا جتنا کہ ہونا چاہئے تھا اس سے مراد وہی ہے یعنی تنقیدی و تحقیقی رد عمل۔ محض دوچار ناقدین کے لکھنے سے مکمل رجحان نہیں پنپتا۔ بہر صورت اس آخری دس سال میں قارئین کو چہار دیواری، آگے سمندر ہے، قید، راکھ، قلعہ جنگی اورجانگلوس جسیے ناولوں کے علاوہ دیگر ناول بھی پڑھنے کو ملے۔

انیس ناگی کا ناول "محاصرہ”۱۹۹۲ء میں منظر عام پر آیا۔ لاہور کی جدید زندگی جس میں انڈر ورلڈ بھی شامل ہو چکی تھی اس کے قصے کا اہم حصہ تھا۔ ۱۹۹۳ء میں مستنصر حسین تارڑ کا ناول بہاؤ سامنے آتا ہے۔ یہ ناول ایک خاص طرز کا ہے جس کی اصل اہمیت کا اندازہ ایک عرصے بعد ہوا۔ اس میں تاریخ، علم البشریات، لسانیات، عمرانیات، ایک مخصوص خطے کا بنتا بگڑتا جغرافیہ اور تمدن سب ایک نکتے پر جمع ہو کر دلچسپ و حیرت انگیز تحریر کا روپ دھار لیتے ہیں۔

۱۹۹۵ء میں عبد اللہ حسین کا مختصر سا ناول بعنوان "قید” وجود میں آیا اس کا ماجرا محیرالعقول ہونے کے ناطے قابل بحث ہے۔ ناول "معتوب” ۱۹۹۵ء میں سامنے آیا۔ یہ ناول افسانہ نگار امراؤ طارق کا پہلا ناول ہے۔ جو موضوعاتی، اسلوبیاتی اور تکنیکی سطحوں پر اپنا اثبات کراتا ہے۔ ۱۹۹۵ء میں ہی انتظار حسین نے ناول کی دنیا میں "آگے سمندر ہے” کی شکل میں کیا اور اس کا عنوان قارئین کو چونکاتا ہے اور اپنی جگہ معنی خیز ہے۔ کراچی میں ہندوستان کے مختلف علاقوں سے آنے والوں کا میل ملاپ ہوا اس سے سماجی و معاشرتی ماحول میں ایک ندرت پیدا ہوئی ایسا دنیا کے ہر اس علاقے میں ہوتا آیا ہے جہاں ہجرت والوں کا اجتماع ہوا ہے۔ اس اجتماع سے جو مزاح، گفتگو، معاشرتی رکھ رکھاؤ، عادت و اطوار اور بے ضرر تعصبات سے پیدا ہوتا ہے اس کی چاشنی نے ناول میں جان پیدا کر دی ہے۔

آٹھویں اور نویں دہائی کے پاکستان کی صورتحال کے بارے میں ’’نادار لوگ‘‘ جیسی مایوسی اور بے اطمینانی اشرف شاد کے ناولوں "بے وطن” ۱۹۹۷ء اور "وزیر اعظم” ۱۹۹۹ء میں محسوس کی جا سکتی ہے۔

مستنصر حسین تارڑ پاکستانی فکشن کے معروف فنکار ہیں لیکن ناول نگاری میں انہوں نے ’راکھ‘ (۱۹۹۷ء) کے ساتھ اپنا سکہ جمایا۔ اس ناول کی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ملک کے سیاسی، سماجی، تہذیبی، حربی اور تاریخی پہلوؤں کو، کہ جن میں سقوطِ ڈھاکہ کی الم انگیز داستان بھی شامل ہے۔ کامیابی سے فنی اور فکری طور پر برتا ہے۔ اس ناول کو ۱۹۹۷ء کے اہم ناول کا اکادمی ادبیات پاکستان سے انعام بھی ملا تھا۔ اس ناول میں مصنف نے سقوط مشرقی پاکستان کو موضوع بنایا ہے۔

مستنصر حسین تارڑ ’’راکھ‘‘ کے بارے میں کہتے ہیں:

’’راکھ‘‘ ایک ایسے المیہ کے بارے میں تھا جس نے پورے ملک کو متاثر کیا۔ جس نے مسلمانوں کی تاریخ بدل ڈالی۔ ایسے بڑے سانحے پر ایک دم نہیں لکھا جا سکتا۔ مسعود مفتی جو ڈھاکہ کے ڈی سی تھے، اس سقوط کے بعد دو برس وہاں انہوں نے قید کاٹی وہاں کے متعلق لکھا بھی۔ انہوں نے ’’راکھ‘‘ پڑھا تو بہت تعریف کی۔ مجھ سے سوال کیا کہ آپ کبھی وہاں گئے ہیں ؟ میں نے کہا: نہیں، میں کبھی مشرقی پاکستان نہیں گیا مگر اس خطے سے میری روحانی وابستگی ہے۔ میں آج بھی کہتا ہوں کہ میرے اندر مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا گھاؤ ہے‘‘۔ (۴)

۱۹۸۰ء سے ۲۰۰۰ء تک اسلوب، ہیئت، موضوع، رجحانات، ابلاغ اور تکنیک کے لحاظ سے جو دیگر اہم ناول لکھے گئے ان میں انیس ناگی کا ناول (کیمپ، ۱۹۹۸ء) ، عبد الصمد (دھمک) ، پیغام آفاقی (مکان، ۱۹۸۹ء) ، حسین الحق کے دو ناول (بولو مت چپ رہو اور فرات ۱۹۹۲ء) شموئل احمد کا ناول (ندی، ۱۹۹۳ء) الیاس احمد گدی کا (فائر ایریا، ۱۹۹۴ء) مشرف عالم ذوقی کا (بیان، ۱۹۹۵ء اور پو کے مان کی دنیا ۲۰۰۰ء) اقبال مجید کا ناول (نمک، ۱۹۹۹ء) سید محمد اشرف کا ناولٹ (نمبردار کا نیلا، ۱۹۹۷ء) شامل ہیں۔

آئیے اکیسویں صدی میں لکھے جانے والے شہرۂ آفاق ناول اور افسانوں کو ان کے موضوعات، اسلوب اور رجحانات کی بنیاد پر مختصراً بیان کرتے ہیں۔

مستنصر حسین تارڑ پاکستان کے مشہور سفر نامہ نگار، ناول نگار، افسانہ نگار اور کالم نگار ہیں۔ اب تک پچاس سے زیادہ کتابیں لکھ چکے ہیں۔ ان کی وجہ شہرت سفرنامے اور ناول نگاری ہے۔ اس کے علاوہ ڈرامہ نگاری، افسانہ نگاری اور فن اداکاری سے بھی وابستہ رہے۔ مستنصر حسین تارڑ پاکستان کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ادیبوں میں شامل ہیں۔ مستنصر حسین تارڑ نے بہاؤ، راکھ، خس و خاشاک زمانے اور اے غزال شب جیسے شہرہ آفاق ناول تحریر کئے ہیں۔

۱۔ ’’خس و خاشاک زمانے‘‘

ناول ’’خس و خاشاک زمانے‘‘ پہلی دفعہ ۲۰۱۰ء اور دوسری دفعہ ۲۰۱۴ء میں شائع ہوا، ۷۴۰ صفحات پر مشتمل یہ ایک ضخیم ناول ہے جسے سنگ میل پبلی کیشنز لاہور نے شائع کیا۔

’’خس و خاشاک زمانے‘‘ کو پاکستان کی ایک ایسی دستاویز کہا جا سکتا ہے جو پاکستانی معاشرے کی اخلاقی اور تہذیبی اقدار اور اس کے بدلتے رویوں کو بیان کرتی ہے۔ ’’خس و خاشاک زمانے‘‘ ضخیم ناول ہے جس میں دو خاندانوں کی کئی نسلوں پر پھیلی داستان بیان کی گئی ہے۔ تقسیم برصغیر کے بارے میں لکھا گیا یہ ناول ان تلخ تاریخی حقائق کو بیان کرتا ہے جن کو بہت پسند نہیں کیا جاتا اور نہ ہی ان موضوعات پر بحث کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

مستنصر حسین تارڑ کا یہ ناول روایتی موضوعات سے بہت ہٹ کر لکھا گیا ہے۔ ’’خس و خاشاک زمانے‘‘ میں انھوں نے متعدد ایسے موضوعات کو ناول میں شامل کیا ہے جن پر بات کرنا پاکستان میں معیوب خیال کیا جاتا ہے ان موضوعات میں تقسیم ہند، ناجائز طور پیدا ہونے والے بچے، مردہ جانوروں کا گوشت کھانے، ہم جنس پرستی، مغربی طرز زندگی اور جسم فروشی کے علاوہ آبائی ملک کو چھوڑ کر نقل مکانی کرنے والے خاندانوں، حالات زندگی کے ساتھ ہی 9/11کے واقعات کے بعد پیدا ہونے والے اسلام دشمن رویے بھی شامل ہیں۔

ریاض شاہد اس کتاب اور اس کے مصنف کے بارے میں کہتے ہیں:

’’اس ناول میں تارڑ کا فن اپنے عروج پر نظر آتا ہے خصوصاً َ فلیش بیک کی تکنیک بار بار استعمال کی گئی ہے۔ الفاظ کا چناؤ اور ان کا استعمال بڑی سوچ اور نفاست سے کیا گیا ہے۔ ناول کی سب سے بڑی خوبی اس کا وہ ماحول ہے جو تارڑ اپنے ڈائیلاگ کی مدد سے پیدا کر دیتا ہے کہ قاری ناول کے اختتام تک اس کے سحر سے آزاد نہیں ہو سکتا اور یہ انہیں کا خاصہ ہے۔ حقیقت پسندی کا درس ناول کا تھیم ہے جسے تارڑ علامات کے ذریعے واضع کرتا ہے مثلاً اچھو شیخ کا کردار جو مذہبی انتہا پسندی کا مظہر ہے وہ گاؤں کا فاترالعقل نوجوان ہے جو بار بار اپنی ماں سے نظر بچا کر گلی میں غلاظت کے ڈھیر سے شیشہ تلاش کر کے اپنی گردن پر پھیرنا شروع کر دیتا ہے جس سے اسے لذت ملتی ہے۔ پتہ چلنے پر اس کی ماں اٹھا کر گھر لے آتی ہے لیکن وہ پھر موقع ملنے پر یہی عمل دہراتا رہتا ہے۔ ناول میں ۱۹۴۷ء کے فسادات میں ہونے والی قتل و غارت، معاشرے میں لوٹ مار کے رجحان کی نشاندہی بھی کی گئی ہے‘‘ (۵)

۳۔ ’’اے غزال شب‘‘

اے غزل شب پاکستان سے ۲۰۱۰ء میں شائع ہونے ولا اردو کا ناول ہے جسے پاکستان کے معروف مصنف مستنصر حسین تارڑ نے تخلیق کیا ہے اس ناول کا عنوان ن۔ م راشد کے مجموعہ شاعری لا =انسان کی ایک نظم سے لیا گیا ہے۔ جو قاری تارڑ کے اسلوب سے آشنا ہیں انہیں اس ناول میں تارڑ کا فن اپنے عروج پر ملتا ہے۔

مستنصر حسین تارڑ نے ماس کو میں اپنے قیام کے دوران جن حالات و واقعات کا مشاہدہ کیا اور ’’ماس کو کی سفید راتیں‘‘ میں تحریر کیا اور اس کا عکس اگرچہ جا بجا نظر آتا ہے لیکن اس ناول میں انداز بیاں، گہرائی کا جواب نہیں ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب آ کے تارڑ کا فن کمال کو پہنچا ہے۔ ’’اے غزال شب‘‘ سوویت یونین کے زوال کے بعد پھیکے پڑ چکے سرخ رنگ کی کہانی ہے۔ جس میں لینن کے مجسمے پگھلا کر صلیبیں بنائی جا رہی ہیں اور کرداروں میں اکتاہٹ بڑھ رہی ہے اکتاہٹ جوان میں واپس اپنے وطن آنے کی خواہش جگاتی ہے وہاں قیام کرنے کی غرض سے نہیں کہ اب وہاں ان کا اپنا کوئی نہیں فقط نامعلوم میں جھانکنے کے لیے۔ جب وہ یہ فیصلہ کرتے ہیں تو شوکی جھوٹا سامنے آتا ہے ایک عجیب و غریب کردار جس کا تخیل گم شدہ چیزوں تک پہنچ جاتا ہے اور قارئین ناول کے چار کرداروں ہی کے زمرے میں آتے ہیں اس کی زبان سے سنتے ہیں۔

’’اے غزال شب‘‘ خوابوں کی شکست و ریخت کا ایک مربوط اور گتھا ہوا قصہ ہے ان پاکستانیوں کا حزنیہ جنہوں نے مساوات پر مبنی اجلے معاشرے کا سپنا دیکھا تو ان کا سوویت یونین قبلہ ٹھہرا۔ نظریات اپنے وطن سے میلوں دور لے گئے، کوئی ماس کو میں جا بسا۔ کسی نے برلن کو اپنا ٹھکانہ بنایا کسی نے بوڈ اپسٹ میں خود کو دریافت کیا اپنا وطن چھوڑ کر نئی زمینوں پر ذات کا بیج بویا۔ مزدوروں کے راج میں وہ خوش تھے کہ اچانک سب ڈھے گیا، سرمایہ دارانہ نظام نے کاری وار کیا سوویت یونین منہدم ہو گیا اپنی جڑوں سے کٹ چکے ان انسانوں کی زندگیاں یک دم بدل گئیں، ، اس بدلاؤ نے ان کی سماجی اور نفسیاتی زندگیوں کو اتھل پتھل کر دیا۔ ’’اے غزال شب‘‘ اس اتھل پتھل کی بپتا ہے۔ ایسی بپتا جس کے کچھ حصوں سے آپ اختلاف تو کر سکتے ہیں مگر اسے خود میں گہرا اترنے سے روک نہیں پائیں گے۔ اس ناول میں تارڑ کا فن اپنے عروج پر نظر آتا ہے آوارہ گردی کا وسیع تجرباتی رنگ دکھتا ہے۔ تخیلاتی جست نئے امکانات تک رسائی فراہم کرتی ہے۔ ہے تو بیانیہ تکنیک میں، مگر نیا پن بیانیے کے ساتھ چلتا ہے ایک مقام پر خود ناول نگار قاری سے مخاطب ہو کر چونکا دیتا ہے اور اختتامیہ میں ایک نیا کرشن نمودار ہوتا ہے۔ معروف ناول نگار عبد اللہ حسین نے بھی اس ناول کو اپنا پسندیدہ نگار قرار دیا تھا۔

اقبال خورشید کتاب اور مصنف کے بارے میں کہتے ہیں:

’’اے غزال شب‘‘ کے مصنف کا کمال یہ ہے کہ ہم اس کے وسیلے زمان و مکان کے کسی اور ٹکڑے میں سانس لیتی زندگیوں سے جڑ جاتے ہیں وہ ایک بڑے ناول نگار کی طرح جو کہ وہ ہیں، فقط حقیقت کی عکاسی نہیں کرتا بلکہ ان عناصر زندگی کو بھی گرفت میں لاتا ہے جس سے حقیقت تخلیق ہوتی ہے فقط جزئیات نگاری پر کمر بستہ نہیں بلکہ لمس جزئیات میں موجود ایک مشترکہ احساس تک رسائی فراہم کرتا ہے جو شاید رائگانی کا ملال ہے۔ شاید اسی نوع کی قابلیت اور مہارت کی بنا پر ڈی۔ ایچ لارنس نے ناول نگار کو سائنس دان، فلسفی اور شاعر سے برتر ٹھہرایا ہے‘‘۔ (۶)

مستنصر حسین تارڑ خود اس ناول کے بارے میں یوں رقمطراز ہیں:

’’یہ ناول ایک المیے کے بارے میں ہے جو سوویت یونین کے ختم ہونے سے پیش آیا۔ سوویت یونین اپنے خاتمے سے پہلے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو تعلیمی وظیفے دیا کرتا تھا جن کے تحت وہ وہاں پڑھنے جایا کرتے تھے وہ اس کی روسی زبان لکھتے تھے اور پھر وہاں جا کر روسی میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔ لیکن جب وہ تعلیم مکمل کر لیتے تو ان کی یہ تعلیم پاکستان میں کسی کام کی نہیں ہوتی تھی کیونکہ ایک تو یہاں وہاں کی ڈگریوں کو تسلیم نہیں کیا جاتا تھا پھر وہ ایک ایسی زبان میں تعلیم حاصل کر کے آتے تھے جو یہاں بولی نہیں جاتی تھی۔ اس لیے یہ بھی ہوتا کہ تعلیم کے لیے جانے والے نوجوان وہاں ملازمت کی کوشش کرتے ان میں سے اکثر وہاں شادیاں بھی کر لیتے۔ یوں بھی کہا جاتا تھا کہ روسی عورتیں مردوں کا شکار کرتی ہیں۔ ان معنوں میں کہ یہ نوجوان جاتے تھے تو وہاں بھی نوجوان لڑکیاں ہوتی ہیں۔ ظاہر ہے اگر انہیں نوجوان معقول لگتے ہوں گے تو وہ کیوں شادیاں نہیں کرتی ہوں گی اس صورت میں یہ نوجوان وہاں بس جاتے یا لڑکیوں کو لے کر آ جاتے اور ایسا کم ہی ہوتا لیکن جب سوویت یونین کا خاتمہ ہو گیا تو بس جانے والے لوگوں کے لیے بڑے مسائل پیدا ہوئے ایک تو وہاں کے لوگوں میں رد عمل پیدا ہوا اور انہوں نے کہا کہ یہ لوگ یہاں سے جاتے کیوں نہیں۔ دوسری طرف ان لوگوں کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ اب کہاں جائیں یہ کہانی ان لوگوں کا المیہ ہے‘‘۔ (۷)

مرزا اطہر بیگ پاکستانی ناولسٹ، ڈرامہ نگار اور افسانہ نگار ہیں۔ وہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں فلسفہ کے مضامین پڑھاتے ہیں۔ غلام باغ، صفر سے ایک اور حسن کی صورتحال جیسے شاہکار ناولوں نے ان کو شہرت بام تک پہچانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

۴۔ غلام باغ

۸۷۸ صفحات پر مشتمل اکیسویں صدی میں لکھا جانے ولا ایک ضخیم ناول ہے اور آج کے دور میں ایسا ناول لکھنا کسی کرشمے سے کم نہیں یہ ناول پہلی مرتبہ ۲۰۰۶ء میں شائع ہوا اور اسے سانجھ پبلی کیشنز نے شائع کیا اور اس کی مقبولیت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ محض ایک سال کے اندر اندر اس کا دوسرا ایڈیشن شائع ہو گیا۔

پاکستان میں اردو ناول کے فرد اول عبد اللہ حسین نے اس کے طبع ثانی کے دیباچہ میں لکھا ہے۔

’’غلام باغ اپنے مقام میں اردو ناول کی روایت سے قطعی ہٹ کے واقع ہے بلکہ انگریزی ناول میں بھی یہ تکنیک ناپید ہے اس کے ڈانڈے یورپی ناول خاص طور پر فرانسیسی پوسٹ ماڈرن ناول سے ملتے ہیں‘‘۔ (۸)

غلام باغ کی خاص بات یہ ہے کہ جہاں یہ سنجیدہ اردو ادب کے قارئین کو زبان و بیان کی چاشنی مہیا کرتا ہے وہیں یہ فکشن کے دلدادہ قارئین کو ایسی کہانی مہیا کرتا ہے، جو مکمل پڑھے بنا چھوڑی نہیں جا سکتی۔ آج کم ہی ناولوں میں موجودہ دور کی صورت حال پیش کی گئیں ہیں۔ آج کے دور کے حالات، واقعات، مسائل اور صورتحال کی منظر کشی کرتے ہوئے ناول ڈھونڈنے سے ہی نہیں ملتے ایسے میں غلام باغ نئے دور کا ناول ہے ناول کے کردار موجودہ زمانے سے اٹھائے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کرداروں سے تعلق بنانے میں قاری کو وقت نہیں لگتا۔ ’’غلام باغ‘‘ در اصل ایک تاریخی کھنڈر تھا لیکن اس باغ کی تاریخ کیا تھی یہ سب اس ناول کا تھیم اور موضوع ہے اور دیوانگی اور پاگل پن اس کے ضمنی موضوعات میں شامل ہیں۔

۵۔ ’’صفر سے ایک‘‘

مرزا اطہر بیگ کا دوسرا ناول ’’صفر سے ایک‘‘ ہے جو ۳۹۴ صفحات پر مشتمل ہے۔ ۲۰۱۰ء میں سانجھ پبلی کیشنز نے شائع کیا۔ ناول کا پورا نام ’’صفر سے ایک سائبر سپیس کے ایک منشی کی سرگزشت‘‘ ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کا ایک واہمہ جس میں دنیا بھر کے وہ لوگ مبتلا ہیں جو دفتروں، بینکوں اور دکانوں میں بیٹھے حساب کتاب کر رہے ہیں، وہ استاد جو بچوں کو حسابی کلیے سکھا رہے ہیں یہ خطوط اور ہندسوں کا ایسا ملغوبہ ہے جس کے پس منظر میں اطلاعات و معلومات کا وسیع سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔

صفر سے ایک تک کا مرکزی کردار، کردار کی لمس بتاتا ہے کہ اس لامکاں میں اس کی دشت نوردی کسی سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ نہیں تھی بلکہ اس کے مالک کا بیٹا فیضان جو کہ بظاہر زکی کا دوست بھی تھا، کمپیوٹری علوم میں بالکل فارغ تھا لیکن جب اس نے تحقیقی مقالہ لکھنے کا فیصلہ کیا تو زکی سے درخواست کی کہ وہ متعلقہ موضوع پر اس لامکاں سے ضروری مواد منگوا دے۔ ناول کے بہت سے شاخسانے قدیم و جدید کے اس تضاد سے پھوٹتے ہیں اور غالباً اردو ادب میں یہ پہلا موقع ہے کہ اس سماجی صورتحال کو پوسٹ ماڈرن فکشن نے اپنا موضوع بنایا ہے۔ اس ناول میں جو تکنیک استعمال کی گئی ہے وہ ہے مابعد جدیدیت کی تکنیک اور اس میں دکھایا گیا ہے کہ پاکستان میں مقتدر طبقے کی زندگی گزشتہ صدی کی آخری تین دہائیوں میں کن تبدیلیوں سے گزر رہی تھی جب اطلاعاتی ٹیکنالوجی طرح طرح کے روپ دھار کر کمپیوٹر، انٹر نیٹ، ٹیلی ویژن، ٹیلی فون اور سیل فون میں نصب کیمرے، ریڈیو اور منی ٹی وی کی صورت میں جلوہ گر ہو رہی تھی اور ہمارے جاگیردارانہ سماج کو اٹھا کر اچانک جدید ترین زمانے میں پٹخ دیا گیا تھا۔

۴۔ ’’حسن کی صورتحال۔ خالی جگہ پر کرو‘‘

یہ ناول مرزا اطہر بیگ کا تیسرا ناول ہے۔ اسے ۲۰۱۴ء میں سانجھ پبلی کیشنز نے شائع کیا اس کے ۶۰۰ صفحات ہیں۔ یہ ناول مرزا اطہر بیگ کے دیگر ناولوں سے مختلف ہے۔ مماثلت بس ایک کلیہ شکنی کی خواہش جو اور شدید ہو گئی ہے ناول کے کئی کردار ایک جیسے ناموں کے حامل ہیں یہ ایک سانیت انتشار کو مہمیز کرتی ہے۔ سر ریئلزم کی جھلکیاں ملتی ہیں۔ کچھ عجیب و غریب ادارتی نوٹ، مصنف کی براہ راست کلام کرنے کی عادت اور سب سے اہم بیانیے میں فلم میکنگ جس نے ناول کو نئی جہت عطا کر دی ہے۔ اس ناول میں ہم حسن رضا ظہیر کو نظر انداز نہیں کر سکتے کہ یہ پہلو دار اور گنجلک ناول اس کردار سے شروع ہوتا ہے حسن جسے ’’اچٹتی منظر بینی‘‘ کی عادت ہے۔ وہ مناظر پر نگاہ ضرور ڈالتا ہے لیکن اس میں شامل نہیں ہوتا اور پھر پردہ حیرت سے ان لمحات کا ظہور ہوتا ہے جو اسے اردگرد کی دنیا میں براہ راست مداخلت پر مجبور کر دیتے ہیں اور وہ کہانی شروع ہوتی ہے جس میں خالی جگہیں قاری کو پر کرنی پڑتی ہیں۔ بحیثیت مجموعی مرزا اطہر بیگ اس نظریہ کے حامی نظر آتے ہیں کہ ’’اگر ناول میں تجربات نہیں ہیں تو یہ پاپولر ناول ہو سکتا ہے مگر ادبی ناول نہیں ہو گا‘‘۔

۷۔ خلیج

خالد فتح محمد معروف افسانہ نگار ناول نگار، مترجم، نقاد اور تجزیہ نگار ہیں اکیسویں صدی میں ان کا اہم ناول خلیج ۲۰۱۵ء میں شائع ہوا اس کے ۲۰۴ صفحات ہیں جب کہ اس کی پہلی اشاعت ۲۰۰۸ء میں ہوئی اور اسے جمہوری پبلی کیشنز نے شائع کیا یہ ناول ۱۹۷۱ء کے سقوط ڈھاکہ کے سانحہ کے تناظر میں لکھا گیا ہے۔ اگرچہ اس المیہ پر پہلے بھی بہت کچھ لکھا  جا چکا ہے اور قومی تاریخ کے اس سانحہ پر بہت سے ادیبوں اور شاعروں نے قلم اٹھایا۔ خالد فتح محمد کا یہ ناول مشرقی پاکستان کے المیے پر ایک مستند دستاویز ہے۔

۸۔ کئی چاند تھے سرِ آسمان

اس ناول کا نام احمد مشتاق کے اس شعر سے لیا گیا ہے:

؂ کئی چند تھے سرِ آسماں کہ چمک چمک کے پلٹ گئے

نہ لہو میرے ہی جگر میں تھا نہ تمہاری زلف سیاہ تھی

یہ شمس الرحمن فاروقی کا ۸۵۳ صفحات پر مشتمل ایک ضخیم ناول ہے جو پہلی دفعہ ۲۰۰۶ء میں شائع ہوا، جسے پینگوئن بکس انڈیا نے شائع کیا۔ ہند اسلامی تہذیب اور تاریخی پس منظر میں محبت کی کہانی اس ناول کا موضوع ہے برصغیر کی ممتاز علمی و ادبی شخصیت شمس الرحمن فاروقی کا ناول ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ دوسری دفعہ کراچی سے شائع ہوا اس ضخیم اور اہم ناول کے مختلف اجزاء ہندوستان اور پاکستان کے مختلف جرائد میں شائع ہوتے رہے اس ناول میں ہندوستان کا ۱۸۱۱ء سے ۱۸۵۶ء تک کا عہد بیان کیا گیا ہے یہ ناول تاریخ کی چادر میں بنا ہوا انیسویں صدی کی ہند اسلامی انسانی اور تہذیبی و ادبی سرو کاروں کا مرقع ہے۔ مصنف ہر منظر کو اتنی تفصیل اور وضاحت سے پیش کرتا ہے کہ اس زمانے کا نقشہ آئینہ ہو کر سامنے آ جاتا ہے۔ یہی اس ناول کا موضوع اور تھیم ہے۔

۹۔ ناتمام

یہ محمد عاصم بٹ کا ۱۵۸ صفحات پر مشتمل ناول ہے جسے سنگ میل پبلی کیشنز نے ۲۰۱۴ء میں شائع کیا۔ ناتمام کا موضوع جانا پہچانا ہے ایک ایسے معاشرے میں جہاں مردوں کو غیر معمولی اور بے جا بالادستی حاصل ہے وہاں بے سہارا عورتوں کی روداد درد انگیزی ہی ہو سکتی ہے۔ ناول کے کرداروں میں وہی پر گندگی ہے جس میں پاکستان میں ہزاروں خاندان مبتلا ہیں۔ مسلسل عورت کا استحصال اس ناول کا بنیادی موضوع ہے۔

موجودہ دور میں عصری ناول سے ہٹ کر اگر افسانے کی بات کی جائے تو اس کے موضوعات میں بھی بڑا تنوع پایا جاتا ہے۔ نئے موضوعات، نئی تکنیک، نیا اسلوب، افسانے کی روح رواں بن چکا ہے۔ فرد سے معاشرہ اور معاشرے سے بین الاقوامی معاشرے تک انسان کا تخیل اور مادیت پھیل چکی ہے۔ آج کا انسان بیک وقت بہت سے کام سرنجام دے رہا ہے۔ جہاں اس کو بہت سے مسائل اور آزمائشوں کا سامنا بھی ہے۔ سائنس کی ترقی نے جہاں ایک طرف بہت سی ایجادات اور دریافتوں سے حیران کن ترقی کی ہے تو دوسری طرف اس نے تباہی اور بربادی کے سامان بھی اسقدر تیار کر لیے ہیں کہ پل بھر میں انسانیت اور یہ پوری دنیا خاک میں مل جائے۔ تاریخ کو ساتھ ساتھ لے کر حال اور مستقبل کے موضوعات میں وسعت اس قدر زیادہ ہے کہ افسانہ نگار اور ادیبوں کی گرفت سے باہر ہے۔

جدید اردو افسانے کو خصوصیات کے لحاظ سے دو اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً تکنیک اور اسلوب کے لحاظ سے اور موضوعات کے لحاظ سے۔ اسلوب یا تکنیک کے لحاظ سے افسانے میں کئی خصوصیات پائی جاتی ہیں جن میں علامت نگاری، علامتی کردار کی پیش کش، استعارے، امیجز، تمثیل، داستانوی انداز، دیومالا اور اساطیر، مرکب اور پیچیدہ پلاٹ، نثر میں شعری زبان کا استعمال، کلیدی جملوں کی تکرار، تجریدیت، اینٹی کلائمکس، اینٹی کردار اور اینٹی پلاٹ افسانے، شعور کی رو، آزاد تلازمہ خیال، فلیش بیک تکنیک وغیرہ اہم ہیں۔ جبکہ موضوعات کے لحاظ سے افسانے کی خصوصیات میں تنہائی، علیحدگی، اجنبیت، بے گانگی، کرب، اضطراب، مشینی اور صنعتی نظام، قدروں کا زوال، بھاگتے ہوئے لمحوں کو گرفت میں لینے کی کوشش، نئی قدروں کی تعمیر، لادینیت، تلاشِ ذات، مایوسی، دہشت، خوف، جنگ کی ہولناکی، اپنی جڑ سے اکھڑنے کا غم، ٹوٹتے بکھرتے رشتے ناطے، بے زمینی، تہذیبی بازیافت وغیرہ شامل ہیں،

اس وقت پاکستان میں جو اردو افسانہ لکھا جا رہا ہے وہ حقیقت پسندی، ترقی پسندی، علامت نگاری، ساحرانہ واقعیت پسندی، نفسیاتی ایچ پیچ اور تجرباتی پینتروں کا ملغوبہ ہے۔ ایسے عہد میں جس کی وحشت ناک برق رفتاری، ذاتی زندگی کا اخفا میں رکھنے کی اہلیت میں ناکافی اور ہر کسی پر ہر وقت نظر رکھنے کے چکر نے ہر جگہ معاشروں کو ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں کوئی بھی غیر محتاط اگلا قدم ہمہ گیر تباہی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ فکشن کیلئے راہ فرار کوئی نہیں ہر لکھنے والا اگر وہ اپنے فن سے اور اردگرد کی پیچیدہ زندگی سے انصاف کرنا چاہتا ہے مجبور ہے کہ کوئی نیا زاویہ اختیار کرے اگر مختلف انداز بیان بیک وقت موجود ہوں تو اس پر بھی اعتراض کی کیا گنجائش ہے ہر لکھنے والے کو آزادی ہونی چاہیے کہ جیسے جی چاہے لکھے اگر ادب بھی ہمیں یہ آزادی فراہم نہیں کر سکتا تو پھر لکھنے کا عمل قطعی طور پر بے سود اور وقت کا زیاں ہے۔ نئے لکھنے والوں سے شکایت یہ نہیں کہ انہوں نے کون سے موضوعات لئے اور ان کا کس زاویہ نظر سے جائزہ لیا۔ تشویش میں مبتلا کرنے والی بات یہ ہے کہ زبان و بیان کی خوبیوں اور مفہوم کو ٹوکم ٹاک ادا کرنے پر ان کی توجہ کم ہوتی جا رہی ہے یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ ان کے سامنے اچھی نثر کی مثالیں موجود نہیں۔ یہاں کلاسیکی فکشن یا نثر کا تذکرہ مقصود نہیں۔ اس سرمائے سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے لیکن جو اسلوب قدامت سے جڑا ہواسے موجودہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے برتا نہیں جا سکتا یہ کمال تو کوئی عبقری ہی دکھا سکے گا لیکن فی زمانہ جہاں تک فکشن کا معاملہ ہے تو انتظار حسین (مرحوم) اسد محمد خان، عبد اللہ حسین (مرحوم) ، منشا یاد، حسن منظر اور خالدہ حسین سے استفادہ کرنا تو ممکن ہے کہ ان میں سے کوئی بھی ہیجان خیز اور خطابت آمیز نثر نہیں لکھتا۔

آئیے اکیسویں صدی میں لکھے گئے چند افسانوی مجموعے اور افسانوں کے موضوعات کا جائزہ لیتے ہیں کہ کس طرح ان کے موضوعات میں گزشتہ صدی کے مقابلے میں تبدیلی آئی ہے۔

۱۔ شاید رضوان کے افسانوں میں خطابت اور عبارت آرائی کا غلبہ ہے شاید یہ خیال دق کرتا رہتا ہوں کہ دنیا میں شور پہلے ہی بہت ہے اس لیے بلند آہنگ جب تک نہ اپنایا جائے دوسروں تک آواز نہ پہنچے گی جو بھی سہی اس شور و شغب سے انسانوں کے لطف میں فرق آ جاتا ہے ایک مجموعہ منٹو اور دوسرا غلام عباس کے نام ہے۔ افسوس کہ جہاں تک نثر لکھنے کے سلیقے سے تعلق ہے انھوں نے دونوں سے کچھ نہیں سیکھا۔ پہلے مجموعے میں نثر خاصی خاردار ہے دوسرے مجموعے میں ’’آوازیں‘‘ کے پہلے تین افسانے بھی مختلف نہیں لیکن اس کے بعد جو افسانے ہیں ان میں نثر کی فضا بدلی بدلی ہے۔ اگر شاہد رضوان کو درستی کا خیال خود آ گیا تو خوب ہے اس کا مطلب ہو گا کہ وہ اپنی تحریروں پر خود بھی ناقدانہ نظر ڈال لیتے ہیں۔ اگر اس تبدیلی کے پیچھے کسی کے مشورے کا دخل ہے تو بھی اچھی بات ہے ورنہ آج کل لوگ اتنے ضدی ہو گئے ہیں کہ کوئی بات سننے کو تیار نہیں۔

شاید رضوان کے افسانوی مجموعے ’’پہلا آدمی‘‘ میں سب سے اچھا افسانہ جو گی چوک ہے۔ اس میں بھی پہلے دو پیراگرافوں کا نفس افسانہ سے کوئی تعلق نہیں۔ چنانچہ انہیں حذف کر دیا جائے تو افسانے کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ افسانے کی تہہ میں یہ نفسیاتی نکتہ کارفرما ہے کہ جو بات یا فرد بظاہر ہمیں سستی یا بھونڈی جنسیت میں آلودہ معلوم ہو اس سے گھن تو آتی ہے لیکن دل یا ذہن کے کسی چور خانے میں اس کے لیے کشش بھی پائی جاتی ہے۔ غالباً یہ اس تلقین کے خلاف رد عمل ہے کہ جنس اور اس کے تمام متعلقات برے ہیں اور ان سے پرہیز کرنا چاہیے لیکن یہ تلقین انسانی نفسیات کی نفی ہے آدمی کو جس بات سے منع کیا جائے وہی کسی نہ کسی سطح پر اسے بر انگیختہ کرتی ہے دوسرے یہ کہ اگر جنس اور گندگی میں کوئی ربط ہے تو پھر تسلی گندگی سے کوئی رشتہ قائم کر کے ہی ہو سکتی ہے اگر افسانے کو حشو و زائد سے پاک کر دیا جاتا تو اسے کامیاب تحریر کہا جا سکتا تھا۔

دوسرا مجموعہ ’’آوازیں‘‘ ہے ان میں سب سے اچھا افسانہ ’’آخری سیڑھی ہے‘‘ اس امر کی شرح بخوبی ہو گئی ہے کہ طرح طرح کے حجابات اور تحدیدات کے اسیر معاشرے میں اپنی شرطوں پر جینے کے مواقع کتنے کم ہوتے ہیں۔ بعض داغ کسی طرح نہیں دھلتے اپنی اصل کی طرف مراجعت ہی میں عافیت نظر آتی ہے۔ سماجی اور نفسیاتی موضوعات شاہد رضوان کے افسانوں میں جگہ جگہ نظر آتے ہیں۔

’’پتھر کی عورت‘‘ شاید رضوان کا ایک اور افسانوی مجموعہ ہے جو ۲۰۱۰ء میں شائع ہوا اس کے بارے میں ڈاکٹر ناصر عباس نیر لکھتے ہیں:

’’شاہد رضوان اردو افسانے میں نووارد ہیں انہوں نے اردو افسانے کی صد سالہ روایت میں موضوع، اسلوب اور تکنیک کی سطح پر ہونے والے تجربات پر توجہ کرتے اور پھر کسی ایک تجربے پر انحصار کرنے کی بجائے سادہ بیانیہ کو اختیار کیا ہے ان کا افسانوی بیانیہ علامت، ابہام اور ان کی پیچیدگیوں سے آزاد مگر موثر ہے‘‘۔ (۹)

۲۔ پروگریسو اردو رائٹرز گلڈ کا مرتبہ کردہ افسانوں کا مجموعہ ’’نئی صدی کے افسانے‘‘ عالمی اردو ادب سے منتخب افسانوی مجموعہ ہے، جسے ۲۰۱۵ء میں بک ایج پبلیشرز نے شائع کیا اس میں کل ۲۶ افسانے ہیں۔ اس افسانوی مجموعے میں افسانہ نگاروں نے جن موضوعات اور رجحانات پر قلم اٹھایا ہے وہ یکسر نئے ہیں ان موضوعات اور رجحانات سے جو پچھلی صدی میں افسانہ نگاروں کا طرہ امتیاز تھے۔

اردو افسانے کی روایت میں ایک طرف عرضی پسند فکر تقسیم سے پہلے سے روایتی کلامیوں کو مختلف اور نئے زاویوں سے دیکھنے میں مصروف عمل تھے تو دوسری طرف دو عالمی جنگوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سماجی صورت حال نے لکھاری کے ذہن اور قلم کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ تقسیم اور عالمی جنگوں کے اثرات سے جو تخلیقی حساسیت وجود میں آئی اس نے خارجی عوامل سے داخلیت اور موضوعیت کا سفر کیا۔ اس سفر میں انفرادیت، تشکیک، لادینیت، بغاوت، سادیت، مساکیت، قنوطیت، وجودیت، کلبیت، بے معنویت، لایعنیت، تجرید اور تمثال کی کئی اقسام کے ایسے نفسیاتی محرکات و مسائل کو شامل کیا گیا جو ماضی کا حصہ نہیں رہے تھے۔ اردو افسانہ اپنی ابتداء ہی سے مغربی اور روسی ادیبوں اور دانشوروں کے اثرات قبول کرتا رہا ہے اس لیے جدیدیت ترقی پسندی، نسائیت، تانیثیت اور مابعد جدیدیت کا فکری نظام برصغیر کے افسانہ نگاروں کے ہاں جگہ جگہ ملتا ہے۔

اقبال حسن خان کا افسانہ ’’اشراگل‘‘ ایسا فکری متن ہے جس میں بہت ہی پیچیدہ اور سنگین مسئلے کو ایک خوبصورت اسلوب میں پیش کیا گیا ہے۔ مابعد نو آبادیاتی صورت حال کا یہ افسانہ وسیع ثقافتی معنویت پہ اساس کرتا ہے، نسیم سید کا افسانہ ’’قیمتی تابوت‘‘ کولونیل (Colonial) ڈسکورس کے اس پروپیگنڈہ کی ضد ہے جو مغرب کے انسان کو ہر قسم کی گھٹن جبر اور استحال سے پاک کر کے ایک آئیڈیل انسان کے طور پر پیش کرتا ہے۔ شموئل احمد کا افسانہ ’’بہرام کا گھر‘‘ سماجی آئیڈیالوجیکل ’’حق و باطل‘‘ کی ہولناک مجازی شکل ہے۔ بے رحمی کی مشق در مشق سے مذہبی تعصب تعفن کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ افسانہ ’’کتن والی‘‘ میں افسانہ نگار سبین علی نے کہانی کے مرکز میں کتن والی رکھی۔ فکری طور پر یہ ترقی پسند افسانہ ہے طبقاتی کشمکش مزدوروں کی محبت اور مسائل کو متن کرتا پسماندگی کی حقیقی تصویر بنتا ہے۔ افسانے کا عنوان علامتی ہے۔ افسانہ ’’ڈیپارچر لاؤنج‘‘ انسانی معاشروں میں ہر لفظ ثقافتی نفسیات کا مظہر ہوتا ہے اس افسانے میں مصنف نے انتہائی مہارت سے ایک متنی تکنیک کا استعمال کیا ہے۔ ماضی حال اور مستقبل اس کے موضوعات ہیں۔ پیغام آفاقی نے اپنے مشہور افسانے ’’ڈولی‘‘ میں ایک عہد ساز عورت کی زندگی کا پوٹریٹ ہمارے سامنے رکھ دیا اور افسانے قارئین کو کہانی کی بنت اور فن سے روشناس کرا دیا۔ کہانی کی طاقت اور اس کا تصور افسانہ میں مضمر ہے۔ ابرار مجید کا افسانہ ’’افواہ‘‘ یہ دلچسپ اور جدید افسانہ اپنے تناظر سے الگ نہیں اس کے متن میں ایک پہچان ہے۔ مصنف کے پاس ابھی ایک کینوس ہے جو اس کے وجودی کرب کو وسعت اور گہرائی سے پیش کرتا ہے۔

ایک اور افسانہ جس کا عنوان ہی ’’پوٹریٹ‘‘ ہے۔ افسانہ نگار اقبال حسن آزاد کے تصور افسانہ کا پورٹریٹ ہے۔ سیمیائی حوالے سے دیکھا جائے تو پورٹریٹ ایک سیگنیفائر ہے۔ اس افسانویت کا جو کہانی کے ماضی مطلق اور استمراری سے متنی انسکلات رکھتی ہے۔ افشاں ملک کا افسانہ ’’سمندر، جہاز اور میں‘‘ نہ صرف بیانوی اسلوب میں تہہ دار ہے بلکہ علامتی بھی ہے۔ افسانہ ’’نکیل‘‘ فرخ ندیم، صدیوں پرانی جبرواستحصال کی روایت کی تخلیقی شکل ہے۔ علامتی افسانہ میں افسانے کے عنوان سے لے کر اختتام تک پورا متن ایک ایسی لسانی وحدت سے جڑا ہوتا ہے جس میں بیانیہ کے پیش منظر اور پس منظر میں ایک موضوعاتی ربط ہوتا ہے۔ نورالعین کا افسانہ ’’پارکنگ لائٹ‘‘ (Diasporic Context) (اس سے مراد دیار غیر میں نئی ثقافتی اور سماجی ساختوں کا قیام ہے) میں تحریر کیا گیا ہے۔ مختلف نسلوں کے مابین انسانی رشتوں کی تفہیم اس کا بنیادی موضوع، مقامی، معاشی اور معاشرتی تناظر میں لکھا گیا۔ خاقان ساجد کا افسانہ ’’کباڑیا‘‘ انسانی نفسیات کا گہرا ادراک ہے۔ Ambivalentصورت حال میں تضادات کا جنم لینا کرداروں کی شخصیت مسخ ہونے کے مترادف ہے۔ پوسٹ کولو نیل (Post Colonial) نا آسودگیوں، الجھنوں اور ہجرتوں کے مسائل کو عیاں کرنا طلعت زہرا کا افسانہ ’’بازار‘‘ ماضی اور حال میں پرانی اور نئی نسلوں میں نفسیاتی فاصلوں کا المیہ بنتا ہے۔

ایک اور پوسٹ کولو نیل نسائی آواز کا حساس افسانہ ’’بین کرتی آوازیں‘‘ افسانہ نگار نسترن فتیحی کے مشاہدہ اور مطالعہ کا عکس ہے۔ اختر آزاد کا افسانہ ’’شوٹ آؤٹ‘‘ سماج میں تعزیراتی بیانیہ کو فروغ دے کر نظریہ نفسیات میں نقش کیا گیا ہے تاکہ وہ لاشعور کا حصہ بن کر انسانی زندگیوں کو متحرک رکھے یہ افسانہ اسی تناظر کا متن ہے۔ غریب اور امیر کے تصور مامتا کے موضوع پر لکھا گیا افسانہ ’’برف کی عورت، شاہین کاظمی کا ہے جس کو پڑھ کر لفظ خاتون کے لسانی و ثقافتی تعبیر سمجھ میں آ جاتے ہیں۔ شاید جمیل احمد کا المناک بیانیہ پر مشتمل افسانہ ’’ایک رات کی خاطر‘‘ ایک محروم طبقے کے انسان کی روداد ہے۔ ڈاکٹر کوثر جمال کے افسانے ’’گٹر سوسائٹی‘ میں سماجی و ثقافتی نفسیات کی تعبیر ملتی ہے۔ ارشد علی کا افسانہ ’’واپسی‘‘ سماج کے تضادات کا دل خراش بیانیہ ہے۔ ’’پلیٹ فارم‘‘ لیاقت علی کا افسانہ ہے جو قاری کو ایسے کردار سے ملواتا ہے جو اپنی ذات میں پلیٹ فارم تھا افسانے کے عنوان ہی سے کردار کی وسعت اور حیثیت کا ادراک ملتا ہے۔ نسائی بیانیوں کی کھوج سے بہت سے افسانہ نگار زندگی کی زیریں سطح سے نفسیاتی اور جنسی حقائق برآمد کرتے رہے ہیں قمر سبزواری کا افسانہ ’’رکھوالی‘‘ بھی اسی سمت میں ایک سفر ہے۔ ’’پھانسی‘‘ افسانے میں قرب عباس نے طاقت کے کلامیہ کو عیاں کرتے قاری کو اس کا موازنہ ایک عام آدمی کی فہم سے کرنے کا موقع دیا ہے۔ قمر سبزواری کا ایک اور افسانہ ’’حرافہ‘‘ خبط اور ضبط کے درمیاں ایک سفر کی کہانی ہے۔ یوسف عزیز نے اپنے افسانے ’’دسترخواں‘‘ سالم روٹی اور کہانی‘‘ میں علامت اور جدید اسلوب سے کرداروں کے وجودی کرب کو بیان کیا ہے۔ محبت، نفرت، ظلم، استحصال، عداوت، جبر و استبداد، بربریت، دکھ سکھ یہ محض الفاظ ہی کسی خاص زبان و مکان کی کہانیاں ہیں۔

ماہ جبیں صدیقی کا افسانہ ’’نائلون میں لپٹی لاش‘‘ بھی ایک ایسی ہی کہانی ہے۔ جس میں عورت اور ثقافت ایک دوسرے کو ادھورا اور مکمل کرتے محسوس ہوتے ہیں۔ ہزاروں مثالیں اخبارات، الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا کے توسط سے سرمایہ دارانہ چالوں کو عیاں کر رہی ہیں یہ ادراک ہمیں سلمیٰ جیلانی کے افسانے ’’چاند کو چھونے کی خواہش‘‘ سے ملتا ہے۔

اردو افسانہ کا نیا منظرنامہ کچھ زیادہ حوصلہ افزا نہیں اس بات کا اظہار مشرف عالم ذوقی ان الفاظ میں کرتے ہیں۔

"اردو فکشن کا نیا منظر نامہ تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے۔ ناول لکھے تو جا رہے ہیں لیکن انتہائی غیر معیاری، جن پر گفتگو کرنا تضیع اوقات کے سوا کچھ نہیں۔ لیکن امید کا رشتہ ابھی ٹوٹا نہیں ہے۔” (۱۰)

قصہ مختصر کہ اکیسویں صدی میں اردو افسانوی ادب نے اپنے اندر وہ تمام موضوعات سمو لئے ہیں جن کا تعلق بالواسطہ یا بلاواسطہ انسان اور انسانی زندگی سے ہے۔ اردو افسانوی ادب نے خود کو روایتی بندھنوں سے آزاد کر کے ایک نئی زندگی کو جیون دھان دیا ہے۔ بلاشبہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ آج کا اردو افسانوی ادب کسی طرح بھی عالمی ادب سے کم نہیں۔

حواشی

۱۔ شمس الرحمن فاروقی، ہم عصر اردو افسانہ کے فکری سروکار، اردو ریسرچ جرنل ( سہ ماہی مجلہ) شمارہ ۵، نئی دہلی، اپریل۔ جون ۲۰۱۵ء، ص: ۲۰

۲۔ پروفیسر گوپی چند نارنگ، ہم عصر اردو افسانہ کے فکری سروکار، اردو ریسرچ جرنل ( سہ ماہی مجلہ) شمارہ ۵، نئی دہلی، اپریل۔ جون ۲۰۱۵ء، ص: ۲۰)

۳۔ (محمد سلیم الرحمن، پر زور زمانے پر شور فسانے، ہم شہری آن لائن (ہفت روزہ مجلہ) ، شمارہ نمبر ۵، اپریل۔ جون ۲۰۱۶، ص

۴۔ اقبال خورشی، مستنصڑ حسین تارڑ سے خصوصی مکالمہ، اجراء کراچی (سہ ماہی ادبی رسالہ) شمارہ نمبر ۱، جنوری تا مارچ ۲۰۱۰ء

۵۔ ریاض شاہد، تبصرہ از، خس و خاشاک زمانے، جریدہ، ۲۲ اگست ۲۰۱۲ء،

/خس-و-خاشاک-زمانے www.riazshahid.com/201208/

۶۔ اقبال خورشید، اے غزالِ شب: زوال سے جنم لینے والا ادبی شہ پارہ، تبصرہ از، اے غزال شب، ورڈپریس، ۲۰ نومبر ۲۰۱۴ء

۷۔ محمد احمد شاہ، سیمنٹ انجینیئرسے مستنصر حسین تارڑ تک، انٹرویو از، مسنتنصر حسین تارڑ، بی بی سی اردو، ۲ مئی ۲۰۱۳ء، www.bbc.com/urdu/entrainment/2013/05/13050/_ilf_session_rh

۸۔ عارف وقار، غلام باغ۔ ایک بار پھر، اردو محفل، ۲۴ مئی ۲۰۰۸ء، http: //www.bbc.co.uk/urdu/entertainment/story/2008/05/080524_ghulam_bagh_as.shtml

۹۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیر، پتھر کی عورت۔ ایک تجزیہ، مشمولہ، پتھر کی عورت (افسانے) ، شاہد رضوان، چیچہ وطنی، دانیال پبلشرز، ۲۰۱۰ء، ص ۱۵

۱۰۔ مشرف عالم ذوقی، جدید اردو افسانے، نیشنل بک ٹرسٹ، انڈیا، ۲۰۰۸، ص xiv

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے