بیسویں صدی کی اردو غزل گو شاعرات کا تنقیدی تعارف۔۔۔ توصیف بریلوی

 

اردو غزل نے جب سے آنکھیں کھولی ہیں تب سے آج Internetکے زمانہ تک وہ ہر دلعزیز صنف سخن بنی ہوئی ہے۔ بادشاہوں اور عوام کے درمیان پرورش پانے کے بعد آج Globalization کے دور میں بھی پوری تابناکی سے دلوں کو مسحور اور ضمیروں کو جھنجھوڑ رہی ہے۔ کسی بھی صنف کی مقبولیت کی اس سے بڑی مثال کیا ہو گی کہ وہ مسلسل کئی صدیوں سے ہر عام و خاص کے دلوں پر راج کرے۔ یہ وہ صنف ہے جس سے اردو زبان کا حسن کل بھی تھا اور آج بھی ہے۔

۱۸۵۷ء کی اس خونریزی کے بعد شعراء نے غزل گوئی کی طرف توجہ دینا کم کر دیا، جس کی وجہ وہی تھی جو حالی اور محمد حسین آزاد بتا رہے تھے۔ ان کے نزدیک یہی صحیح تھا کہ قوم کی فلاح و بہبود کا کام اگر شاعری سے لینا ہے تو نظم کا سہارا لینا ہو گا کیونکہ نظم ہمارے مصائب اور اغراض کو ظاہر کرنے کا آسان طریقہ ہے۔ نظم میں نہ تو قوافی کے لیے عرق ریزی کرنی ہوتی ہے اور نہ ہی محبوب کے عشوہ و نخرہ کو مضمون میں باندھنے کے لیے ذہنی ورزش۔ نظم کے اندر وسعت ہے اور غزل میں اختصار سے کام لیا جاتا ہے۔ نظم کو ایک ایسا آلہ مان لیا گیا تھا کہ جس کے ذریعہ سے عوام کے مسائل کو بیان کیا جا سکے۔ اسی وقت سے غزل پر اعتراض ہونے شروع ہوئے جو بیسویں صدی کے اواخر تک جاری رہے۔ وہ دور غزل کے لیے انحطاطی دور کہا جاتا ہے لیکن بیسویں صدی کے ابتدائی عشرے میں کچھ ایسے شاعر سامنے آئے جنھوں نے اردو غزل میں نئی روح پھونک کر اس کو جلا بخشی۔ ان شاعروں میں حسرتؔ، جگرؔ، اصغرؔ اور فانیؔ کا نام خاص طور پر لیا جاتا ہے۔ یہ غزل کا ہی خاصہ تھا کہ اس مشکل دور میں بھی خود کو منوا لیا اور سخت جانی کا ثبوت دیا۔ بیسویں صدی کے آتے آتے اردو غزل بحال ہونے لگی۔ یہ سچ ہے کہ بیسویں صدی کی شروعات میں ہی اردو شاعری میں باقاعدہ طور پر نظم کے شعراء بھی ابھرنے لگے جو انگریزی اور فرانسیسی نظموں کے Pattern پر اردو میں نظمیں کہہ رہے تھے، لیکن غزل کی حیثیت برقرار رہی۔ غزل میں بھی خود اعتمادی پیدا ہوئی اور اس نے بھی محبوب کے حصار سے نکل کر دنیا سے آنکھ ملانا شروع کیا اور دھیرے دھیرے ایک عام مزدور سے لے کر ملک کے بڑے بڑے مسائل بھی اس میں پیش کیے جانے لگے۔ حالانکہ غزل میں وسعت تو پہلے ہی تھی لیکن اس کا احساس ایک زمانہ بعد ہو سکا۔ غزل میں فکر کا عنصر داخل کرنے والے شاعروں میں غالب کا نام سرفہرست ہے۔ انھوں نے غزل میں ایسے ایسے مضامین باندھے جن کی طرف لوگوں کی توجہ ان سے پہلے نہیں گئی تھی۔ مثال کے طور پر غالب کا ایک شعر ملاحظہ فرمائیں:

اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا

جام جم سے میرا جام سفال اچھا ہے

کتنا صاف اور سادہ شعر ہے جو اپنے اندر کس قدر وسعت رکھتا ہے۔ یہاں پر ہم اس شعر کی تشریح تو نہیں کر سکتے صرف اتنا کہنا چاہیں گے اس وقت کے لحاظ سے کتنا انوکھا اور خیالات میں برقی رو دوڑانے والا شعر ہے۔

اردو غزل کی پہلی شاعرہ کون تھی؟ اس بات کا پتہ لگانا مشکل ہے ہاں اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اٹھارہویں صدی میں کچھ شاعرات معروف ہونے لگی تھیں۔ اکثر محققین نے شاعرہ ’چندا ساکن‘ کو اردو کی پہلی صاحب دیوان شاعرہ بتایا ہے جو دکن سے تعلق رکھتی تھیں۔ کچھ محققوں نے ان سے بھی پہلے بادشاہ جہاں گیر کی بیگم نور جہاں کو پہلی غزل گو شاعرہ بتایا ہے۔ اور کچھ دانشوروں نے بادشاہ اورنگ زیب کی بیٹی زیب النسا اور میر تقی میر کی بیٹی بیگم کی طرف بھی کچھ اشعار منسوب کیے ہیں۔ انیسویں صدی میں تو ہندوستان کے کئی خطوں سے شاعرات کا کلام ملنے لگا۔ لیکن ان شاعرات کا اس وقت تذکروں اور تنقیدی کتب میں ذکر نہیں ملتا اور اگر ملتا بھی ہے تو بہت مختصر سا۔ سب سے پہلے مصطفی خاں شیفتہ نے اپنے تذکرہ ’گلشن بے خار‘ میں چند شاعرات کا ذکر کیا ہے۔ ’طبقات شعرائے ہند‘ میں شیخ کریم الدین نے ۳۹ شاعرات کا مختصرا تعارف کرایا۔ اس کے علاوہ بھی کچھ کتابوں میں شاعرات کا ذکر برائے نام ہی ملتا ہے۔ ان کے لیے نہ تو مشاعروں کے مواقع تھے اور نہ ہی اصلاح یا حوصلہ افزائی کے کیونکہ اس دور میں عورتوں کا شاعری کرنا ایک نازیبا حرکت مانی جاتی تھی۔ لیکن دھیرے دھیرے یہ برف پگھلی اور خواتین کھل کر شاعری میں حصہ لینے لگیں۔ بیگم حضرت محل، صفیہ سلیم ملیح آبادی، عزیز جہاں ادا بدایونی، کنیز فاطمہ حیا لکھنوی، آمنہ خاتون عفت، رابعہ خاتون پنہاں ؔ بریلوی، بلقیس جمال بریلوی، میمونہ خاتون، غزالہ بریلوی، شاہزادی تیمور جہاں حجاب دہلوی، گوہر اقبال حور میرٹھی، خورشید اقبال حیا میرٹھی، سیدہ سردار اختر، اختر حیدرآبادی، بشیرالنساء بیگم بشیر، ساجدہ بنت دانش شاہجہانپوری، ناز بلگرامی، وفا ٹونکی، ج۔ بیگم اختر وغیرہ وغیرہ یہ وہ شاعرات ہیں جو انیسویں صدی کے اواخر یا بیسویں صدی کے اوائل میں شاعری شروع کر چکی تھیں اور تقسیم ہند سے پہلے پہلے کافی مشہور ہو چکی تھیں۔

ہم اپنے عنوان کے مطابق بیسویں صدی کی چند معروف شاعرات کا ذکر کریں گے۔ بیسویں صدی میں کچھ ایسی شاعرات گزری ہیں، جنھوں نے اردو غزل کو مستحکم بنانے میں اہم رول ادا کیا۔ ان شاعرات کی وجہ سے اردو غزل کو نئی وسعتوں سے ہم کنار ہونے کے مواقع ملے۔ ان کی کار گزاریوں کو اردو ادب کبھی فراموش نہیں کر سکے گا۔

پنہاں ؔ بریلوی کا اصل نام رابعہ خاتون تھا جو کہ سہارنپور میں پیدا ہوئیں۔ اصل وطن بریلی تھا۔ والد مولوی عبدالاحد جو ڈی۔ پی۔ آئی آفس الہ آباد میں سپرنٹنڈنٹ تھے، کا ان کی زندگی پر گہرا اثر پڑا۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم ہی سے پائی اس لیے فارسی، عربی، اردو کے ساتھ انگریزی پر بھی پکڑ مضبوط ہو گئی۔ پنہاں ؔ نے ابتدا میں فارسی میں کلام کہا لیکن بعد میں اردو کی طرف مائل ہو گئیں۔ اسی طرح پہلے غزلیں کہیں اور بعد میں نظموں اور یہاں تک کہ افسانوں میں بھی طبع آزمائی کی اور اس وقت کے رسائل میں اپنی خاص پہچان بنائی۔ یوں تو انھوں نے مختلف اصناف میں کلام کہا لیکن غزل اور نظم سے انھیں دلی وابستگی تھی۔ نمونۂ کلام ملاحظہ فرمائیں:

عزیز خاطر ہے باغباں کی قفس کے خوگر بھی ہو گئے ہیں

ہم اپنے ہاتھوں سے فصل گل میں نشیمن اپنا لٹا رہے ہیں

٭٭٭

نیاز و ناز نا مقبول دونوں

نہ سمجھی میں کہ ہے تیری رضا کیا

جفا و ناز کی خوگر ہوں پنہاں

خدا معلوم ہے رسم وفا کیا ۱؎

پنہاں ؔ اردو کی ایک عمدہ شاعرہ ہیں۔ مذکورہ بالا اشعار میں تانیثی لہجے کا پتہ ضرور چلتا ہے۔ خاص طور سے تیسرے شعر میں ’نہ سمجھی میں‘ سے غزل کہنے والی شاعرہ کی جنس کا اظہار ہو جاتا ہے۔ اشعار گہرے تو نہیں ہیں البتہ غزل کی شعریات سے خوشہ چینی خوب خوب نظر آتی ہے۔ ان کے یہاں رنگینی بھی سلیقے سے پیش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کلام میں ایک طمطراق اور سنجیدگی بھی ملتی ہے۔ اردو کے علاوہ ان کا فارسی کلام بھی عمدہ ہے۔ غزلوں کے ساتھ نظموں میں بھی وہ کامیاب نظر آتی ہیں۔ ان کی غزلوں میں نسوانی جذبات کی عکاسی بھی خوشگوار انداز میں ملتی ہے۔ بیسویں صدی کی شروعات میں جن کامیاب شاعرات کا شمار کیا جائے گا ان میں پنہاں بریلوی کو فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔

 

ادا جعفری بیسویں صدی کے نصف میں ایک چمکتا ہوا ستارہ بن کر آسمان ادب پر نمایاں ہوئیں۔ ان کے ذکر کے بغیر یہ مضمون ہی ادھورا رہ جائے گا۔ ادا جعفری تولد تو بدایوں (ہندوستان) میں ہوئیں لیکن ہوا کے نامعقول جھونکے اڑا کر ان کو پاکستان لے گئے۔ اس لیے ان کی شاعری میں تانیثی جذبات، خوشی و غم کے ساتھ ساتھ ہجرت کا کرب بھی صاف نظر آتا ہے۔ تقسیم ہند اور مصائب زندگی کے جو اثرات ان کی ذات پر مرتب ہوئے اس کا اظہار انھوں نے کچھ یوں کیا:

گلوں سی گفتگو کریں قیامتوں کے درمیاں

ہم ایسے لوگ اب ملیں حکایتوں کے درمیاں

صحیفۂ حیات میں جہاں جہاں لکھی گئی

لکھی گئی حدیث جاں جراحتوں کے درمیاں ۲؎

اس کے علاوہ ان کے کلام میں مترنم لب و لہجہ ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔ ان کے لہجے نے ان کی غزلوں میں مزید خوبصورتی پیدا کر دی۔ اداؔ کی غزلوں میں فلسفۂ اقبال، فانی اور جگر کا اسلوب بیان کا اثر بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔ ترنم کے ذیل میں دو اشعار ملاحظہ فرمائیں۔

ڈھلکے ڈھلکے آنسو ڈھلکے

چھلکے چھلکے ساغر چھلکے

دل کے تقاضے ان کے اشارے

بوجھل بوجھل ہلکے ہلکے ۳؎

اردو غزل زمانے کے نشیب و فراز سے دوچار ہو کر بہت تیزی سے بدل رہی تھی، ایسے دور میں شاعروں کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہو کر ادا نے نہ صرف شاعرات کی نمائندگی کی بلکہ مرد اساس ادبی معاشرے میں اپنا وجود بھی تسلیم کرا لیا۔ اس طرح انھوں نے اردو غزل کی سمت و رفتار میں اپنے خیالات و جذبات کا تعاون کیا جو بے حد مفید ثابت ہوا۔

ادا جعفری جتنی غزل کی شاعرہ ہیں اتنی ہی نظم کی بھی۔ ان کے یہاں کرب ہے تو شگفتگی بھی، ادا بندی ہے تو نسائی مسائل بھی۔ نسائی مسائل سے متعلق ڈاکٹر مشتاق احمد وانی کچھ اس طرح لکھتے ہیں:

’’ادا جعفری جدید اردو کی وہ پہلی خاتون ہیں جنھوں نے خالص عورتوں کے جذبات و احساسات کی عکاسی کی ہے۔ یہ جذبات و احساسات خواتین میں قدر مشترک کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ‘‘ ۴؎

اداؔ کے لفظوں میں گھلاوٹ اور کلام میں بلا کی سادگی ہے۔ انھوں نے کبھی شاعری کے ذریعہ تقریر کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی کسی Narrator کی طرح خود کو غزلوں میں سمویا۔ ان کے یہاں تو الفاظ بہت ہی فطری معلوم ہوتے ہیں۔ انھوں نے اشاروں کنایوں سے کام لیا، سیدھے کسی بات کو ظاہر کرنے سے گریز کیا۔ ان کے متعلق ایک مضمون میں ممتاز مفتی کچھ اس طرح اظہار خیال کرتے ہیں:

’’میں اکثر سوچا کرتا ہوں یہ ادا جعفری کون ہے۔ شعروں میں اتنے کومل سُر کیسے لگاتی ہے۔ کومل ہی کومل۔ مدھم ہی مدھم۔ تیور کا نام نہیں۔ ہلکے پھلکے برائے نام الفاظ۔ اشارے ہی اشارے۔ الفاظ نہیں اشاروں سے بات کرتی ہے۔ پھر اتنی شگفتگی اتنی سادگی اتنی معصومیت۔ ایسے لگتا ہے جیسے سارنگی کی طرح تاروں سے بنی ہو۔ جب ہی جگہ جگہ مینڈھ لگاتی ہے۔ پلا مار کر دیا بجھاتی ہے۔ زیر لبی میں بات کرتی ہے۔ ‘‘ ۵؎

ادا جعفری کی شاعری سے اردو ادب میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا اور خاص بات یہ کہ آنے والی شاعرات کے لیے زمین ہموار ہوئی۔

 

اردو غزل کو مستحکم بنانے میں پروین شاکر کا اہم رول رہا ہے۔ محبوب کو ٹوٹ کر چاہنے والا جذبہ ان کی غزلوں میں جا بجا مل جاتا ہے۔ ان کی غزلوں کا محور ان کا محبوب ہی رہا ہے۔ انھوں نے اپنے پہلے شعری مجموعہ ’’خوشبو‘‘ میں نوعمر لڑکیوں کے جذبات کی عکاسی کی ہے۔ ان کی شاعری کا بغور مطالعہ کرنے پر سوز و گداز بھی مل جاتا ہے لیکن وہ بھی بہت دھیما۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنے رنج و غم کو ظاہر ہی نہیں کرنا چاہتی ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ ٹھیک لگتا ہے کہ ان کے کلام میں ایک کسک پائی جاتی ہے، جو قاری کے تجسس کو بڑھاتے ہوئے ان کی غزلوں کی طرف مائل کر دیتی ہے۔ پروین شاکر کی غزلوں میں فطرت کی شمولیت بالکل فطری لگتی ہے اور ایک ایسی فضا Create ہو جاتی ہے، جس میں خوش گوار لمحے، فکر، غم و اندوہ سب ایک ہی مرکب میں ڈوبے نظر آتے ہیں۔ انھوں نے اپنی شاعری میں اس معاشرے کو لتاڑنے کی کوشش بھی کی جو ابھی بھی عورتوں پر مظالم ڈھانے سے باز نہیں آ رہا تھا لیکن ان کا انداز مدھم رہا اور اس کے پیچھے وجہ وہی تھی کہ جہاں سچ بولنا محال ہو جائے تو سچ اشاروں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ وہ خود اپنے دوسرے شعری مجموعہ کے پیش لفظ میں لکھتی ہیں:

’’لیکن جس معاشرے میں قدروں کے نمبر منسوخ ہو چکے ہوں اور درہم خود داری، دینارِ عزتِ نفس کو کوڑیوں کے بھی مول نہ نکلیں، وہاں نیکی کی نصرت کو کون آئے ؟وہاں تک تو سماعتیں، بہری اور بصارتیں اندھی ہو جاتی ہیں …… اور میرا گناہ یہ ہے کہ میں ایک ایسے قبیلے میں پیدا ہوئی جہاں سوچ رکھنا جرائم میں شامل ہے۔ مگر قبیلے والوں سے بھول یہ ہوئی کہ انھوں نے مجھے پیدا ہوتے ہی زمین میں نہیں گاڑا (اور اب مجھے دیوار میں چن دینا ان کے لیے اخلاقی طور پر اتنا آسان نہیں رہا!) مگر وہ اپنی بھول سے بے خبر نہیں، سو اب میں ہوں اور ہونے کی مجبوری کا یہ اندھا کنواں جس کے گرد گھومتے گھومتے میرے پاؤں پتھر کے ہو گئے ہیں اور آنکھیں پانی کی —– کیونکہ میں نے اور لڑکیوں کی طرح کھوپے پہننے سے انکار کر دیا تھا! اور انکار کرنے والوں کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوا!۔ ‘‘ ۶؎

صرف ۳۴ برس کی عمر میں پروین شاکر نے اردو ادب کو پانچ شعری مجموعے دئیے۔ اگر ان کو کچھ عمر اور ملی ہوتی تو وہ یقیناً غزل کو نئی بلندیوں پر پہنچاتیں۔ پروین شاکر کے کلام سے تانیثیت کا رجحان مستحکم ہوا اور اس طرف شاعرات کے علاوہ شاعروں نے بھی دلچسپی لینی شروع کی۔ یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ادا جعفری نے اپنی غزلوں میں جو Feminism کے متعلق بات کرنا شروع کی تھی، اسی کو پروین شاکر نے مزید تقویت دی۔ ان کی غزلوں کا رنگ و آہنگ اور چاشنی میں ڈوبے ہوئے شکوے اور فطری ردیفوں سے بلا کی غنائیت پیدا ہو جاتی ہے۔ انھوں نے عورت کی مظلومی کو بڑی خوبصورتی سے بیان کیا۔ ان کے اسلوب بیان نے اردو ادب کے بڑے حلقے کو متاثر کیا۔ ڈاکٹر ناظم جعفری پروین شاکر کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’پارہ‘ جو پروین شاکر بننے کے بعد ہی کسی تعارف کی محتاج نہیں رہی تھی، اب ایک ایسی مستحکم اور بلند دیوار بن چکی ہے، جس کے سہارے آج کے ادیب اور شاعر اپنی صلاحیتوں کی بیل چڑھا کر خود کو روشناس کرانے میں مصروف ہیں۔ اس کی فکر، اس کا اسلوب، اس کا انداز سبھی کچھ آج کے شعراء کے یہاں بکثرت نظر آتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کس نے کس حد تک کامیابی حاصل کی ہے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ اپنے اندر سے پروین شاکر نے ایک بہت بڑے ادبی حلقے کو متاثر کیا ہے اور اپنا ایک الگ مقام بنا لیا ہے۔ پروین شاکر کے متعلق بہت سے مضامین پڑھنے کو ملے مگر کسی نے اس کی فکر اور اسلوب پر نظر نہیں ڈالی۔ شعر کہنا الگ بات ہے۔ پروین شاکر شاعرہ تھی اور اپنے جذبات اور فکری عنصر کو بخوبی اجاگر کرنا جانتی تھی۔ میرا یقین ہے کہ ایک اچھا شاعر کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔ اپنے حالات اور ماحول کے پس منظر میں جب وہ اپنے جذبات و محسوسات کو الفاظ عطا کرتا ہے شعر وجود میں آتا ہے۔ ‘‘ ۷؎

پروین شاکر کی غزلوں میں انتہاپسندی نہیں ملتی بلکہ وہ تو اپنی تنہائی کو غزلوں میں پیش کرتی ہیں۔ ان کی غزلوں سے چند متفرق اشعار ملاحظہ فرمائیں:

کانپ اٹھتی ہوں میں یہ سوچ کے تنہائی میں

مرے چہرے پہ ترا نام نہ پڑھ لے کوئی

٭٭٭

وہ تو خوشبو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا

مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا

٭٭٭

ایک لمحے کی توجہ نہیں حاصل اس کی

اور یہ دل کہ اسے حد سے سوا چاہتا ہے

٭٭٭

ہم خود بھی جدائی کا سبب تھے

اس کا ہی قصور سارا کب تھا

مذکورہ بالا اشعار کے پہلے شعر میں عورت کی تہہ داری کا مضمون قلمبند کیا ہے۔ دوسرے شعر میں مرد کو خوشبو کہنا اور عورت کو پھول کہنا نادر اور سماجی سیاق رکھنے والا عمدہ استعارہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ یہ استعاراتی اسلوب اس عہد کا نیا سیاق رکھتا ہے۔ تیسرے شعر کا مضمون عامیانہ ہے ایسا شعر مرد بھی کہہ سکتا ہے۔ البتہ آخری شعر قابل توجہ ہے وہ یوں کہ غزل میں اکثر عاشق جدائی کا سارا دوش محبوب پر ڈال دیتا ہے لیکن یہاں بڑی سادگی سے اس مضمون کو الٹ کر پیش کیا گیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ عورت میں برداشت کا مادہ زیادہ ہوتا ہے لیکن اتنا بھی نہیں کہ وہ اپنے شوہر کی دوسری بیوی کو بھی برداشت کر لے۔ لیکن پروین شاکر نے اس ضمن میں بھی حوصلگی سے کام لیا اور اپنے شوہر کی دوسری شادی پر یہ اشعار کہے:

کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی

میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی

٭٭٭

سپرد کر کے اسے چاندنی کی بانہوں میں

میں اپنے گھر کے اندھیروں کو لوٹ آؤں گی ۸؎

 

مندرجہ بالا اشعار سے نہ صرف صبر کا مظاہرہ ہوتا ہے بلکہ اس کو ایک قسم کی دلیری بھی کہا جا سکتا ہے کیونکہ کسی بھی عورت کے لیے سوتن کا تصور بہت ہی خوفناک ہو سکتا ہے لیکن پروین شاکر نے اس مضمون کو باندھ کر اپنی دلیرانہ صلاحیت کا اظہار کیا ہے۔ پروین کی غزلوں کی یہ عورت جو اپنی سوتن کو از خود دلہن بناتی نظر آتی ہے اس کی وجہ کچھ اور نہیں بلکہ وہ تانیثی شعور ہے جہاں عورت مرد کے بغیر بھی زندہ رہنے کا وسیلہ ڈھونڈ سکتی ہے۔ ان کا آخری شعری مجموعہ ’کف آئینہ‘ کی غزلیں اور نظمیں پر جوش انداز میں کہی گئی ہیں۔

دور جدید میں بہت سی شاعرات ابھر کر سامنے آئیں ان میں سب سے الگ آواز کشور ناہید کی ہے۔ انھوں نے نہ صرف نسائی مسائل کو شاعری میں پرویا بلکہ خواتین کے لیے تحریکیں بھی چلائیں۔ وہ عورت کے نفسیاتی اور جذباتی کیفیت کو عام کرنے کی خواہاں نظر آتی ہیں۔ اسی وجہ سے ان کی شاعری کبھی کبھی زمانہ کے خلاف ایک للکار لگتی ہے:

ضبط اتنا بھی نہ کراحساس مرجھا جائے گا

سرخ گالوں کا چمکتا رنگ زردا جائے گا

عورت کی عزت و آبرو کا انہیں بہت پاس و لحاظ ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی غزلیں اور نظمیں دونوں ہی نسائی مسائل سے بھرپور ہیں۔ ان کا نسائی شعور حد درجہ بیدار نظر آتا ہے اور وہ ایک Feminist کی حیثیت سے ہمارے سامنے آتی ہیں۔ پروفیسر حامدی کاشمیری نے کشور ناہید کے متعلق لکھا ہے:

’’کشور ناہید ایک ارفع ذہنی سطح پر زندگی کے تضادوں، بوالعجبیوں اور پیچیدگیوں کا تصور رکھتی ہیں۔ وہ موجودہ میکانکی اور زبردست معاشرے میں انسانی اقدار کی بے حرمتی کو شدت سے محسوس کرتی ہیں۔ ان کی عصری آگہی میں اتنی شدت اور وسعت پیدا ہوتی ہے کہ وہ جنسی اصل کو بھول کر وسیع تناظر میں انسان کے درد و کرب سے آشنا ہوتی ہیں وہ محسوس کرتی ہیں کہ انسانی زندگی میں خیرو شر کی متضاد قوتیں حقیقت کے ادراک میں گہرائی پیدا کرتی ہیں۔ یہ تضاد انہیں انسان اور فطرت میں بھی نظر آتا ہے اور مرد اور عورت کے رشتوں میں محبت اور نفرت یا قرب اور دوری میں اس کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔ ‘‘۹؎

کشور ناہید کی شاعری میں مساویت کا تصور ہے۔ وہ کبھی شوہر کو حاکم اور بیوی کو محکوم ماننے کو تیار نہیں ہوتیں، ان کے نزدیک دونوں کو ایک دوسرے کا خیرخواہ اور دوست ہونا چاہیے۔ آزادی کے بعد کی شاعرات میں Feminine Concept کو ایک للکار کے ساتھ پیش کرنے والی غالباً وہ پہلی شاعرہ کہی جا سکتی ہیں۔ ان کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:

یہ سر شام آفتاب اداس

کوئی لڑکی کہیں اکیلی ہے

پہچان اپنی ہو تو ملے منزل مراد

ناہید گاہے گاہے سہی، آئینہ تو دیکھ

زیر نظر مضمون سے جو نتائج برآمد ہوتے ہیں ان کی مدد سے یہ کہنا آسان ہو گا کہ بیسویں صدی کی شروعات میں غزل گو شاعرات نے ایک مدھم آواز کے ساتھ شروعات کی تھی وہی آواز وقت کے ساتھ ساتھ مزید بلند ہوتی گئی۔ اس بلند آواز نے اردو غزل کو نہ صرف متفرق موضوعات دئیے بلکہ اردو غزل کو مستحکم بنا کر وقت کے ساتھ چلنا سکھایا۔ بیسویں صدی میں شاعروں کے کلام میں محبوب کے حسن کے علاوہ دیگر موضوعات پر زیادہ توجہ نہیں ملتی۔ ہمارے شاعروں نے خواتین کے مسائل کو پیش کرنے کی زحمت ہی نہ کی یا ہو سکتا ہے کہ غزل میں ان مضامین کو باندھنا کسرشان جانا۔ ہاں تقسیم ہند کے وقت ضرور انقلابی یا درد و رنج میں ڈوبی ہوئی غزلیں مل جاتی ہیں۔

ترقی پسند، جدیدیت، مابعد جدیدیت اور تانیثیت جیسے کئی مختلف ادوار سے اردو غزل دوچار ہوتی رہی اور شاعرات نے ہر دور میں اپنی صلاحیت اور ہنر مندی کا مظاہرہ کیا۔ صبر، مظلومیت، انسان دوستی، سماجیات، اخلاقیات، فکروفلسفہ جیسے ہر طرح کے موضوعات غزلوں میں پیش کیے اور اردو غزل کا دامن وسیع کیا۔ اپنے اندرونی کرب، خوشی، دلی کیفیت، احساسات اور جذبات کو بڑی ہی خوش اسلوبی سے پیش کیا۔ یہ صرف ان کا ہنر ہی نہیں بلکہ دلیری اور عظمت کی نشانی ہے، جسے مرد اساس ماحول میں ظاہر کرنا آسان نہیں تھا۔

 

پنہاں ؔ بریلوی، غزالہؔ بریلوی، اداؔ جعفری، پروین شاکر، کشور ناہید کے علاوہ فہمیدہ ریاض، سارہ شگفتہ، زاہدہ زیدی، شاہدہ حسن، ساجدہ زیدی، ترنم ریاض اور سلمیٰ شاہین وغیرہ وغیرہ نے اپنے اپنے اعتبار سے غزل کے میدان میں کارہائے نمایاں انجام دیے اور ابھی بھی اردو دنیا کی مزید توقعات ان شاعرات سے وابستہ ہیں۔

 

حواشی:

(۱)تذکرۂ شاعرات اردو، مولف: محمد جمیل احمد ایم اے بریلوی، ناشر: قومی کتب خانہ بریلی، طبع اول ۱۹۴۴ء، ص-۲۸۸، ۲۸۹، ۲۹۰

(۲) ساز سخن بہانہ ہے، ادا جعفری، مقبول اکیڈمی لاہور ۱۹۸۸ء، ص-۲۵-۲۶

(۳)ادا جعفری فن و شخصیت، مرتبہ: ڈاکٹر فرمان فتح پوری /امراؤ طارق، ناشر: حلقہ نیاز و نگار کراچی ۱۹۹۸ء، ص-۲۲

(۴)اردو ادب میں تانیثیت، ڈاکٹر مشتاق احمد وانی، ناشر: ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی، ۲۰۱۳ء، ص-۲۶۳

(۵)ادا جعفری فن و شخصیت، مرتبہ: ڈاکٹر فرمان فتح پوری /امراؤ طارق، ناشر: حلقہ نیاز و نگار کراچی ۱۹۹۸ء، ص-۳۷

(۶)ماہ تمام (کلیات) پروین شاکر، ناشر: فرید بک ڈپو پرائیوٹ لمیٹیڈ دہلی ۲۰۱۲ء، ص-۱۳

(۷) اردو ادب میں تانیثیت، ڈاکٹر مشتاق احمد وانی، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی ۲۰۱۳ء، ص-۲۷۲-۲۷۳( بحوالہ: پروین شاکر (مشمولہ) ماہنامہ آج کل (اردو پبلی کیشنز ڈویژن، پٹیالہ ہاؤس، نئی دہلی ۱۹۹۶ء) شمارہ: ۲، ص-۹)

(۸) ماہ تمام (خوشبو)، پروین شاکر، ناشر: فرید بک ڈپو پرائیوٹ لمیٹیڈ دہلی ۲۰۱۲ء، ص-۲۱۲

(۹) اردو ادب میں تانیثیت، ڈاکٹر مشتاق احمد وانی، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی ۲۰۱۳ء، ص-۲۶۶-۲۶۷(بحوالہ: تجربہ اور معنی، ص-۱۹۹)

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے